🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. بَابُ النَّهْي عَنْهُ وَكَرَاهِيَهِ
عزل کا بیان اور اس کے بارے میں منقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7077
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْعَزْلِ عَنِ الْحُرَّةِ إِلَّا بِإِذْنِهَا
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزاد عورت سے عزل کرنے سے منع فرمایا، الایہ کہ وہ اجازت دے دے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7077]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن لھيعة سييء الحفظ، أخرجه ابن ماجه: 1928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 212»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7078
عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ هُوَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ
۔ سیدنا جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا، جو کہ پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غزل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7078]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27576»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی نے جس نطفے کو بچے کی تخلیق کے لیے تیار کیا، اس مقصد کے پورا نہ ہونے کی کوشش کرنا اور نطفے کو ضائع کر دینا، گویامخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ یہ حدیث جواز والی احادیث کے مقابلے میں عزل کی ممانعت پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ اعلانیہ طور پر بچوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے، اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ مذکورہ بالا خفیہ طریقے سے بھی ایسا کرنا ممنوع ہے، جبکہ اگلے باب میںجواز کے دلائل موجود ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7079
عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ الشَّامِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صِرْمَةَ الْمَازِنِيَّ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ أَصَبْنَا سَبَايَا فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَصَابَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ مِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَّخِذَ أَهْلًا وَمِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَمْتِعَ وَيَبِيعَ فَتَرَاجَعْنَا فِي الْعَزْلِ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْزِلُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو صرمہ مازنی اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے غزوہ نبی مصطلق میں قیدی حاصل کیے،یہ وہی غزوہ ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کو حاصل کیا تھا، ہم میں سے بعض افراداہل (بیوی) بنانا چاہتے تھے اور بعض کا ارادہ تھا کہ وہ لونڈیوں سے ہم بستری کر کے ان کو فروخت کر دیں، اس لیے ہم نے غزل کے بارے میں تکرار کیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عزل نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے قیامت تک جو کچھ پیدا کرنا ہے، اس نے اس کا اندازہ کر لیا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7079]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح،أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 9089، والبيھقي: 10/ 347، وابن ابي شيبة: 4/ 222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11624»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7080
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَمَا ذَاكُمْ قَالُوا الرَّجُلُ تَكُونُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ فَقَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ فَقَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ لَكَأَنَّ هَذَا زِجْرٌ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہے کیا؟ لوگوں نے کہا: ایک آدمی کی بیوی ہے، وہ بچے کو دودھ پلاتی ہے اس لیے وہ پسند نہیں کرتا کہ وہ حاملہ ہو، اسی طرح ایک آدمی کی لونڈی ہے، وہ اس سے ہم بستری تو کرتا ہے، لیکن اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا، سو وہ عزل کرنا چاہتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، یہ تو تقدیر کا مسئلہ ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا حسن سے بیان کی تو انہوں نے کہا فَلَا عَلَیْکُمْ کا مقصد عزل سے ڈانٹنا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7080]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11094»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7081
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ أَنْتَ تَخْلُقُهُ أَنْتَ تَرْزُقُهُ أَقِرَّهُ قَرَارَهُ فَإِنَّمَا ذَلِكَ الْقَدَرُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عزل کے بارے میں فرمایا: کیا تو اس کو پیدا کرتا ہے؟ کیا تو اس کو رزق دیتا ہے؟ اس کو اس کی جگہ پر ٹھہرنے دے (یعنی عزل نہ کر) کیونکہ ان سب امور کا تعلق قضا وقدرسے ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7081]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من ابي سعيد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11523»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے عزل کے مکروہ ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں