🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7101
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب خاوند موجود ہو تو اس کی بیوی اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر گھر میں کسی کو آنے کی اجازت نہ دے اور عورت اپنے خاوند کی کمائی سے اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خرچ کرے گی، اس کو آدھا اجر ملے گا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7101]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2066، 5192، 5360، ومسلم: 1026، وابوداود!: 1687، 2458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8173»
وضاحت: فوائد: … اس سے مراد نفلی روزہ ہے، لیکن اگر حکم کی غرض و غایت کو دیکھا جائے تو فرضی روزوں کی قضا کا بھییہی حکم ہو گا، یعنی رمضان کے روزوں کی قضا کے بارے میں بھی خاتون کو اپنے خاوند سے مشورہ کر لینا چاہیے۔
اس خرچ سے مراد وہ چیز ہے، جس کا عام طور پر صدقہ دے دیا جاتا ہو، مثلا پانچ دس روپے، لپ بھر آٹا یا گندم اور روٹی سالن وغیرہ، قیمتی چیز کو خاوند کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کیا جا سکتا،نیز گھر کے حالات کو دیکھ کر قیمتی چیز کا اندازہ لگایا
جائے گا اور اگر خاوند وضاحت کے ساتھ معمولی چیز کو صدقہ کرنے سے بھی منع کر دے تو بیوی کو کوئی اختیار نہیںرہے گا۔
نفلی روزہ عظیم عبادت ہے، اس کا بڑا اجر وثواب ہے، لیکن خاوند کے حق کو اس پر مقدم رکھا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7102
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ فَبَاتَ وَهُوَ غَضْبَانُ وَفِي لَفْظٍ وَهُوَ عَلَيْهَا سَاخِطٌ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے اوروہ اس پر غصہ کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے ایسی خاتون پر لعنت کریں گے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7102]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3237، 5193، ومسلم: 1436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10230»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7103
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا بَاتَتْ تَلْعَنُهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اس حال میں رات گزارے کہ اس نے اپنے خاوند کا بستر چھوڑ رکھا ہو تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ اس کے بستر کی طرف لوٹ آئے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7103]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7465»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7104
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ فَقَالَ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ وَلَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَفْعَلَهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ میں تشریف فرما تھے، ایک اونٹ آیا اور آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا،یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم آپ کو سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی یعنی اپنے نبی کی عزت کرو، اگر میں نے کسی انسان کو دوسرے انسان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، خاوند کا بیوی پر اتنا حق ہے کہ اگر وہ حکم دے کہ اس کی بیوی زرد پہاڑ سے سیاہ پہاڑ کی طرف اور سیاہ پہاڑ سے سفید پہاڑ کی طرف پتھروں کو منتقل کرے، تو اس کے شایان شان یہی بات ہو گی کہ وہ ایسا ہی کر گزرے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7104]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان الا قوله ’’وَلَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا‘‘، فانه جيد لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24975»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو یہ حکم دے کہ وہ ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک پتھر یا ایک ٹیلے سے دوسرے ٹیلے تک ریت منتقل کرے تو اس کو ایسے ہی کرنا چاہیے، مراد یہ ہے کہ بیوی کو اپنے خاوند کی حد درجہ اطاعت کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7105
عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا رَجَعَ مِنَ الْيَمَنِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ رِجَالًا بِالْيَمَنِ يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ قَالَ لَوْ كُنْتُ آمُرُ بَشَرًا يَسْجُدُ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں یمن سے واپس آیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یمن میں دیکھا ہے کہ وہاں لوگ ایک دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں، تو کیا ہم بھی آپ کو سجدہ نہ کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے بشر کو بشر کے لئے سجدہ کی اجازت دینا ہوتی تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ خاوند کو سجدہ کرے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7105]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 4/ 305، والطبراني: 20/ 373، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22335»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7106
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرَقِ رَأْسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی بشر کے لئے اجازت نہیں کہ وہ دوسرے بشر کو سجدہ کرے، اگر ایک انسان کا دوسرے انسان کو سجدہ کرنا مناسب ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، کیونکہ اس پر اس کے خاوند کا بہت بڑا حق ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر خاوند کو پاؤں سے لے کر سر کی مانگ تک پھوڑا نکل آئے اور اس سے لہو اور پیپ بہنا شروع ہو جائے اور اس کی بیوی آ کر اس کو چاٹنا شروع کر دے تو پھر بھی وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کر سکے گی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7106]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ’’وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ اِلٰي مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيْدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ‘‘ وھذا الحرف تفرد به حسين المروذي عن خلف بن خليفة وخلف كان قد اختلط قبل موته، أخرجه البزار: 2454، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12641»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7107
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ مُعَاذٌ الْيَمَنَ أَوْ قَالَ الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّى أَيْ فَكَّرَ فِي نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُعَظَّمَ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّيْتُ فِي نَفْسِي أَنَّكَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ لَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنامعاذ رضی اللہ عنہ یمن یا شام میں آئے اور عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں، انھوں نے اپنے دل میں سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں، پھر جب وہ واپس آئے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عیسائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے پادریوں اور لیڈروں کو سجدہ کرتے ہیں اور مجھے اپنے دل میں خیال آیا کہ آپ اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کو اللہ تعالی کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، بیوی اس وقت تک اللہ تعالی کے حقوق ادا نہیں کر سکتی، جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے کما حقہ حقوق ادا نہ کرے، اگر خاوند عورت کو وظیفہ زوجیت کے لئے طلب کرے اور وہ (کسی سواری کے) پالان کے اوپر بیٹھی ہو تو اس عورت کو خاوند کا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7107]
تخریج الحدیث: «حديث جيّد، أخرجه ابن ماجه: 1853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19623»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ بیوی کو ہر صورت میں خاوند کی اطاعت کا خیال رکھنا چاہیے، دورِ حاضر کی ناشکری خواتین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جن کی نگاہ صرف اور صرف خاوند کے منفی پہلو پر پڑتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7108
عَنْ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ عَلَى الْيَمَنِ فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَهَا بَنُونَ لَهَا اثْنَا عَشَرَ فَتَرَكَتْ أَبَاهُمْ فِي بَيْتِهَا أَصْغَرُهُمُ الَّذِي قَدِ اجْتَمَعَتْ لِحْيَتُهُ فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلَى مُعَاذٍ وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِيهَا يُمْسِكَانِ بِضَبْعَيْهَا فَقَالَتْ مَنْ أَرْسَلَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ الْمَرْأَةُ أَرْسَلَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا تُخْبِرُنِي يَا رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ لَهَا مُعَاذٌ سَلِينِي عَمَّا شِئْتِ قَالَتْ حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ تَتَّقِي اللَّهَ مَا اسْتَطَاعَتْ وَتَسْمَعُ وَتُطِيعُ قَالَتْ أَقْسَمْتُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلَى زَوْجَتِهِ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ أَوَمَا رَضِيتِ أَنْ تَسْمَعِي وَتُطِيعِي وَتَتَّقِي اللَّهَ قَالَتْ بَلَى وَلَكِنْ حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ فَإِنِّي تَرَكْتُ أَبَا هَؤُلَاءِ شَيْخًا كَبِيرًا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ لَهَا مُعَاذٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُعَاذٍ بِيَدَيْهِ لَوْ أَنَّكِ تَرْجِعِينَ إِذَا رَجَعْتِ إِلَيْهِ فَوَجَدْتِ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَهُ وَخَرَقَ مَنْخِرَيْهِ فَوَجَدْتِ مَنْخِرَيْهِ يَسِيلَانِ قَيْحًا وَدَمًا ثُمَّ أَلْقَمْتِيهِمَا فَاكِ لَكَيْ مَا تَبْلُغِي حَقَّهُ مَا بَلَغْتِ ذَلِكَ أَبَدًا
۔ عائذ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں آئے، انہیں خولان قبیلہ کی ایک عورت ملی، اس کے ساتھ اس کے بارہ بیٹے بھی تھے، وہ ان کے باپ کو گھر میں چھوڑ آئی تھی، ان میں سے جو سب سے چھوٹا بیٹا تھا، وہ مکمل باریش تھا، وہ کھڑی ہوئی اوراس کے دو بیٹوں نے اسے تھام رکھا تھا، اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو سلام کہا اور کہا: اے آدمی! تجھے کس نے یہاں بھیجا ہے؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔اس نے کہا: کیا واقعی آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا ہے،اچھا اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد ہیں مجھے کچھ بتاتے کیوں نہیں؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: جو ضرورت ہے پوچھو، اس نے کہا: مجھے بتاؤ کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟انھوں نے اسے بتایا کہ تم اللہ تعالیٰ سے مقدور بھر ڈرتی رہو اور سنو اور اطاعت کرو، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہتی ہوں، مجھے بتاؤ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟انھوں نے کہا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہوئی کہ تم خاوند کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو؟ اس نے کہا: جی ضرور راضی ہوں، لیکن پھر بھی آپ مجھے بتائیں کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟ کیونکہ میں ان کے باپ کو گھر میں چھوڑ آئی ہوں، وہ بہت زیادہ بوڑھا ہو چکا ہے؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے دونوں ہاتھوں میں معاذ کی جان ہے! فرض کرو جب تم اس کے پاس لوٹ کر جاؤ اور اس کو اس حال میں پاؤ کہ کوڑھ نے اس کا گوشت چھلنی کردیا ہو اور اس کے دونوں نتھنے پھٹ چکے ہوں اور اس کے نتھنوں سے پیپ اور خون بہہ رہا ہوں اور تم اس کے دونوں نتھنوں کو منہ میں ڈال لو، تاکہ تم اس کا حق ادا کر دو، تو پھر بھی تم اس کا حق ادا نہیں کر سکو گی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7108]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، أخرجه الطبراني: 20/ 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22428»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7109
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت پانچ نمازیں پڑھتی ہو، ماہ رمضان کے روزے رکھتی ہو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو اور اپنے خاوند کی اطاعت کرتی ہو، تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں جس دروازے سے چاہتی ہے، داخل ہو جا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7109]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1661»
وضاحت: فوائد: … اسلام کئی فرائض، واجبات، مستحبّات، محرّمات اور مکروہات پر مشتمل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث ِ مبارکہ میں صرف چار امور کا ذکر کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین زیادہ تر ان چار امور میں راہِ اعتدال اختیار نہیں کرتیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7110
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دنیا والی کوئی عورت اپنے خاوند کو تکلیف دیتی ہے تو جنت کی سفید سرخ رنگ والی موٹی موٹی آنکھوں والی عورتوں میں سے اس کی بیوی اس کو مخاطب ہو کر کہتی ہے: اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے، یہ تو تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے، قریب ہے کہ یہ تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آ جائے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7110]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 2014، والترمذي: 1174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22452»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں