🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ قِصَّةِ عُوَيْمَرَ الْعَجَلَانِي مَعَ زَوْجَتِهِ فِي اللعان
عویمر عجلان اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کے واقعہ کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7199
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مِمَّا يَسْمَعُ قَالَ إِسْحَاقُ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ فَصَارَتْ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْصُرُوا هَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم! مجھے بتاؤ کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو زنا کرتے پاتا ہے، کیا وہ اسے قتل کرے؟ اگر قتل کرتا ہے تو تم اسے قتل کرو گے، وہ کیاکرے، اس بارے میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ کر بتاؤ، عاصم نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے مسائل پوچھنے کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب قرار دیا، حتیٰ کہ عاصم نے اس بارے میں جو جواب سنا وہ ان پر گراں گزرا (یہ اسحاق راوی کے الفاظ ہیں)۔جب عاصم اپنے گھر لوٹا اور اس کے پاس عویمر آیا اور کہا: عاصم! بتاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ عاصم نے عویمر سے کہا: تونے مجھ تک کوئی بھلائی نہیں پہنچائی، جس مسئلہ کے متعلق تو نے دریافت کیا، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند فرمایا ہے۔ عویمر کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں تو آپ سے اس کے متعلق پوچھے بغیر باز نہ آؤں گا، پھر عویمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب متوجہ ہوئے حتیٰ کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور لوگوں کے درمیان میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ بتائیں کہ ایک آدمی کسی کواپنی بیوی کے پاس پاتاہے، کیاوہ اسے قتل کر دے، اگر قتل کر دے توآپ اسے قتل کر و گے یا وہ کیا کرے؟ تو اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم اتاراہے، اسے میرے پاس لاؤ۔ سہل کہتے ہیں: وہ آئی اور دونوں میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا، میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو لعان کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے، جب دونوں فارغ ہو گئے تو عویمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب اگر میں اسے رکھوں تو پھر تو میں نے اس پر جھوٹ بولا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی اس نے بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالیں۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ لعان کرنے والوں کے لیے طریقہ بن چکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کا خیال رکھنا، اگر اس نے سیاہ رنگ کا، سیاہ آنکھوں والا اور بڑی سرین والا بچہ جنم دیا تو پھر یقینا اس کے خاوند نے سچ کہا ہے اور اگر یہ سرخ رنگت والا، جیساکہ چھوٹے جسم کا جانور ہوتا ہے، بچہ جنا تو پھر یقینا اس کے خاوند نے جھوٹ بولا ہے۔ جب اس نے بچہ جنم دیا تو وہ ناپسندیدہ صورت والا یعنی پہلی صفت والا تھا، جو تہمت زدہ آدمی کی شکل تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7199]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 423، 4745، 4746، 5309، 7166، 7304، ومسلم: 1492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23218، 23239»

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 423
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7200
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَجُلٌ لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيِ الْعَجَلَانِ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ثَلَاثًا
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کوئی شخص اپنی بیوی سے لعان کرلے تو کیا دونوں میں علیحدگی ہوجائے گی؟ انہوں نے جواب دیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ عجلان سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی کے مابین علیحدگی کروا دی تھی اورساتھ ہی تین مرتبہ ان سے یہ بھی دریافت فرمایا تھا: تم میں سے ایک توجھوٹا ہے، توکیا تم دونوں میں کوئی ایک توبہ کرے گا؟ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7200]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5312، ومسلم: 1493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4945»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5312
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7201
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا لَاعَنَ عُوَيْمِرٌ أَخُو بَنِي الْعَجَلَانِ امْرَأَتَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَلَمْتُهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا هِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عویمر عجلانی نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر ظلم کرتا ہوں، لہٰذا اسے طلاق ہے، اسے طلاق ہے،اسے طلاق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7201]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 5689، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23219»
وضاحت: فوائد: … لعان کی وجہ سے میاں بیوی میں خود بخود جدائی ہو جاتی ہے، طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی، دیکھیں حدیث نمبر (۷۱۹۷) اور (۷۲۰۹)۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں