🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ مَا جَاءَ فِي العُمر الأهلية والجلالة
گھریلو گدھے کے گوشت اور جلالہ کے گوشت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7335
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ وَعَنِ الْجَلَّالَةِ وَعَنْ رُكُوبِهَا وَأَكْلِ لُحُومِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھویلو گدھوں کے گوشت سے اور جلالہ جانور سے، اس پر سوار ہونے سے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7335]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3811، والنسائي: 7/ 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7039»
وضاحت: فوائد: … جلالہ اس جانور کو کہتے ہیں جو اس قدر نجاست اور غلاظت کھائے کہ وہ نجاست اس کے وجود میں رچ بس جائے اور اس سے باقاعدہ بد بو آنے لگے، اس کا معنی یہ ہو گا کہ اس جانور پر نجاست غالب آ گئی ہے اور ایسا جانور اس نجاست کی وجہ سے حرام ہو گا، اس کا پسینہ بھی ناپاک ہو جائے گا۔ اگر ایسا جانور بعد میں نجاست والی چیزیں کھانا چھوڑ دے اور اس کے جسم سے اس کے اثرات مکمل طور پر ختم ہو جائیں تو وہ حلال ہو گا، یعنی اصل مسئلہ نجاست کا ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7336
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبیر والے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7336]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5522، ومسلم: ص 1538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4720»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5522
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7337
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَعَ النَّاسُ يَوْمَ خَيْبَرَ فِي لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَنَصَبُوا الْقُدُورَ وَنَصَبْتُ قِدْرِي فِيمَنْ نَصَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ فَكَفَأْتُ قِدْرِي فِيمَنْ كَفَأَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن لوگ گھریلو گدھوں کے گوشت پکانے میں مشغول ہو گئے اور انہوں نے ہنڈیاں بھی پکانے کے لیے رکھ دیں، میں نے بھی ہنڈیا رکھ دی، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس سے منع کرتاہوں، میں تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتا ہوں۔ دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا، پس ہنڈیاں الٹ دی گئیں،میں نے بھی ہنڈیاں الٹنے والوں میں اپنی ہنڈیا الٹ دی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7337]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الازدي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11646»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الازدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7338
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلِيطٍ عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَلِيطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ أَتَانَا نَهْيُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ وَالْقُدُورُ تَفُورُ بِهَا فَكَفَأْنَاهَا عَلَى وُجُوهِهَا زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَنَحْنُ بِخَيْبَرَ فَكَفَأْنَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ
۔ سیدنا ابو سلیط رضی اللہ عنہ،جو کہ بدری صحابی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر میں تھے، ہمارے پاس یہ حکم آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے، حالت یہ تھی کہ ہم بھوکے تھے اور ہنڈیاں گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھیں، لیکن ہم نے اس ممانعت کے حکم کے بعد ان کو یکسر الٹ دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7338]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 578، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15537»

الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7339
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں، یہ گندہ ہے، اسے کھانا شیطان کا کام ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7339]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2991، 4198، ومسلم: 1940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12110»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2991
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7340
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ أَكَلْتُ الْحُمُرَ مَرَّتَيْنِ قَالَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ قَالَ فَنَادَى أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ خیبر میں ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے دو مرتبہ گدھے کا گوشت کھایا ہے، وہ پھر آیا اور اس نے کہا: گدھوں کو تو کھا کھا کر ختم کیا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ منادی کروا دی کہ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے گھریلوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا ہے، کیونکہ یہ گندہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7340]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12164»

الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12164
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7341
عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بستی کے باہر گدھوں کو پایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہنڈیوں میں جو کچھ بھی ہے، سب الٹ دو۔ جب میں نے اس کا ذکر سعید بن جبیر سے کیا تو انہوں نے کہا: ان کے گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ یہ غلاظت کھاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7341]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3155، 4220، ومسلم: 1937، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19400 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19620»
وضاحت: فوائد: … سعید بن جبیر کا یہ کہنا کہ گدھوں کو اس لیے حرام کیا گیا کہ یہ غلاظت کھاتے ہیں، یہ ان کی ذاتی رائے ہے، اللہ تعالی اور اس کے رسول نے گھریلو گدھوں کے گندہ ہونے کی وجہ سے ان کو حرام قرار دیا ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7342
قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ قُلْتُ لِأَبِي الشَّعْثَاءِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ قَالَ يَا عَمْرُو أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ وَقَرَأَ قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ [الأنعام: 145] يَا عَمْرُو أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ يَعْنِي يَقُولُ أَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا الْبَحْرُ بْنُ عَبَّاسٍ
۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں: میں نے ابو شعثاء سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ انہوں نے کہا اے عمرو! اس سے علم کے سمندر سیدنا ابن عباس انکار کرتے ہیں اور انھوں نے یہ آیت پڑھی: {قُلْ لَا أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ} … کہہ دو میں جوکھانے والے پرکھانا حرام پاتا ہوں، وہ صرف مردار، بہایا ہوا خون، یا خنزیر کا گوشت ہے۔ اس کا علم کے سمندر نے انکار کیا ہے کہ گدھے کا گوشت حرام ہے، اس کی تائید حکم بن عمرو غفاری نے بھی کی ہے کہ عباس کے بیٹے علم کے سمندر نے گدھے کے گوشت کوحرام قرار نہیں دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7342]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البخاري: 5529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18016»
وضاحت: فوائد: … جس چیز کا حرام ہونا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہو گا، اس کو اس حدیث میں مذکورہ آیت کی روشنی میں حلال ہی سمجھا جائے گا، چونکہ بہت ساری احادیث میں گدھے کو حرام قرار دیا گیا ہے، اس لیے گدھا حرام ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں