الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ اسْتِحْبَابِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ بِالْيَمِينِ وَكَرَاهَتُهُ بالشمال
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
حدیث نمبر: 7396
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ وَإِذَا شَرِبَ فَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ وَإِذَا أَخَذَ فَلَا يَأْخُذْ بِشِمَالِهِ وَإِذَا أَعْطَى فَلَا يُعْطِ بِشِمَالِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب بھی کوئی کھائے توبائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور جب بھی پانی پیے تو بائیں ہاتھ سے نہ پیےاور کوئی چیز پکڑے تو بائیں ہاتھ سے نہ پکڑے اور جب کوئی چیز کسی کو دے تو بائیں ہاتھ سے نہ دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7396]
تخریج الحدیث: «رجاله رجال الصحيح، قاله الھيثمي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23033»
الحكم على الحديث: رجاله رجال الصحيح
حدیث نمبر: 7397
عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِهَا وَيَشْرَبُ بِهَا قَالَ وَزَادَ نَافِعٌ وَلَا يَأْخُذَنَّ بِهَا وَلَا يُعْطِيَنَّ بِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ہرگز بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ پیے، کیونکہ بائیں ہاتھ کے ساتھ شیطان کھاتا پیتا ہے اور ہر گز نہ بائیں ہاتھ کے ساتھ کوئی چیز لے اور نہ دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7397]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2020، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6117»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2020
حدیث نمبر: 7398
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَشْرَبَ بِشِمَالِهِ قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ وَيَشْرَبَ بِشِمَالِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے پیے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7398]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 4273، وابن ابي شيبة: 8/ 292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13128»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7399
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آكُلُ بِشِمَالِي وَكُنْتُ امْرَأَةً عَسْرَاءَ فَضَرَبَ يَدِي فَسَقَطَتِ اللُّقْمَةُ فَقَالَ لَا تَأْكُلِي بِشِمَالِكِ وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَكِ يَمِينًا أَوْ قَالَ قَدْ أَطْلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَمِينَكِ قَالَ فَتَحَوَّلَتْ شِمَالِي يَمِينًا فَمَا أَكَلْتُ بِهَا بَعْدُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن محمد اپنے قبیلہ کی ایک عورت سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میں اپنے بائیں ہاتھ سے کھا رہی تھی، جبکہ میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی خاتون تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ پر مارا اور میرا لقمہ گر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ جبکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دایاں ہاتھ دیا ہے یا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا دایاں ہاتھ درست بنایا ہے۔ پس میرا بائیاں ہاتھ دائیں ہاتھ میں بدل گیا (یعنی میں نے آسانی کے ساتھ دائیں ہاتھ کے ساتھ کھانا شروع کر دیا)، وہ کہتی ہیں: پس میں نے اس کے بعد کبھی بائیں ہاتھ کے ساتھ کھانا نہیں کھایا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7399]
تخریج الحدیث: «عبد الله بن محمد، ھكذا وقع غير منسوب، ولم نعرفه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23612»
الحكم على الحديث: عبد الله بن محمد
حدیث نمبر: 7400
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیے تو دائیں ہاتھ سے پیے (اور بائیں ہاتھ سے نہ کھائے پیے) کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7400]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2020، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4537»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2020
حدیث نمبر: 7401
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ نہ کھاؤ، کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7401]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2019، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14641»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2019
حدیث نمبر: 7402
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَكَلَ بِشِمَالِهِ أَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ وَمَنْ شَرِبَ بِشِمَالِهِ شَرِبَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا ہے، اس کے ساتھ شیطان کھاتا ہے اور جو بائیں ہاتھ کے ساتھ پیتا ہے، شیطان اس کے ساتھ پیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7402]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس، أخرجه الطبراني في الاوسط: 294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24984»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس
حدیث نمبر: 7403
عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ رَاعِي الْعَيْرِ وَفِي رِوَايَةٍ ابْنُ رَاعِي الْعَيْرِ مِنْ أَشْجَعَ أَبْصَرَهُ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ فَقَالَ لَهُ كُلْ بِيَمِينِكَ فَقَالَ لَا أَسْتَطِيعُ فَقَالَ لَا اسْتَطَعْتَ قَالَ فَمَا وَصَلَتْ يَمِينُهُ إِلَى فِيهِ بَعْدُ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشجع قبیلہ کے بسر بن راعی العیر نامی ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: دائیں ہاتھ کے ساتھ کھاؤ۔ اس نے کہا: مجھ سے دائیں ہاتھ سے کھانے کی استطاعت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے استطاعت ہی نہ ہو۔ اس کے بعد اس کا دایاں ہاتھ اس کے منہ تک اٹھنے کے قابل نہ رہا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7403]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16613»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2021
حدیث نمبر: 7404
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُمْنَى لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى لِسَائِرِ حَاجَتِهِ
۔ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔ (اے اللہ مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔) یہ کلمات تین مرتبہ آپ کہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دایاں ہاتھ کھانے پینے کے لیے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر (کچھ) ضروریات کے لیے تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7404]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال سواء الخزاعي، أخرجه ابوداود: 5045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26997»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں کھانے پینے کے آداب بیان کیے گئے ہیں، تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، ساتھ ساتھ تبلیغ کا پہلو بھی اجاگر ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصلاح کے ہر پہلو کو سامنے رکھتے تھے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة حال سواء الخزاعي