🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي ذَلِكَ
کھڑے ہو کر پینے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7459
عَنْ زَاذَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّاسُ كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهُ وَفِي رِوَايَةٍ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا تَنْظُرُونَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا
۔ زاذان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگوں نے ان کی جانب تعجب انگیز انداز میں دیکھا، انھوں نے کہا: تم کیا دیکھتے ہو، اگر میں کھڑا ہو کر پیتاہوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوکھڑا ہو کر پیتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر میں بیٹھ کر پیتا ہوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر پیتے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7459]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطحاوي: 4/ 273، وابن ابي شيبة: 8/ 204، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 795»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7460
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَمَشَى حَافِيًا وَنَاعِلًا وَانْصَرَفَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر دونوں طرح پانی پیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ننگے پاؤں بھی چلتے تھے اورجوتا پہن کربھی اور نماز سے فارغ ہو کر بعض اوقات دائیں جانب مڑتے تھے اور بعض اوقات بائیں طرف۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7460]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ومشي حافيا و ناعلا وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي عن مكحول، ولانقطاعه، فقد انكر ابو زرعة الدمشقي ان يكون مكحول الشامي قد سمع من مسروق الاجدع، أخرجه النسائي: 3/ 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25074»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: ومشي حافيا و ناعلا وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي عن مكحول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7461
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ وَفِي لَفْظٍ شَرِبَ مِنْ دَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا، اور ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر ایک ڈول سے آبِ زمزم پیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7461]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1637، ومسلم: 2027، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1838»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1637
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7462
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ قَالَ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ
۔ (دوسری سند)امام شعبی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آب زم زم پلایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7462]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2608»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2608
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7463
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَطَارِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَكِيعٌ السَّدُوسِيُّ أَبُو الْبَزَرِيِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا فَقَالَ قَدْ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَشْرَبُ قِيَامًا وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى
۔ ابوبزری وکیع سدوسی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے کھڑے ہو کر پانی پینے کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کھڑے ہو کر پیتے تھے اور چلتے ہوئے کھا بھی لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7463]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو البزَرَي مجھول، أخرجه الطيالسي: 1904، والدارمي: 2/ 120، وابن حبان: 5243، والبيھقي: 7/ 283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4601 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4601»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7464
عَنِ الصَّلْتِ بْنِ غَالِبٍ الْهُجَيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مُسْلِمٍ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَقَلَ رَاحِلَتَهُ وَهِيَ مُنَاخَةٌ وَأَنَا آخِذٌ بِخِطَامِهَا أَوْ زِمَامِهَا وَاضِعًا رِجْلِي عَلَى يَدِهَا فَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَامُوا حَوْلَهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ثُمَّ نَاوَلَ الَّذِي يَلِيهِ عَنْ يَمِينِهِ فَشَرِبَ قَائِمًا حَتَّى شَرِبَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ قِيَامًا
۔ مسلم (تابعی) نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا کھڑے ہو کر پانی پینا جائز ہے، انہوں نے کہا: اے بھتیجے! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ نے سواری کا گھٹنا باندھا اور اسے بٹھا دیا اور میں اس سواری کی لگام تھامے تھا اور میں نے سواری کی اگلی ٹانگ پر اپنا پاؤں رکھا ہوا تھا، قریش کے کچھ افراد آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد جمع ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر ہی تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ اسے پکڑا دیا جو دائیں جانب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کھڑے ہو کر پیا تھا اور ساری قوم نے بھی کھڑے ہو کر پیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7464]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الصلب بن غالب الھجيمي ومسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7524»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۷۳۹۲)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الصلب بن غالب الھجيمي ومسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں