🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَبِيْد السَّقَايَةِ وَشُرب النَّبِيِّ مِنْهُ صلى الله عليه وسلم استحسانه
مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پینے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7489
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَايَةِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اورسیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، ہم نے آپ کو مشک میں بنا ہوا نبیذ پلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا اور فرمایا: بہت اچھا ہے، نبیذ اس طرح بنایا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7489]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 2543، والطبراني: 12934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2655»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7490
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ سِقَاءٌ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ بِرَامٍ قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ بنایا جاتا تھا، جب مشک میسر نہ ہوتی تو پتھر کے ایک برتن میں نبیذ بنایا جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے بنائے ہوئے برتن، تنا کرید کر بنائے ہوئے برتن، مٹکوں میں اور تارکول والے برتن میں نبیذ بنانے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7490]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 8/ 310، وأخرج الشطر الاول منه مسلم: 1999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14317»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چار قسم کے برتنوں سے عارضی طور پر منع کیا تھا، پھر ان کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7491
حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلًا نَادَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقَالَ أَسُنَّةً تَبْتَغُونَ بِهَذَا النَّبِيذِ أَمْ هُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّبَنِ وَالْعَسَلِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فَقَالَ اسْقُونَا فَقَالَ إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا أَوْ عَسَلًا قَالَ اسْقُونَا مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ بِسِقَاءَيْنِ فِيهِمَا النَّبِيذُ فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا لَبَنًا وَعَسَلًا
۔ حسین بن عبد اللہ اور داؤد بن علی بن عبد اللہ بن عباس دونوں کمی بیشی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو آواز دی اور ان کے ارد گرد لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: یہ نبیذ استعمال کرکے تم سنت پر عمل کے آرزو مند ہو یا یہ دودھ اور شہد کی بہ نسبت اسے استعمال کرنے میں آسانی سمجھتے ہو؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عباس کے ہاں آئے اور فرمایا: مجھے کچھ پلاؤ۔ انہوں نے کہا: نبیذ توبنایا گیا ہے، لیکن اسے انگلیوں سے ملا گیا ہے اور میل کچیل والا سا ہے، کیا ہم آپ کودودھ یا شہد نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی کچھ پلا دو، جو تم لوگوں کو پلا رہے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مہاجر ین و انصار میں سے بعض لوگ بھی موجود تھے، دو مشکیں نبیذ کی لائی گئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے کے دوران جلدی سے اپنا سر اقدس اوپر اٹھایا اور فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا، اس طرح بنایا کرو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا مندی کااظہار مجھے اس سے زیادہ اچھا لگتا ہے کہ دودھ اور شہد سے یہ گھاٹیاں بہنے لگیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7491]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2944»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ جائز اور حلال ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں