الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب ما لا يجوز من الأَنْبِدَةِ وَمَا جَاءَ فِي نَبِيدِ الْجَر
نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
حدیث نمبر: 7492
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ قَالَ وَمَا هِيَ قُلْتُ الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ فَلَمْ يَدْرِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ فَقَالَ مَا الْبِتْعُ وَمَا الْمِزْرُ قَالَ أَمَّا الْبِتْعُ فَنَبِيذُ الذُّرَةِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعُودَ بِتْعًا وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِيذُ الْعَسَلِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبَنَّ مُسْكِرًا
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں کچھ (مخصوص) مشروبات پائے جاتے ہیں، میں ان میں سے کون سے پی سکتا ہوں اور کون سے ترک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کونسے (مشروبات) ہیں؟ میں نے کہا: وہ بتع اور مزر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں پہچان نہ سکے کہ وہ کون کون سے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بتع اور مزر کسے کہتے ہیں؟ میں نے کہا: بتع مکئی کی نبیذ ہے، اس کو پکایا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ بتع بن جاتی ہے اور شہد کی نبیذ کو مزر کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس، نشہ آور مشروب نہیں پینا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7492]
تخریج الحدیث: «قوله لاتشربن مسكرا صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف مصعب بن سلام، أخرجه النسائي: 8/ 299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19827»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7493
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُمَا يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا قَالَ أَبُو مُوسَى يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
۔ (دوسری سن) سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری اورسیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کی جانب نمائندے بنا کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ آسانی کرنا، تنگی نہ کرنا، خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق سے چلنا اختلاف نہ کرنا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی سرزمین میں ہیں جس میں شہد سے شراب تیار کی جاتی ہے،جسے بتع کہتے ہیں اور ایک جو سے شراب تیار کی جاتی ہے، جسے مزر کہا جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7493]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6124، ومسلم: 1733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19980»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں نبیذ اور شراب کے بارے میں ایک جامع ضابطہ کی تعلیم دی گئی ہے کہ نبیذ اس وقت تک جائز ہے، جب تک وہ نشہ آور نہ بن جائے، جب اس میں نشہ پیدا ہو جائے گا تو وہ حرام ہو جائے گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7494
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَسْتَحِلَّنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ بِاسْمٍ يُسَمُّونَهَا إِيَّاهُ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ شراب کو اس طرح حلال تصور کر لے گا کہ وہ اس کا نام تبدیل کر لے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7494]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3385، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23085»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7495
عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا
۔ ابن محیریز، ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ اس طرح شراب پئیں گے کہ اس کا نام تبدیل کر دیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7495]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18241»
وضاحت: فوائد: … اسلام نے جن چیزوں کو جن صفات کی وجہ سے حرام قرار دیا، وہ ایسے مسلّم قوانین ہیں کہ مرورِزمانہ یا حوادثات ِ زمانہ ان کو متاثر نہیں کر سکتا۔ پہلے خمر (شراب) کی تعریف گزر چکی ہے کہ جس چیز سے عقلی توازن برقرار نہ رہ سکے یا جو چیز عقل پر پردہ ڈال دے، اس کا نام جو بھی رکھ دیا جائے، وہ حرام اور ممنوع ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7496
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الشَّرَابِ فَقَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ وَكَانَتْ كَثِيرَةَ التَّمْرِ فَحَرَّمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَضِيخَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ أُمٍّ لَهُ عَجُوزٍ كَبِيرَةٍ أَنَسْقِيهَا النَّبِيذَ فَإِنَّهَا لَا تَأْكُلُ الطَّعَامَ فَنَهَاهُ مَعْقِلٌ
۔ ابو عبد اللہ جسری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مشروب کے متعلق دریافت کیا،انہوں نے کہا: اس وقت کی بات ہے جب ہم مدینہ میں تھے، وہاں کھجوریں بہت زیادہ ہوتی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے وہ مشروب حرام قرار دیا تھا، جو کھجوروں سے تیار ہوتا تھا جسے فضیخ کہتے تھے، معقل کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے سوال کیا کہ میری بوڑھی ماں ہے، وہ بہت عمر رسیدہ ہے، وہ کھانا نہیں کھا سکتی، کیا ہم اسے نبیذ پلا سکتے ہیں؟ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے اسے منع کر دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7496]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 183، والطبراني: 20/ 504، والطيالسي: 934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20565»
وضاحت: فوائد: … پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ نبیذ جائز ہے، ممکن ہے کہ یہ آدمی جس مشروب کو نبیذ کہہ رہا ہو، اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7497
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَنُهِيَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ فَقُلْتُ مَنْ زَعَمَ ذَاكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ زَعَمُوا ذَاكَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ قَالَ فَصَرَفَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنِّي يَوْمَئِذٍ وَكَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا سُئِلَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ ثُمَّ هَمَّ بِصَاحِبِهِ
۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے دریافت کیا کہ کیا مٹکے میں بنایا گیا نبیذ پینے سے منع کیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: لوگوں کا خیال تویہی ہے، میں نے کہا: یہ کس کا خیال ہے؟ کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: لوگوں کا خیال یہی ہے کہ اس سے منع کیا گیا ہے، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: لوگوں کا خیال یہی ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے ان کو مجھ سے در گزر کروا دیا، وگرنہ جب کوئی ان سے یہ کہتا کہ آیا تم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے تو وہ غضبناک ہو جاتے تھے اورکہنے والے کو سخت جھنجھوڑا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7497]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن بي شيبة: 8/ 126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5074»
وضاحت: فوائد: … اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں تردّد ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے یا نہیں، لیکن صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: قَالَ رَجُلٌ لِاِبْنِ عُمَرَ: اَنَھٰی نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَیْضَا عَنْ نَبِیْذِ الْجَرِّ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ … ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا اللہ کے نبی نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7498
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذٍ فِي جَرَّةٍ فَسَأَلْتُهُ فَنَهَانِي عَنْهَا فَكَسَرْتُهَا
۔ سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مٹکے میں بنایا ہوا نبیذ لے کر آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے مجھے منع فرما دیا تو میں نے سرے سے وہ مٹکا ہی توڑ دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7498]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ان صح ان ھلالا المازني ھو هلال بن يزيد، فالاسناد ضعيف لجھالة حال ابي حمزة الراوي عنه، أخرجه الطيالسي: 1264، والبيھقي: 8/ 302، وابن ابي شيبة: 8/ 123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24144»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7499
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے میں بنائے گئے نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7499]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه اسحاق بن راھويه في مسنده: 856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26505»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7500
عَنِ الشَّيْبَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ قَالَ قُلْتُ فَالْأَبْيَضُ قَالَ لَا أَدْرِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز مٹکے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے، ثابت کہتے ہیں: میں نے کہا: سفید مٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے اس بارے معلوم نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7500]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البخاري: 5596، وفيه: قلت: أنشرب في الأبيض؟ قال: لا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19313»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7501
عَنْ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
۔ ام المومنین سیدنا صفیہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7501]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 7117، والطبراني في الكبير: 24/ 199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27402»
وضاحت: فوائد: … سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح