الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ مَا جَاءَ عَامًا فِي تَحْرِيمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ
سونے اور ریشم کی عام حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 8025
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا ضَمْرَةُ أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزَعَهُمَا عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُ
۔ سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا میرے اوپر یمن کے دو جوڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ضمرہ! کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ یہ دو جوڑے تمہیں جنت میں داخل کریں گے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرے لئے استغفار کریں تو میں بیٹھنے سے پہلے انہیں اتار دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ضمرہ بن ثعلبہ کو بخش دے۔ پس وہ جلدی جلدی گئے اور ان دونوں کو اتار دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8025]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد، فانه كان يدلس عن الضعفاء ويدلس تدليس التسوية، أخرجه البزار: 2470، والطبراني في الكبير: 8158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19188»
وضاحت: فوائد: … ظاہر یہی ہے کہ یہ دو جوڑے ریشمی تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد
حدیث نمبر: 8026
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدِّيبَاجِ قَالَ فَقَالَ الْحَسَنُ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ لَبِنَتُهَا دِيبَاجٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبِنَةٌ مِنْ نَارٍ
۔ سلیمان تیمی کہتے ہیں: حسن بصری نے مجھے ابو عثمان نہدی والی حدیث سنائی، انہوں نے سیدنا عمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ریشم کے بارے میں بیان کی، حسن کہتے ہیں: قبیلہ میں سے ایک آدمی نے مجھے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوا، جبکہ اس نے ایک جبہ زیب ِ تن کیا ہوا تھا، اس کا گریبان ریشم کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گریبان آگ کا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8026]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، علي بن عاصم الواسطي ضعيف، والحديث علي ضعفه مخالف لما جاء في الاحاديث الصحيحة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20959»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8027
عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ عُطَارِدَ بْنَ حَاجِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ مَعَهُ ثَوْبُ دِيبَاجٍ كَسَاهُ إِيَّاهُ كِسْرَى فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَهُ فَقَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُهُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عطارد بن حاجب آئے اوران کے پاس ریشم کی چادر تھی، یہ فارس کے حکمران نے ان کو دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری خواہش ہے آپ اسے خرید لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لباس تو وہ شخص پہنتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8027]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري: 9616، والطبراني في الكبير: 23/ 357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27002»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 8028
عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً فَظَنَّ أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهَا حَرِيرٌ فَتَنَحَّى يَمْشِي الْقَهْقَرَى حَتَّى بَلَغَ آخِرَ السِّمَاطِ وَخَالِدٌ يُكَلِّمُ رَجُلًا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ فَقَالَ لَهُ يَا أَخِي مَا ظَنَنْتَ أَظَنَنْتَ أَنَّهَا حَرِيرٌ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَمْتِعُ بِالْحَرِيرِ مَنْ يَرْجُو أَيَّامَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ يَا أَبَا أُمَامَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ غُفْرًا أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ كُنَّا فِي قَوْمٍ مَا كَذَبُونَا وَلَا كُذِّبْنَا
۔ حبیب بن عبیدر حبی کہتے ہیں: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ، خالد بن یزید کے پاس گئے،انہوں نے ان کے لیے تکیہ رکھا، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو گمان ہوا کہ یہ ریشم کا ہے، وہ پچھلے پاؤں ہٹ کر اس سے علیحدہ ہو گئے، یہاں تک کہ مجلس کے آخر تک پہنچ گئے، جبکہ خالد کسی آدمی سے بات کر رہے تھے، پھر جب وہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے تو ان سے کہا: اے میرے بھائی! آپ نے کیا سمجھا ہے؟ کیا آپ کا خیال ہے یہ ریشم سے ہے؟ تو خالد نے شبہ دور کیا۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی امید رکھتا ہو، وہ ریشم سے فائدہ نہ اٹھائے۔ خالد نے ابو امامہ سے کہا: کیا تم نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ! معاف کرنا، خالد مجھے کہتا ہے کہ کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ سے سنی ہے، ہم ایسے لوگوں میں تھے کہ جنہوں نے ہمیں جو کچھ بیان کیا، انھوں نے اس میں جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہمیں جھٹلایا گیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8028]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم الغساني، أخرجه الطبراني في الكبير: 7511، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22658»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی کی نعمتوں سے مراد اس کی مغفرت، رحمت، جنت میں داخل ہونا اور جنت کی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره