الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي جَوَاز هِمَا لِلنِّسَاءِ دُونَ الرجال
عورتوں کے لیے سونے اور ریشم کی رخصت کا بیان، نہ کہ مردوں کے لیے
حدیث نمبر: 8029
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پکڑا اور اسے دائیں ہاتھ میں رکھا اور سونا پکڑا اور اسے بائیں میں رکھا اور فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں کے لئے حرام ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8029]
تخریج الحدیث: «صحيح لشواھده، أخرجه ابوداود: 4057، والنسائي: 8/ 160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 935»
الحكم على الحديث: صحيح لشواھده
حدیث نمبر: 8030
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي وَحِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ریشم اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8030]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواھده، أخرجه الترمذي: 1720، والنسائي: 8/ 190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19744»
الحكم على الحديث: حديث صحيح بشواھده
حدیث نمبر: 8031
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ سِيرَاءُ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ فَرُحْتُ بِهَا فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَضَبَ قَالَ فَقَسَمْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ریشمی دھاریوں والا حلے کا تحفہ دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ میری طرف بھیج دیا، جب میں وہ پہن کر گیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں غصہ محسوس کیا، پس میں نے اسے اپنی عورتوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8031]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2614، 5366، ومسلم: 2071، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 698 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 698»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2614
حدیث نمبر: 8032
وَعَنْهُ عَنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا فَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ریشمی پوشاک لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دی اور میں نے اس کو پہن لیا، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں کراہت دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں اس کے دوپٹے بنا کر اسے عورتوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8032]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 958»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8033
عَنْ هُبَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ مِنْ حَرِيرٍ فَكَسَانِيهَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ أَرْضَى لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي قَالَ فَأَمَرَنِي فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي خُمُرًا بَيْنَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعَمَّتِهِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ریشم کا جوڑا تحفہ دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مجھے عطا کر دیا، لیکن جب میں ا س کو پہن کر نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز میں اپنے لئے ناپسند کرتا ہوں، وہ تمہارے لئے بھی پسند نہیں کروں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں اس کے دوپٹے بنا کر اپنی خواتین سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اپنی کی پھوپھی کے مابین تقسیم کر دئیے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8033]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 3596، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1154»
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 8034
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ إِسْتَبْرَقٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَتَلْبَسَهَا إِذَا قَدِمَ عَلَيْكَ وُفُودُ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ ثَلَاثٍ فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَإِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحُلَّةٍ وَإِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحُلَّةٍ فَأَتَى عُمَرُ بِحُلَّتِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تُشَقِّقَهَا لِأَهْلِكَ خُمُرًا قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ وَأَتَاهُ أُسَامَةُ وَعَلَيْهِ الْحُلَّةُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا مَا أَدْرِي أَقَالَ لِأُسَامَةَ تُشَقِّقُهَا خُمُرًا أَمْ لَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ وَجَدَ عُمَرُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ریشم کا جوڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ یہ جوڑا خرید لیں اور جب لوگوں کے وفد آپ کے پاس آئیں گے تو آپ یہ زیب ِ تن کیا کریں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو وہی پہن سکتا ہے، جس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ریشم کے تین جوڑے لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو، ایک جوڑا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور ایک جوڑا سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بھیجا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو وہ حلہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ جوڑا میرے پاس بھیج دیا ہے، جبکہ اس سے پہلے آپ اس کے بارے میں ناپسندید گی کااظہارکر چکے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ریشم کا یہ جوڑا تمہاری طرف اس لیے بھیجا ہے کہ اسے فروخت کرلو یا پھر اس کے دوپٹے بنا کر اپنی عورتوں کے درمیان تقسیم کر دو۔ لیکن سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ تو وہ جوڑا زیب تن کر کے آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے یہ تمہارے پاس اس لئے تو نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو، میں نے اس لئے بھیجا تھا کہ اسے فروخت کر لو۔ راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا یا نہیں کہ اس کے دوپٹے بنا لو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8034]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 948، 3054، ومسلم: 2068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4978»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 948
حدیث نمبر: 8035
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوُفُودِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَبِيعَهَا أَوْ لِتَكْسُوهَا قَالَ فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا مِنْ أُمِّهِ بِمَكَّةَ زَادَ فِي أُخْرَى قَالَ سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا دیکھا، جو مسجد کے دروازے کے نزدیک فروخت کیا جا رہا تھا، سو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے اور مختلف وفود سے ملاقات کرتے وقت پہن لیا کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو وہی پہن سکتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی جوڑے لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ان میں سے ایک جوڑا دے دیا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے یہ دے رہے ہیں، جبکہ آپ نے اس کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا کہ تم اسے پہنو، میں نے تو اس لیے دیا ہے کہ اسے فروخت کردو یا (جس کے لئے پابندی نہیں ہے) اسے پہنا دو۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ مکہ میں رہنے والے اپنے ایک مشرک اخیافی بھائی کو دے دیا تھا۔ سیدنا سالم کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس حدیث کی وجہ سے ریشم سے بنی ہوئی دھاری والے کپڑے کو پہننا مکروہ جانتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8035]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 886، 2612، ومسلم: 2068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5797»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کافر رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا، ان کے ساتھ احسان کرنا اور ان کو تحفہ دینا جائز ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 886
حدیث نمبر: 8036
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَهْدَاهَا لَهُ فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ مُعْرِضًا عَنْهُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ ابْنَةَ ابْنَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ تَحَلَّيْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجاشی کی جانب سے تحفہ میں زیورات آئے، جن میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض انگلیوں کی مدد سے ایک لکڑی کے ذریعے اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو پکڑا اور پھر اپنی نواسی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا: پیاری بیٹی! اسے بطور زیور پہن لو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8036]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25392»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی تمام روایات سے معلوم ہوا کہ سونا اور ریشم مردوں کے حرام ہے اور عورتوں کے لیے حلال ہے، مردوں کے لیے جن صورتوں میں یہ چیزیں حلال ہو سکتی ہے، ان کا ذکر اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن