الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ مَا جَاءَ عَامًا فِي تَحْرِيمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ
سونے اور ریشم کی عام حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 8015
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الْدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اس کو آخرت میں ہر گز نہیں پہنے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8015]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5832، ومسلم: 2073، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12008»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5832
حدیث نمبر: 8016
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَاهِبًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَوَضَعَهَا وَأَحَسَّ بِوَفْدٍ أَتَوْهُ فَأَمَرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ لِبَاسُهَا لَنَا فِي الْدُّنْيَا وَيَصْلُحُ لَنَا فِي الْآخِرَةِ وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ فَقَالَ يَكْرَهُهَا وَآخَذُهَا فَقَالَ إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا وَلَكِنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا فَأَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک راہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باریک ریشم کا جبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہنا، پھر آپ گھر میں آئے اور اس کو اتار دیا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا کہ ایک وفد آیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشورہ دیا کہ وفد کی آمد پر وہی جبہ پہن لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لباس دنیا میں ہمارے لئے درست نہیں، یہ ہمارے لئے آخرت میں ہوگا، لیکن اے عمر! تم یہ لے لو۔ انہوں نے عرض کی: آپ اسے ناپسند کرتے ہیں اور میں لے لوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس لیے نہیں دے رہا کہ تم اس کو پہن لو، میں تو اس لئے دے رہا ہوں کہ تم اسے فارس کے علاقے کی طرف بھیج دو اور اس کے عوض مال حاصل کر لو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نجاشی کی طرف بھیج دیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ان صحابہ کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا، جو ہجرت کر کے اس کے پاس گئے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8016]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14675»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة
حدیث نمبر: 8017
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَعَلَيْهِ فَرُّوجُ حَرِيرٍ وَهُوَ الْقَبَاءُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا وَقَالَ إِنَّ هَذَا لَا يَنْبَغِي لِلْمُتَّقِينَ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم کے چاک والی قباء پہن رکھی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو اسے بڑی سختی سے اتارا اور فرمایا: یہ پرہیز گاروں کے لائق نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8017]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17425»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2075
حدیث نمبر: 8018
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَمْنَعُ أَهْلَ الْحِلْيَةِ وَالْحَرِيرِ وَيَقُولُ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْيَةَ الْجَنَّةِ وَحَرِيرَهَا فَلَا تَلْبَسُوهَا فِي الْدُّنْيَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیورات اور ریشم والوں کو یہ چیزیں پہننے سے منع کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر تم جنت کا زیور اور اس کا ریشم چاہتے ہو تو انہیں دنیا میں نہ پہنا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8018]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17443»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 8019
عَنْ جَوَيْرِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ حَرِيرًا أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي لَفْظٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ أَوْ ثَوْبًا مِنْ نَارٍ
۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ریشم پہنے گا، اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت دوزخ کی آگ سے لباس پہنائے گا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اسے آگ یا ذلت کا لباس پہنائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8019]
تخریج الحدیث: «اسناده مسلسل بالضعفاء والمجاھيل علي نسق، شريك النخعي وجابر الجعفي كلاھما ضعيف، وام عثمان والطفيل كلاھما مجھول، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 170، وعبد بن حميد في المنتخب: 1558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27969»
الحكم على الحديث:
اسناده مسلسل بالضعفاء والمجاھيل علي نسق
حدیث نمبر: 8020
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ أَوْ دِيبَاجٍ شَكَّ فِيهِ سَعِيدٌ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ فَلَبِسَهَا فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دومہ کے رئیس اکیدر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باریک ریشم یا مطلق ریشم کا جبہ دیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب ریشم پہننا ابھی تک حرام نہ ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پہنا اور لوگ اسے دیکھ کر بہت تعجب کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ کا رومال اس سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8020]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري 2615، 3248، ومسلم: 2469، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13180»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري 2615
حدیث نمبر: 8021
عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصَبِ وَالْكَتَّانِ مَا يَكْفِيكُمْ عَنِ الْحَرِيرِ وَهَذَا رَجُلٌ فِيكُمْ يُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُمْ يَا عُقْبَةُ فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ
۔ ہشام بن ابو رقیہ کہتے ہیں: میں نے مسلمہ بن مخلد سے سنا، وہ منبر پر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انھوں نے کہا: لوگو! کیا تمہارے پاس یمن کی چادریں اور السی کے کپڑے نہیں، کیا وہ ریشم سے کفایت نہیں کرتے،یہ تمہارے اندر ایک آدمی موجود ہے، یہ تمہیں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے آگاہ کرتا ہے، اے عقبہ! ذرا کھڑے ہو جاؤ، سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8021]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 1751، والطبراني في الكبير: 17/ 904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17431 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17567»
وضاحت: فوائد: … عَصَب (یمنی چادریں): ان سے مراد وہ کپڑا ہے، جس کا دھاگہ بٹ کر اس کو رنگا جاتا ہے اور پھر اس سے کپڑے بنے جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 8022
عَنْ أَبِي يُونُسَ حَاتِمِ بْنِ مُسْلِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ يَقُولُ رَأَيْتُ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِمِنًى عَلَيْهَا دِرْعُ حَرِيرٍ فَقَالَتْ مَا تَقُولُ فِي الْحَرِيرِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ
۔ ابو یونس حاتم بن مسلم کہتے ہیں: میں نے قریش کے ایک آدمی سے سنا، اس نے کہا: میں نے ایک عورت کو دیکھا، وہ منیٰ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئی، اس نے ریشم کی قمیص زیب ِ تن کی ہوئی تھی، اس نے کہا: تم ریشم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8022]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 8/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5746»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8023
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَيْهِ جُبَّةُ سِيجَانَ مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ قَالَ يُرِيدُ أَنْ يَضَعَ كُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعِ ابْنِ رَاعٍ قَالَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ وَقَالَ أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ وَأَنْهَاكَ عَنْ اثْنَتَيْنِ آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ رَجَحَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ كُنَّ حَلْقَةً مُبْهَمَةً إِلَّا قَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ قَالَ قُلْتُ أَوْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْكِبْرُ قَالَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدٍ نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ قَالَ لَا قَالَ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ قَالَ لَا قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْكِبْرُ قَالَ سَفَهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماکہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، کسی بستی کا باسی سیجان کا جبہ، جس کے بٹن ریشمی تھے، زیبِ تن کر کے آیا اور کہا: خبردار! تمھارے اس ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھڑسواروں کے مقام کو کم اور چرواہوں کی عزتوں کو بلند کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جبہ کے گریبان سے پکڑا اور فرمایا: کیا میں تجھ پر ان لوگوں کا لباس نہیں دیکھ رہا، جو بیوقوف ہیں۔ پھر فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت آ پہنچا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: میں تیرے سامنے ایک وصیت بیان کرتا ہوں، میں تجھے دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو چیزوں سے منع کرتا ہوں۔ میں تجھے لا الہ الا اللہ کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ اگر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو (ترازو کے) ایک پلڑے میں اور لا الہ الا اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو لا الہ الا اللہ بھاری ہو جائے گا۔ اور ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک بند کڑے کی شکل اختیار کر لیں تو اس کو بھی لا الہ الا اللہ توڑ دے گا، اور (دوسری چیز) سبحان اللہ وبحمدہ ہے، یہ کلمات ہر چیز کی نماز ہیں اور ان ہی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے اور میں تجھے شرک اور تکبر سے منع کر تا ہوں۔ میں نے یا کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم شرک کو تو پہنچانتے ہیں، تکبر کسے کہتے ہیں؟ کیا تکبر یہ ہے کہ آدمی کے جوتے اور ان کے تسمے اچھے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ کسی نے کہا: تو کیا تکبر یہ ہے کہ آدمی کے دوست و یار ہوں، جو اس کے پاس بیٹھتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پھر کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حق کو جھٹلا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا (تکبر کہلاتا ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8023]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 3069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7101»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 8024
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ قَالَ فَلَقِيَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تَسْتَنْفِعَ بِهَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف ریشم کا جبہ بھیجا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے اور کہا: آپ نے ریشم کا جبہ میری طرف بھیجا ہے، حالانکہ آپ نے تو اس کے بارے میں ایسے ایسے فرمایا تھا، (یعنی مذمت کی تھی)؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس لئے تو نہیں بھیجا کہ تم اسے پہن لو، میں نے تو اس لئے بھیجا ہے کہ تم اسے فروخت کر لو یا کوئی اور فائدہ حاصل کر لو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8024]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12468»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2072