🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَاب مَنْ أصِيبَ أَنْفُهُ فَاتَّخَذَ أَنَّهَا مِنْ ذَهَبٍ
مردوں کے لیے ضرورت کے وقت سونا اور ریشم استعمال کرنے کی رخصت کے ابواب¤ناک کٹ جانے والے آدمی کا سونے کا ناک بنوا لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8037
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ قَالَ يَزِيدُ فَقِيلَ لِأَبِي الْأَشْهَبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَدْرَكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَدَّهُ قَالَ نَعَمْ وَفِي لَفْظٍ قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ وَزَعَمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ رَأَى جَدَّهُ يَعْنِي عَرْفَجَةَ
۔ عبدالرحمن بن طرفہ کے دادا سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دورِ جاہلیت میں ہونے والی کلاب کی جنگ میں ان کا ناک کٹ گیا تھا، انہوں نے چاندی کا ناک لگوا لیا، لیکن اس سے بدبو پیدا ہو گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ سونے کی ناک بنوا لیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8037]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4232، 4233، والترمذي: 1770، والنسائي: 8/ 164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19215»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8038
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ يَعْنِي مَاءً اقْتَتَلُوا عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ فَمَا أَنْتَنَ عَلَيَّ
۔ عبدالرحمن بن طرفہ بن عرفجہ اپنے دادا سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کا ناک کلاب والی جنگ میں کٹ گیا تھا، کلاب دراصل ایک پانی (یعنی ایک کنویں یا ایک چشمے) کا نام کلاب تھا، جس کے پاس جاہلیت میں لڑائی ہوئی تھی، پھر درج بالا روایت کی طرح کی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے: پھر وہ سونے کی وجہ سے بدبو دار نہ ہوا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8038]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20275 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20540»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8039
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ جَاءَ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فَاسْتَأْذَنُوا عَلَى أَبِي الْأَشْهَبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُمْ فَقَالُوا حَدِّثْنَا قَالَ سَلُوا فَقَالُوا مَا مَعَنَا شَيْءٌ نَسْأَلُكَ عَنْهُ فَقَالَتْ ابْنَتُهُ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ سَلُوهُ عَنْ حَدِيثِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ
۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے سنا، انھوں نے کہا: محدثین کا ایک گروہ آیا اور انھوں نے ابو اشہب کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت دی، وہ آئے اور انہوں نے ابو اشہب سے کہا: ہمیں حدیث بیان کرو، انہوں نے کہا: تم سوال کرو،انہوں نے کہا: ہمارے پاس تو کوئی سوال نہیں ہے، پھر پردہ کے پیچھے سے ان کی بیٹی نے کہا: ان سے عرفجہ بن اسعد والی حدیث کے بارے میں پوچھو، جن کا ناک کلاب والے دن کٹ گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8039]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20542»
وضاحت: فوائد: … یہ شریعت ِ اسلامیہ کا حسن ہے کہ اس میں بندے کی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے، جہاں مرد کے لیے سونے کا استعمال بطورِ زینت منع ہے، وہاں بطورِ ضرورت جائز بھی ہے، مثلا ہلنے والے دانتوں کوسونے کی تار سے باندھنا، سونے کا دانت لگوانا، ناک کی طرح کا عضو کٹ جانے کی صورت میں وہ لگوانا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں