🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَدُ الْمُسْتَحَبُّ لِلتَّوْبِ وَالْجَائِزِ والحرام
لباس کی مستحبّ، جائز اور حرام حد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8111
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حُلَلِ السِّيرَاءِ أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا فَسَحَبْتُهُ وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ فَتَقَنَّعْتُ بِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَاتِقِي فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعِ الْإِزَارَ فَإِنَّ مَا مَسَّتِ الْأَرْضَ مِنَ الْإِزَارِ إِلَى مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرو ی ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ریشم کی ایک پوشاک دی، جو فیروز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطورِہدیہ دی تھی، میں نے تہبند باندھا تو وہ تو کافی لمبا چوڑا تھا،سو میں نے اسے زمین پر گھسیٹا اور اوپر والی چادر بھی پہن لی اور اس طرح میں نے وجود ڈھانپ لیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے کندھے سے پکڑا اور فرمایا: اے عبداللہ! تہبند اٹھا کر رکھو، کیونکہ یہ ٹخنوں سے لے کر زمین تک جتنی مقدار ہے، یہ آگ میں جائے گی۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد کسی ایسے انسان کو نہیں دیکھا، جو کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر لباس کو سمیٹ کر رکھنے والا ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8111]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 5714، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5713»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8112
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً وَكَسَا أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حُلَّةً سِيرَاءَ قَالَ فَنَظَرَ فَرَآنِي قَدْ أَسْبَلْتُ فَجَاءَ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِي وَقَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ كُلُّ شَيْءٍ مَسَّ الْأَرْضَ مِنَ الثِّيَابِ فَفِي النَّارِ قَالَ فَرَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَتَّزِرُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قبطی چادر دی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دھاری دار ریشمی حلہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نے چادر ٹخنوں کے نیچے لٹکا رکھی ہے، آپ تشریف لائے، میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا: اے ابن عمر! لباس کا جو حصہ زمین کو چھوئے گا، وہ دوزخ میں جائے گا۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اس کے بعد اپنا ازار نصف پنڈلی تک رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8112]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5727»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8113
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ زَيْدٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ يَعْنِي جَدِيدًا فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ قَالَ فَرَفَعْتُهُ قَالَ زِدْ قَالَ فَرَفَعْتُهُ حَتَّى بَلَغَ نِصْفَ السَّاقِ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّهُ يَسْتَرْخِي إِزَارِي أَحْيَانًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَسْتَ مِنْهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تکبر سے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے کھینچے گا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر تہبند دیکھا جو کہ زمین پر حرکت کر رہا تھا، نیا ہونے کی وجہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں عبداللہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عبداللہ ہو تو اپنا تہبند اوپر اٹھالو۔ پس میں نے ٹخنوں سے اوپر اٹھا لیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اٹھاؤ۔ پس میں نے اور اٹھا لیا حتیٰ کہ نصف پنڈلی تک اٹھا لیا، پھر آپ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جس نے تکبر سے اپنا لباس زمین پر کھینچا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کبھی کبھی میرا تہبند کچھ لٹک سا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8113]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3665، 5784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6340»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ بڑی وضاحت کے ساتھ اس امر پر دلالت کر رہی ہے کہ مسلمان پراپنے ازار کو ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکانا واجب ہے،اسے چاہیے کہ وہ اپنے لباس کو ٹخنوں سے اوپر رکھے، اگرچہ اس کا مقصد تکبر نہ ہو۔ اس حدیث میں ان لوگوں کا واضح ردّ کیا گیا ہے، جن کے جبّے زمین پر لگ رہے ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ تکبر کی نیت سے نہیں کر رہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8114
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى عَضَلَةِ سَاقَيْهِ ثُمَّ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ ثُمَّ إِلَى كَعْبَيْهِ فَمَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فِي النَّارِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کا تہبند اس کی پنڈلی کے پٹھے تک ہونا چاہیے، یا پھر نصف پنڈلی تک کر لے، نہیں تو ٹخنوں تک، جو اس سے نیچے ہوگا، وہ آگ میں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8114]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري: 9709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7844»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8115
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْإِزَارِ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ لَا جُنَاحَ أَوْ لَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّارِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان سے تہبند کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے سائل سے کہا: تو نے واقعی باخبر آدمی سے سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے اور اس میں کوئی گناہ یا حرج نہیں ہے کہ وہ نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان درمیان رہے، البتہ ٹخنوں سے نیچے والا جو حصہ تہبند میں آئے گا، وہ آگ میں ہو گا، اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا، جو از راہِ تکبر تہبند گھسیٹے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8115]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4093، وابن ماجه: 3573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11023»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8116
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَلَمَّا رَأَى شِدَّةَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ قَالَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ لَا خَيْرَ فِيمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تہبند نصف پنڈلی تک ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ یہ حکم مسلمانوں پر گراں گزر رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹخنوں تک لٹکایا جا سکتا ہے، البتہ اس سے نیچے کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8116]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الطبراني في الاوسط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13640»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8117
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا تَحْتَ الْكَعْبِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کپڑا ٹخنوں کے نیچے لٹکے گا، وہ حصہ آگ میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8117]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26734»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8118
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِزَارِ فَقُلْتُ أَيْنَ أَتَّزِرُ فَأَقْنَعَ ظَهْرَهُ بِعَظْمِ سَاقِهِ وَقَالَ هَاهُنَا اتَّزِرْ فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَعْرُوفِ الْخَ
۔ ابو تمیمہ ہجیمی نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کیا، اس نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تہبند کے متعلق پوچھا اور کہا: کہاں تک رکھوں؟ آپ نے اپنی پنڈلی کی ہڈی تک تہبند اٹھا کردکھایا اور فرمایا: یہاں تک ازار باندھ لو، اگر تم اس سے انکار کرتے ہو تو اس سے ذرانیچے رکھو، اگر اس سے بھی انکار ہے تو ٹخنوں سے اوپر رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی کے متعلق سوال کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8118]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 186، والطيالسي: 1208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16051»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8119
عَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا هُوَ يَمْشِي قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ إِذْ لَحِقَهُ رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذَ بِنَاصِيَةِ نَفْسِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ حُمُشُ السَّاقَيْنِ فَقَالَ يَا عَمْرُو إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ يَا عَمْرُو وَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ مِنْ كَفِّهِ الْيُمْنَى تَحْتَ رُكْبَةِ عَمْرٍو فَقَالَ وَهَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ ثُمَّ رَفَعَهَا ثُمَّ ضَرَبَ بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ تَحْتَ الْأَرْبَعِ الْأُولَى ثُمَّ قَالَ يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ ثُمَّ رَفَعَهَا ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ الثَّانِيَةِ فَقَالَ يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ
۔ سیدنا عمرو بن فلاں انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ اس حال میں چل رہا تھا کہ اس نے اپنا ازار (ٹخنوں سے نیچے) لٹکا رکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے جا ملے، اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیشانی پکڑی ہوئی تھی اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری پنڈلیاں پتلی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو! یقینا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے۔ اے عمرو!۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں عمرو کے گھٹنے کے نیچے رکھیں اور فرمایا: یہ ازار کی جگہ ہے۔ پھر ان کو اٹھایا اور پہلے والی چار انگلیوں (کے فاصلے سے) سے نیچے پھر چار انگلیاں رکھیں اور فرمایا: یہ ازار کی جگہ ہے۔ پھر ان کو اٹھایا اور دوسری والی چار انگلیوں کے نیچے رکھا اور فرمایا: عمرو! یہ ازار کی جگہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8119]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17935»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8120
عَنِ الشُّرَيْدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ وَفِي رِوَايَةٍ أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ حَتَّى هَرْوَلَ فِي أَثَرِهِ حَتَّى أَخَذَ ثَوْبَهُ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ قَالَ فَكَشَفَ الرَّجُلُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْنَفُ وَتَصْطَكُّ رُكْبَتَايَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ قَالَ وَلَمْ يُرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ إِلَّا وَإِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ حَتَّى مَاتَ
۔ شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو ثقیف کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنا تہبند گھسیٹتا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پیچھے تیزی سے چلے یہاں تک کہ اس کا کپڑا پکڑا اور فرمایا: اپنا تہبند اوپر اٹھا کر رکھ۔ اس آدمی نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا اٹھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے قدم پڑھے ہیں اور گھٹنے آپس میں ٹکراتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر مخلوق خوبصورت اور اچھی ہے۔ اس کے بعد اس آدمی کو جب بھی دیکھا گیا تو اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہوتا تھا، موت تک ان کی یہی حالت رہی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8120]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطبراني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19701»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں