الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَاب مَا جَاءَ فِي وَصْلِ الشَّعْرِ وَالدُّهَنِ
خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب¤بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 8139
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ قَالَ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ
۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر یا مدینہ منورہ کے منبر پر خطبہ دیا اور بالوں کا ایک گچھا نکالا اور اس کے بارے میں کہا: مجھے اتنا پتہ نہیں تھا کہ یہودیوں کے علاوہ بھی کوئی یہ کام کرتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جھوٹ قرار دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8139]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3488، 5938، ومسلم: 2127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16976»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3488
حدیث نمبر: 8140
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعَرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَقَالَ إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَتْ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ
۔ حمید بن عبدالرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، جبکہ ان کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا، انھوں نے کہا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کو اس وقت عذاب دیا گیا، جس وقت ان کی عورتوں نے اس قسم کے بالوں کے گچھے استعمال کرنا شروع کیے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8140]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3468، ومسلم: 2127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16990»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت اور ان کے آخری حج کی بات ہے، اس موقع پر وہ مدینہ منورہ میں بھی حاضر ہوئے تھے، دوران خطبہ کوئی چیز لوگوں کو دکھانے کے لیے ہاتھ میں پکڑی جا سکتی ہے، نیز بنو اسرائیل یا دیگر اقوام کی ہلاکت و تباہی کے واقعات عبرت کے لیے بیان کیے جا سکتے ہیں، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی نافرمانی کا نتیجہ کس قدر خطرناک اور تباہ کن ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3468