🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. بَابُ نَهَى الْمَرَاةَ أَنْ تَلْبَسَ مَا يُحْكِي بَدَنَهَا أَوْ تَشَبَّهَ بالرجال
عورت کے لیے اس لباس کی ممانعت کا بیان، جو اس کے بدن کو واضح کرے یا جس کی وجہ سے مردوں سے تشبیہ لازم آئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8141
عَنِ ابْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً كَثِيفَةً كَانَتْ مِمَّا أَهْدَاهَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَسَوْتُهَا امْرَأَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ لَمْ تَلْبَسِ الْقُبْطِيَّةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتُهَا امْرَأَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُرْهَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَهَا غِلَالَةً إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَصِفَ حَجْمَ عِظَامِهَا
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قبطی موٹی چادر دی، جو آپ کو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے ہدیہ میں دی تھی، میں نے وہ اپنی بیوی کو دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اسامہ! کیا وجہ ہے کہ تونے وہ قبطی چادر نہیں پہنی؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ میں نے اپنی بیوی کو دے دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دے کہ اس کے نیچے شمیز پہنے، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ اس کے بدن کوواضح نہ کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8141]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين، أخرجه ابن ابي شيبة في مسنده، والبيھقي: 2/ 234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22129»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ عورت کا لباس باریک نہیں ہونا چاہیے، اگر ایسا ہو تو پردہ کرنے کے لیے اس کے نیچے اور لباس پہنا جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8142
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ لَيَّةٌ لَا لَيَّتَيْنِ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے اور میں دوپٹہ اوڑھ رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ہی بل دینا، دونہ دینا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8142]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة وھب مولي ابي احمد، أخرجه ابوداود: 4115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27152»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8143
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى سُرُوجٍ كَأَشْبَاهِ الرِّحَالِ يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ عَلَى رُءُوسِهِنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ الْعَنُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ مَلْعُونَاتٌ لَوْ كَانَتْ وَرَاءَكُمْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَخَدَمَهُنَّ نِسَاؤُكُمْ كَمَا خَدَمَكُمْ نِسَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ کجاووں کی طرح کی زینوں پر سوار ہوں گے، وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے، ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی، ان کے سر کمزور بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں ملعون ہیں، ان پر لعنت کرنا۔ اگر تمھارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمھاری عورتیں اس کی خدمت کرتیں جیسا کہ تم سے پہلے والی امتوں کی عورتوں نے تمھاری خدمت کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8143]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الحاكم: 4/ 436، الطبراني في الصغير: 1125، وابن حبان: 5753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7083»
وضاحت: فوائد: … لباس کے باوجود عورت کا برہنہ یا نیم برہنہ ہونا، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا امتیازی وصف ہے۔ بازاروں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور سیرگاہ بن جانے والی مسجدوں میں اور شادی بیاہ کے موقع پر یہ شرّ اتنا عام ہو چکا ہے کہ بے غیرتی کی انتہا ہو گئی ہے۔ رہی سہی کمی میڈیا نے پوری کر دی ہے، سرکے بالوں کے بھی بڑے بڑے سٹائل عام ہو گئے ہیں، شیمپو سے دھو کر ان کو نرم کیا جاتا ہے، کوئی جوڑا بناتی، کوئی ہیئر کیچر، کلپ اور پونی وغیرہ لگا کر سٹائل بناتی ہے، اگر بال کم ہوں تو ان کو زیادہ ظاہر کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں، دوپٹہ ہونے کے باوجود یوں لگتا ہے، جیسے سر کی پچھلی طرف کوہان نکلی ہوئی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8144
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُمْ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم میں جانے والے دو قسم کے لوگ ابھی تک نہیں دیکھے۔ (۱)وہ لوگ جن کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوتے ہیں اور وہ ان سے لوگوں کی پٹائی کرتے ہیں۔ اور(۲) وہ عورتیں جو لباس میں ملبوس ہونے کے باوجود ننگی ہوتی ہیں، لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں اور خود ان کی طرف مائل ہو تی ہیں، اس کے سر بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ایسی عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو بہت دور سے محسوس کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8144]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8650»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں لوگوں کی یہ اقسام کالعدم تھیں، لیکن آجکل ایسے معلوم ہوتا ہے کہ روئے زمین پر صرف یہی دو قسمیں بستی ہیں۔ ہر طرف بے پردگی ہے، نیم برہنہ نسوانی جسموں کا بھوت رقص کناں ہے، بازاروں میں بے حیائی و بے شرمی و بدکاری کے اسباب دستیاب ہیں، عورتوں نے دو دو چار چار ہزار کی پوشاکیں زیب تن کر رکھی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ بے پردہ ہیں، چہروں کو یوں رنگ و روغن کیا ہوا ہوتا ہے کہ جنسی بے راہ روی میں مبتلا انسانی بھیڑیوں کی نگاہیں جم جاتی ہیں۔ والدین کی غیرت و حمیت کا جنازہ اٹھ گیا کہ ان کی بیٹیاں بازاریوں سے ناک کان چھدوا رہی ہیں، چوڑیاں فٹ کر وا رہی ہیں اور اپنے بازؤوں پر مہندی کے ڈیزائن بنوا رہی ہیں۔ العیاذ باللہ۔ یہ وہ قسم ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں نظر نہیں آتی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8145
عَنْ عَطَاءٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَنْزِلُهُ فِي الْحِلِّ وَمَسْجِدُهُ فِي الْحَرَمِ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ رَأَى أُمَّ سَعِيدٍ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مُتَقَلِّدَةً قَوْسًا وَهِيَ تَمْشِي مِشْيَةَ الرَّجُلِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ هَذِهِ قَالَ الْهُذَلِيُّ فَقُلْتُ هَذِهِ أُمُّ سَعِيدٍ بِنْتُ أَبِي جَهْلٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ
۔ بنو ہذیل کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو دیکھا، ان کا گھرحرم سے باہر تھا اور مسجد حرم میں تھی، میں ان کے پاس تھا کہ انھوں نے ابو جہل کی بیٹی ام سعید کو دیکھا، اس نے کمان لٹکائی ہوئی تھی اور مرد کی سی چال چل رہی ہے۔ پھر انھوں نے پوچھا: یہ خاتون کون ہے؟ میں نے کہا: یہ ابو جہل کی بیٹی ام سعید ہے۔ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ عورت ہم میں سے نہیں جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے اور وہ مرد ہم سے نہیں جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8145]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حال عمر بن حوشب، ولابھام الرجل من ھذيل، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6875»
وضاحت: فوائد: … اگر طبعی طور پر کوئی مرد عورت کی سی یا کوئی عورت مرد کی سی چال چلے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، حرج اس وقت ہو گا، جب تکلف کرتے ہوئے ایسا کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8146
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی پر لعنت کی ہے جو عورت کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر بھی لعنت کی ہے جو مرد کا لباس پہنتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8146]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4098، وابن ماجه: 1903، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8292»
وضاحت: فوائد: … ملبوسات کی بعض قسمیں عام ہیں، مرد وزن دونوں پہن سکتے ہیں، لیکن بعض قسمیں اور ڈیزائن مردوں کے ساتھ خاص ہیں اور بعض خواتین کے ساتھ، اس حدیث میں ایسے ملبوسات پہننے سے منع کیا جا رہا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں