صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب اسْتِحُبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكُلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنّ أَذًي، وَّكَراهَةِ مَسْح الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا لِاحْتِمَالِ كَوْنِ بَرَكَةِ الطَّعَامِ فَي ذٰلِكَ الْبَاقِي وَ أَنَّ السُّنَّةُ الْأَكْلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ
باب: کھانے (کے بعد) انگلیاں چاٹنا مستحبب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5304
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ.
ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے“ آخر تک اور حدیث کا ابتدائی حصہ: ”شیطان تمہارے پاس حاضر ہوتا ہے“ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5304]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں ”اذا سقطت لقمة احدكم“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5304]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5305
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِكْرِ اللَّعْقِ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَان َ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ اللُّقْمَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا.
محمد بن فضیل نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح اور ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (انگلیاں) چاٹنے کے بارے میں روایت بیان کی اور ابوسفیان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، اور لقمے کا ذکر کیا، ان دونوں (جریر اور ابومعاویہ) کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5305]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوصالح اور ابوسفیان دونوں سے چاٹنے کا ذکر کرتے ہیں اور ابوسفیان سے لقمہ والا حصہ بیان کرتے ہیں، جیسا کہ اوپر والے دونوں استاد بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5305]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2034 ترقیم شاملہ: -- 5306
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ، قَالَ: وَقَالَ: " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الْقَصْعَةَ "، قَالَ: " فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ ".
بہز نے کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت کھانا کھاتے تو (آخر میں) اپنی تین انگلیوں کو چاٹتے اور کہا: آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے ناپسندیدہ چیز کو دور کر لے اور کھا لے اور اس کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔“ اور آپ نے ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5306]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے اذیت دہ چیز زائل کر دے اور اس کو کھا لے اور شیطان کے لیے اسے نہ چھوڑے“ اور آپ ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا، فرمایا: ”کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے کس کھانے میں برکت اور فیض بخشی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5306]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2034
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2035 ترقیم شاملہ: -- 5307
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اپنی انگلیوں کو چاٹ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5307]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے، کس حصہ میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5307]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2035
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2035 ترقیم شاملہ: -- 5308
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَلْيَسْلُتْ أَحَدُكُمُ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ: فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ أَوْ يُبَارَكُ لَكُمْ.
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی، مگر انہوں نے کہا: ”تم میں سے ہر ایک پیالہ صاف کرے۔“ اور فرمایا: ”تمہارے کس کھانے (کے کس حصے) میں برکت ہے، یا (فرمایا:) کس کھانے میں تمہارے لیے برکت ڈالی جاتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5308]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اتنا فرق ہے کہ اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ایک اپنی پلیٹ تھالی صاف کر لے۔" اور فرمایا: "تمہارے کس کھانے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5308]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2035
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة