صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ وَيَتَحَقَّقُهُ تَحَقُّقًا تَامًّا وَاسْتِحْبَابِ الاِجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ:
باب: اگر مہمان کو یقین ہو کہ میزبان دوسرے کسی شخص کو ساتھ لے جانے سے ناراض نہ ہو گا تو ساتھ لے جا سکتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5323
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، قَالَ أُسَامَةُ: وَأَنَا أَشُكُّ عَلَى حَجَرٍ، فَقُلْتُ: لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لِمَ عَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَهُ؟، فَقَالُوا: مِنَ الْجُوعِ، فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: مِنَ الْجُوعِ، فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي، فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟، فَقَالَتْ: نَعَمْ عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ، فَإِنْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ أَشْبَعْنَاهُ، وَإِنْ جَاءَ آخَرُ مَعَهُ، قَلَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ذَكَرَ سَائِرَ الْحَدِيثِ بِقِصَّتِهِ.
اسامہ نے بتایا کہ یعقوب بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے: ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کرتے ہوئے پایا۔ آپ نے بطن مبارک پر ایک پتھر کو ایک چوڑی سی پٹی سے باندھ رکھا تھا۔ اسامہ نے کہا: مجھے شک ہے (کہ یعقوب نے "پتھر" کا لفظ بولا یا نہیں)۔ میں نے آپ کے ایک ساتھی سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بطن کو کیوں باندھ رکھا ہے؟ لوگوں نے بتایا: بھوک کی بنا پر۔ پھر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ (میری والدہ) حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے خاوند تھے میں نے ان سے کہا: ابا جان! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے پیٹ پر پٹی باندھ رکھی ہے میں نے آپ کے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ انہوں نے کہا بھوک۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میری والدہ کے پاس گئے اور پوچھا: کہ کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں میرے پاس روٹی کے ٹکڑے اور کچھ کھجوریں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ہمارے پاس تشریف لے آئیں تو ہم آپ کو سیر کر کے کھلا دیں گے۔ اور اگر کوئی اور بھی آپ کے ساتھ آیا تو یہ کھانا کم ہو گا پھر باقی ساری حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5323]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کرتے ہوئے پایا اور آپ نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی تھی، حدیث کے راوی اسامہ کہتے ہیں: مجھے شک ہے کہ پٹی پتھر پر باندھی ہوئی تھی تو میں نے آپ کے بعض ساتھیوں سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیٹ کیوں باندھا ہوا ہے؟ انہوں نے بتایا: بھوک کی وجہ سے تو میں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو ام سلیم بنت ملحان (میری والدہ) کے خاوند تھے، کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی: اے ابا جان! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ نے ایک پٹی سے اپنا پیٹ باندھا ہوا ہے تو میں نے آپ کے بعض ساتھیوں سے پوچھا: انہوں نے بتایا، بھوک کی بنا پر باندھا ہے تو ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری والدہ کے پاس گئے اور پوچھا: کیا کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میرے پاس کچھ روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں ہیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں اکیلے تشریف لائے تو ہم آپ کو سیر کر سکیں گے اور آپ کے ساتھ کوئی اور آ گیا تو کھانا ان کے لیے کم پڑ جائے گا، پھر روایت واقعہ سمیت سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5323]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5324
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِر ِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
نضر بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے کھانے کے بارے میں ان سب کی حدیث کے مطابق روایت کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5324]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کھانے کے بارے میں روایت، دوسروں کی طرح بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5324]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة