الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب: فب أى آلاء ربكما تكذبان
سورۂ قمر {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8772
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ كَيْفَ نَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ [القمر: 15] أَذَالٌ أَمْ دَالٌ فَقَالَ لَا بَلْ دَالٌ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا مُدَّكِرٍ دَالًا
۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو دیکھا، اس نے اسود بن یزید،جو مسجد میں قرآن کی تعلیم دیتاتھا، سے سوال کیااور کہا: ہم اس آیت کو کیسے پڑھیں:{فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ} یہ ذ ہے یا د؟ انھوں نے کہا: نہیں،یہ د ہے، میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو {مُدَّکِرٍ}پڑھتے ہوئے سنا، یعنی د کے ساتھ۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8772]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4871، ومسلم: 823، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4401»
وضاحت: فوائد: … مُدَّکِر لفظ اصل میں مُذْتَکِر تھا، اس کی ادائیگی زبانوں پر ثقیل تھی، اس لیے پہلے ت کو د سے بدلا، پھر ذ کو د سے بدل کر ادغام کر دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح