🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْأَعْمَالِ
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8925
وَعَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ خُوَيْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةُ وَكَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي ( (يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةَ خُوَيْلَةَ) ) قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا قَالَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ ( (يَا عُثْمَانُ أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّتِي) ) قَالَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ قَالَ ( (فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدہ خویلہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں، وہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی پراگندہ حالت دیکھی تو فرمایا: عائشہ! کس چیز نے خویلہ کی حالت کو اتنا بگاڑ دیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس عورت کا کوئی خاوند نہیں، اس بات کی تفصیل یہ ہے کہ اس کا خاوند دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نماز پڑھتا ہے اور (اپنی بیوی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا) تو یہ ایسی ہی ہو گئی کہ ا س کا کوئی خاوند ہی نہیں ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کو چھوڑ دیا ہے اور اس کو ضائع کر دیا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلایا، پس جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عثمان! کیا میری سنت سے اعراض کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! بلکہ میں آپ کی سنت کا ہی طلبگار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ اے عثمان! اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس بیشک تجھ پر تیرے اہل کا بھی حق ہے، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور سویا بھی کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8925]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 1369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26839»
وضاحت: فوائد: … ضرورت اس بات کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام عبادات اور معاملات کو سامنے رکھا جائے، ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہادی لشکر ترتیب دیتے وقت جہاد میں شرکت کرنے کی ترغیب دلا رہے ہیں، دوسری طرف اس لشکر میںشرکت کے خواہشمند کو یہ حکم دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ وہ جہاد میں شرکت کرنے کے بجائے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرے۔ یقین مانیں کہ اس دنیا میں سب سے بڑی مہم یہ ہے کہ آدمی نے اپنی زندگی میں دینِ کامل پر عمل کیسے کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادات کا حق، حج و عمرہ کے تقاضے، جہاد میں شرکت، والدین کا حق، بیوی بچوں کے حقوق، ہمسائیوں کے حقوق، حصولِ رزق کے لیے محنت،مہمان کی میزبانی کے لیے وقت اور خرچ، فوتگیوں اور شادیوں کے معاملات …۔
ایک دن ایک اچھا خاصا دین دار اور با شرع آدمی اپنے بھائی کے ولیمے میں اس قدر مصروف ہو گیا کہ نمازِ عصر فوت ہو گئی، ایک دن ایک مستقل نمازی ایک نماز میں غائب تھا، جب اس سے سبب دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ مہمان آئے ہوئے تھے۔ در حقیقتیہ لوگ افراط و تفریطمیں مبتلا ہیں اور اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے سے عاری ہیں، ہماری زندگیاں بیت گئیں اورہم اپنے اسلامی نظام الاوقات مقرر نہ کر سکے، وہ ولیمہ کرنے کی توفیق ہی ہوئی، جو کئی لوگوں کی نمازِ عصر سے محرومی کا سبب بنی، جن مہمانوں کی وجہ سے نمازیں متاثر ہو جائیں، وہ مہمان ہوتے ہیںیا شیطان۔ کیا ولیمہ اور میزبانی کی سنت کا تقاضا یہ ہے کہ نماز سے غفلت برت کر اللہ تعالیٰ کی بغاوت کر دی جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8926
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (أَلَا هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ) ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں۔ تین بار فرمایا۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8926]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2670، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3655»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8927
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أُصَلِّي وَلَا أَنَامُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام کا ایک گروہ آیا، ان میں سے کسی نے کہا: میں شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا: میں نماز پڑھوں گا اور سوؤں گا نہیں، کسی نے کہا: میں روزے رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8927]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13568»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں