الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي اِمَاطَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيْقِ وَارْشَادِ الضَّالِ
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9141
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا عَنِ الطَّرِيقِ فَأُدْخِلَ بِهَا الْجَنَّةَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک درخت سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی، پس ایک آدمی نے اس کو کاٹ کر راستے سے دور کر دیا اور اس وجہ سے اس کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9141]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: ص 2021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8026»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9142
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِجِذْلِ شَوْكٍ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ لَأُمِيطَنَّ هَذَا الشَّوْكَ عَنِ الطَّرِيقِ أَنْ لَا يَعْقِرَ رَجُلًا مُسْلِمًا قَالَ فَغُفِرَ لَهُ
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان آدمی کا ایسے راستے سے گزر ہوا، جس پر کانٹوں والا تنہ تھا، اس نے کہا: میں ضرور ضرور ان کانٹوں کو راستے سے ہٹا دوں گا، تاکہ کوئی مسلمان زخمی نہ ہو جائے، پس اس وجہ سے اس کو بخش دیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9142]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8479»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9143
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلَ عَبْدٌ الْجَنَّةَ بِغُصْنِ شَوْكٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَأَمَاطَهُ عَنْهُ
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی خاردار شاخ کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گیا، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ مسلمانوں کے راستے پر تھی اور اس نے اس کو ہٹا دیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9143]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9235»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9144
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي عَلَى طَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ فَقَالَ لَأَرْفَعَنَّ هَذَا لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ لِي فَرَفَعَهُ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ بِهِ وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ
۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی راستے پر جا رہا تھا، وہاں اس نے کانٹے دار شاخ پائی اور کہا: میں اس کو ضرور ضرور دور کروں گا، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وجہ سے مجھے بخش دے، پس اس نے اس کو ہٹا دیااور اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش کر جنت میں داخل کر دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9144]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10294»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9145
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ شَجَرَةٌ فِي طَرِيقِ النَّاسِ تُؤْذِي النَّاسَ فَأَتَاهَا رَجُلٌ فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگوں کے راستے میں ایک درخت تھا، اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، پس ایک آدمی آیا اور اس کو لوگوں کی گزرگاہ سے ہٹا دیا، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس تحقیق میں نے اس بندے کو دیکھا کہ وہ جنت میں اس درخت کے سائے میں حسب ِ منشا زندگی گزار رہا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9145]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 3058، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12599»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9146
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَتَلْتُ عَبْدَ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِسِتْرِ الْكَعْبَةِ وَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ (وَفِي رِوَايَةٍ) عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ فَقَالَ أَمِطِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عبد العزی بن خطل کو قتل کیا، جبکہ وہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں، جس سے میں فائدہ حاصل کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کر، یہ تیرے لیے صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9146]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2618، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20040»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9147
(وَفِي لَفْظٍ) قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ فَقَالَ انْظُرْ مَا يُؤْذِي النَّاسَ فَاعْزِلْهُ عَنْ طَرِيقِهِمْ
۔ (ایک روایت میں ہے): میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی چیز کی خبر دیں، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، جو چیز لوگوں کو تکلیف دے رہی ہو، اس کو راستے سے ہٹا دو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9147]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20027»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9148
(وَفِي لَفْظٍ آخَرَ) قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ أَوْ أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ
۔ (ایک روایت میں ہے) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے ایسے عمل کی نشاندہی کرو، جو مجھے جنت میں داخل کر دے یا جس سے میں فائدہ حاصل کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاؤ۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9148]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20030»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9149
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ وَرَأَيْتُ فِي مَسَاوِي أَعْمَالِهَا النُّخَامَةَ تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے میرے امت کے اچھے اور برے عمل پیش کیے گئے، میں نے اچھے اعمال میں راستے سے ہٹا دی جانے والی تکلیف دہ چیز کو اور برے اعمال میں مسجد میں پڑی ہوئی اس بلغم کو دیکھا، جس کو دفن نہیں کیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9149]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 553، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21882»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9150
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ زَحْزَحَ عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا يُؤْذِيهِمْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ حَسَنَةً وَمَنْ كُتِبَ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةٌ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کے راستے سے ایسے چیز کو ہٹا دیا، جو ان کو تکلیف دیتی تھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی لکھے گا اور جس کے لیے نیکی لکھ دی گئی، اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9150]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 32، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28027»
الحكم على الحديث: صحیح