🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ
اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9152
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں پسندیدہ لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں اور اخلاق اچھے ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9152]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 254، والبزار: 1971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9224»
وضاحت: فوائد: … دنیا کی زندگی آخرت کی تیاری کا واحد ذریعہ ہے، اربوں انسان آئے اور اپناکردار ادا کر کے اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گئے، ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد آنے والوں کے ساتھ بھییہی کچھ ہو گا۔ ماضی ہو یا حال و مستقبل، سعادت مند وہ ہے جو دنیا میں رہ کر جنت کے زیادہ سے زیادہ اسباب جمع کرے۔سیدنا عبد اللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو بدو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((طُوْبٰی لِمَنْ طَالَ عُمُرُہٗوَحَسُنَعَمَلُہُ۔)) (صحیحہ: ۱۸۳۶) … اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال نیک ہوں۔
جو انسان اس صفت سے محروم رہے گا،وہ دنیاو آخرت کی خیر و بھلائی سے محروم رہے گا، ایسا انسان دن بدن اللہ تعالیٰ کا مقروض ہوتا جا ئے گا، ایسا بیچارہ نہ تو زندہ ہے کہ وہ زندگی سے فائدہ اٹھا سکے اور نہ مردہ ہے کہ نیک اعمال ترک کرنے اور برے اعمال کا ارتکاب کرنے پر اسے ملامت نہ کیا جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9153
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمنوں میں ایمان کے لحاظ سے کامل ترین وہ لوگ ہیں جن کااخلاق اچھا ہو اور ان میں سب سے بہتر وہ ہیں، جو اپنی بیویوں کے لیے بہتر ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9153]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7396»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9154
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ النَّاسُ بِهِ النَّارَ فَقَالَ الْأَجْوَفَانِ الْفَمُ وَالْفَرْجُ وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ بِهِ النَّاسُ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُسْنُ الْخُلُقِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کس چیز کی وجہ سے لوگ سب سے زیادہ آگ میں گھسیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَجْوَفَانِ، یعنی منہ اور شرمگاہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ کس عمل کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسن اخلاق۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9154]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 4246، والترمذي: 2004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7894»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9155
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مجھے اس مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اخلاقِ صالحہ کی تکمیل کروں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9155]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البزار: 2740، والبيھقي: 10/ 191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8939»
وضاحت: فوائد: … ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کی وجہ سے عرب سب سے اچھے اخلاق والے تھے، لیکن بعد میں کفر و شرک کی وجہ سے گمراہ ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی سابق اخلاقی اقدار کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9156
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے، جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9156]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3759، 6029، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6767م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6767»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9157
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَأَعَادَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ الْقَوْمُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَحْسَنُكُمْ خُلُقًا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو اس شخص کے بارے میں بتلا دوں جو روزِ قیامت مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو تین دفعہ اسی بات کو دوہرایا، پھر لوگوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9157]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 272، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6735»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9158
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّوَّامِ الْقَوَّامِ بِآيَاتِ اللَّهِ بِحُسْنِ خُلُقِهِ وَكَرَمِ ضَرِيبَتِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک (اعتدال اور دوام کے ساتھ) راہِ صواب پر چلنے والا مسلمان اپنے حسن اخلاق اور طبعی عفو و درگزر کی وجہ سے اس آدمی کا درجہ پا لیتا ہے جو بہت زیادہ روزے رکھنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی اٰیات کے ساتھ بہت زیادہ قیام کرنے والا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9158]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير و الاوسط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6648»
وضاحت: فوائد: … حسن اخلاق اور عفو و درگذر میں نفس کو ضبط کرنا پڑتا ہے اور ان اعمال سے دل کو تسکین ملتی ہے، مسلم معاشرے میں بہترین ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9159
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ الْخُلُقِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ (وَفِي لَفْظٍ) دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی حسن اخلاق کے ذریعے رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9159]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4798، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25527»
وضاحت: فوائد: … جس آدمی نے حسن اخلاق کو اپنا لیا، وہ یہ سمجھتا ہے کہ سب سے آسان عمل حسن اخلاق اور لوگوں کے ساتھ اچھے موڈ میں رہنا ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ اہل اسلام کی اکثریت کو سرے سے حسن اخلاق کے تقاضوں کا شعور ہی نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9160
عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ (وَفِي رِوَايَةٍ) كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِی فاَحْسِنْ خُلُقِی۔ اللہ! تو نے میری تخلیق کو خوبصورت بنایا، پس میرے اخلاق کو بھی خوبصورت بنا دے)۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9160]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 374، والبيھقي في الشعب: 8543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25736»
وضاحت: فوائد: … جس حدیث میں اس دعا کو آئینہ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، اس کو ابن سنی نے روایت کیا ہے، لیکن وہ روایت ضعیف ہے۔ لہٰذا یہ دعا تو ثابت ہے، لیکن اس کا کسی موقع کے ساتھ خاص کرنا ثابت نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی تخلیق کے حسن کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9161
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَتَذَاكَرُ مَا يَكُونُ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ فَصَدِّقُوا وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَيَّرَ عَنْ خُلُقِهِ فَلَا تُصَدِّقُوا بِهِ وَإِنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو الدرادء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئندہ ہونے والے امور کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ ایک پہاڑ اپنی جگہ سے سرک گیا ہے تو تصدیق کر لو، لیکن جب تم سنو کہ کسی آدمی کا اخلاق تبدیل ہو گیا ہے تو اس بات کی تصدیق نہ کرو، کیونکہ وہ عنقریب اسی اخلاق کی طرف لوٹے گا،جس پر اس کی فطرت بنائی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9161]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الزھري لم يدرك ابا الدرداء، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28047»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر دیکھایہ گیا ہے کہ لوگوں کی عملی اور علمی کی کیفیات بدلتی رہتی ہیں، لیکن ان کے اخلاق اور مزاج تبدیل نہیں ہوتے، کئی افراد کو دیکھا کہ ان کی عبادت کی روٹین بہت اچھی ہوتی ہے، لیکن جب ان کا خلافِ مزاج امور سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ بداخلاق، زبان دراز، سخت گو اور گالی گلوچ کرنے والے ثابت ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں