الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب
باب
حدیث نمبر: 9354
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَيْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي يَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجَدْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّالِحِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا حُطَّتْ عَنْهُ خَطِيئَةٌ وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف ہونے لگی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکایت کرنے لگے اور اپنے بستر پر الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، میں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: اگر ہم میں سے کوئی فرد اس طرح کرتا تو آپ نے اس کی بات تو محسوس کرنی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نیکوکاروں پر تکلیف سخت ہوتی ہے، اور صورتحال یہ ہے کہ مؤمن کو جو تکلیف بھی لاحق ہوتی ہے، وہ کانٹا ہو یا اس سے کوئی بڑی چیز، اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9354]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 3/ 391، والحاكم: 1/ 345، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25778»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9355
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ صَبَرَ فَلَهُ الصَّبْرُ وَمَنْ جَزِعَ فَلَهُ الْجَزَعُ
۔ سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو آزماتا ہے، پس جو صبر کرنا چاہے گا تو اس کے لیے صبر ہو گا اور جو بے صبرا بنے گا، اس کے لیے بے صبری ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9355]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24041»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9356
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَجَعَلَ يُلَاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ مَهْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ ذَهَبَ بِالشِّرْكِ (وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً) ذَهَبَ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَجَاءَنَا بِالْإِسْلَامِ فَوَلَّى الرَّجُلُ فَأَصَابَ وَجْهَهُ الْحَائِطُ فَشَجَّهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ لَكَ خَيْرًا إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَفَّى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَيْرٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، ایک ایسی خاتون کو ملا، جو جاہلیت میں زانیہ رہ چکی تھی، وہ اس سے اٹھ کھیلیاں کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ اس کو لگا دیا، اس پر اس عورت نے کہا: رک جا، بیشک اللہ تعالیٰ شرک اور جاہلیت کو لے گیا ہے اور ہمارے پاس اسلام کو لے آیا ہے، پس وہ آدمی چلا گیا اور واپسی پر اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور زخمی ہو گیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا واقعہ بتلا دیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کے گناہ کی سزا دینے میں جلدی کرتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ شرّ کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے اس کے گناہ کی سزا روک لیتا ہے، یہاں تک کہ روزِ قیامت اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، گویا کہ وہ عِیر پہاڑ ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9356]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 2911، والحاكم: 1/ 349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16929»
وضاحت: فوائد: … عِیْر سے دو چیزیں مراد لی جا سکتی ہیں: (۱) مدینہ منورہ کا عیر پہاڑ، یا (۲) وحشی گدھا، مفہوم یہ ہے کہ ایسے فرد کے گناہوں کو جمع کیا جاتا ہے، تاکہ اس کی ہلاکت کا سبب بن سکیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9357
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ اس کے پاس اس قدر اعمال نہیں ہوتے کہ جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو غموں کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ ان کے ذریعے اس کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9357]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، أخرجه البزار: 3260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25750»
وضاحت: فوائد: … صبر کی تین اقسام ہیں:
۱۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر صبر کرنا۔
۲۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرنے پر صبر کرنا۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنا۔
اس معنی میں ہر نیکی کرنے اور ہر برائی سے بچنے کا سرچشمہ صبر ہے۔ اگر کوئی حقیقی صابر بن جائے تو اس پر تمام شرعی احکام کے تقاضے پورے کرناآسان ہو جاتے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَیْراً لَّہُ وَلَا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔)) … بندے کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی گئی جو اس کے لیے صبر کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔ (حاکم: ۲/ ۴۱۴، صحیحہ: ۴۴۸)
ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے یہ سبق بھی ملا کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں ہوتیں، بلکہ یہ امتحانات تو بلندیٔ درجات کا سبب بنتے ہیں۔
۱۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر صبر کرنا۔
۲۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرنے پر صبر کرنا۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنا۔
اس معنی میں ہر نیکی کرنے اور ہر برائی سے بچنے کا سرچشمہ صبر ہے۔ اگر کوئی حقیقی صابر بن جائے تو اس پر تمام شرعی احکام کے تقاضے پورے کرناآسان ہو جاتے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَیْراً لَّہُ وَلَا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔)) … بندے کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی گئی جو اس کے لیے صبر کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔ (حاکم: ۲/ ۴۱۴، صحیحہ: ۴۴۸)
ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے یہ سبق بھی ملا کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں ہوتیں، بلکہ یہ امتحانات تو بلندیٔ درجات کا سبب بنتے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف