الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ النِّفَاقِ وَذِكْرِ الْمُنَافِقِينَ وَخِصَالِهِمْ وَذِي الْوَجْهَيْنِ
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
حدیث نمبر: 9741
عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَقِيَ نَاسًا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ جَاءَ هَؤُلَاءِ فَقَالُوا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ الْأَمِيرِ مَرْوَانَ قَالَ وَكُلُّ حَقٍّ رَأَيْتُمُوهُ تَكَلَّمْتُمْ بِهِ وَأَعَنْتُمْ عَلَيْهِ وَكُلُّ مُنْكَرٍ رَأَيْتُمُوهُ أَنْكَرْتُمُوهُ وَرَدَدْتُمُوهُ عَلَيْهِ قَالُوا لَا وَاللَّهِ بَلْ يَقُولُ مَا يُنْكَرُ فَنَقُولُ قَدْ أَصَبْتَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ قُلْنَا قَاتَلَهُ اللَّهُ مَا أَظْلَمَهُ وَأَفْجَرَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا بِعَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعُدُّ هَذَا نِفَاقًا لِمَنْ كَانَ هَكَذَا
۔ محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کو ملے، وہ مروان کو مل کر باہر آ رہے تھے، انھوں نے کہا: یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہم مروان امیر کے پاس سے آئے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اور تم نے وہاں جو حق دیکھا، اس کے بارے میں بات کی اور مروان کی مدد کی اور تم نے وہاں جو برائی دیکھی، اس کا انکار کیا اور مروان پر اس کا ردّ کیا؟ انھوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! بلکہ مروان کی قابل انکار باتوں کے بارے میں بھی ہم نے کہا: تو نے درست کیا ہے، اللہ تیری اصلاح کرے، پس جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو آپس میں کہا: اللہ اس مروان کو ہلاک کرے، یہ کتنا ظالم اور برا آدمی ہے، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اس قسم کی کاروائی کو نفاق شمار کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9741]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مختصرا البخاري: 7178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5373»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9742
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَهَذِهِ تَتْبَعُ أَمْ هَذِهِ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق بیچارے کی مثال اس بکری کی طرح ہے، جو دو ریوڑوں کے درمیان کسی ایک کے ساتھ شامل ہونے میں متردد ہو، شش و پنج کے ساتھ کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی اُس ریوڑ کے ساتھ، وہ یہ نہیں جانتی کہ اس کے پیچھے چلے گی یا اُس کے پیچھے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9742]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5079»
وضاحت: فوائد: … منافقین کے لیے اس سے زیادہ مناسب مثال ممکن نہیں اور اس میں ان کی انتہائی توہین ہے کہ ان کو مؤنث سے تشبیہ دی گئی ہے، گویا وہ مردانہ صفات سے عاری ہیں اور کمینوں کی طرح مال کی طلب میں کبھی مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں اور کبھی کافروں کی، کبھی مسلمانوں کا ہم نوا بننے کا دعوی کرتے ہیں اور کبھی کافروں کے ساتھ دوستی دعوے کر رہے ہوتے ہیں، لیکن تسلی پھر بھی نہیں ہوتی، حیران و پریشان ہی رہتے ہیں، نہ مسلمان ان کو اپنا سمجھتے ہیں اور نہ کافر۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2784
حدیث نمبر: 9743
عَنِ ابْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ بِمَكَّةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَعَهُ فَقَالَ أَبِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ الْمُنَافِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالشَّاةِ بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ مِنَ الْغَنَمِ إِنْ أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحَتْهَا وَإِنْ أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحَتْهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ كَذَبْتَ فَأَثْنَى الْقَوْمُ عَلَى أَبِي خَيْرًا أَوْ مَعْرُوفًا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَا أَظُنُّ صَاحِبَكُمْ إِلَّا كَمَا تَقُولُونَ وَلَكِنِّي شَاهِدٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ كَالشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ فَقَالَ هُوَ سَوَاءٌ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتُهُ
۔ عبید کہتے ہیں: میں ایک دن مکہ مکرمہ میں بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، میرے باپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہو گی، جو بکریوں کے دو باڑوں کے درمیان ہو، اگر اس باڑے میں جائے تو وہ بکریاں اس کو مارتی ہیں اور اگر اُس میں جائے تو اس والی مارتی ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو غلط کہہ رہا ہے، لیکن لوگوں نے میرے باپ کی تعریف کی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں بھی تمہارے ساتھی کو خیر والا سمجھتا ہوں، جیسے تم سمجھ رہے ہو، لیکن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کَالشَّاۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ کے الفاظ فرمائے تھے۔ انھوں نے کہا: معنی تو ایک ہی ہے، لیکن سیدنا ابن عمر نے کہا: میں نے تو یہی الفاظ سنے تھے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9743]
تخریج الحدیث: «رجال ثقات، غير مصعب بن سلام، ففيه ضعف، وقد توبع، أخرجه ابن حبان: 264، والدارمي: 1/ 93، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5546»
الحكم على الحديث:
رجال ثقات
حدیث نمبر: 9744
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ بِهَا مُنَافِقًا وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فِي الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں اگر کوئی آدمی اس قسم کی بات کرتا تو وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، اور اب میں تم سے اس قسم کی باتیں ایک ایک مجلس میں دس دس دفعہ سنتا ہوں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9744]
تخریج الحدیث: «اثر حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23667»
وضاحت: فوائد: … غیر محتاط گفتگو سے بچنا چاہیے، بعض لوگ عام گفتگو میں انتہائی فحش گالیاں نکالتے ہیں، بعض شریعت کے ساتھ مذاق تک کر جاتے ہیں، بعض ایک دوسرے کو لعنتی اور کافر کہہ دیتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اثر حسن
حدیث نمبر: 9745
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ فِيكُمْ مُنَافِقِينَ فَمَنْ سَمَّيْتُ فَلْيَقُمْ ثُمَّ قَالَ قُمْ يَا فُلَانُ قُمْ يَا فُلَانُ حَتَّى سَمَّى سِتَّةً وَثَلَاثِينَ رَجُلًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ قَالَ فَمَرَّ عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ مِمَّنْ سَمَّى مُقَنَّعٍ قَدْ كَانَ يَعْرِفُهُ قَالَ مَا لَكَ قَالَ فَحَدَّثَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بُعْدًا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ
۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک تم میں منافق موجود ہیں، میں جس جس کا نام لیتا جاؤں، وہ کھڑا ہو تا جائے، او فلاں! تو کھڑا ہو جا، او فلاں! تو بھی کھڑا ہو جا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھتیس مردوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: تم میں منافق ہیں، پس اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ۔ سیدنا عمر ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کانام لیا گیا تھا، اس نے کپڑا اوڑھا ہوا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو پہچانتے تھے، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: دوری ہو تیرے لیے باقی دن۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9745]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عياض الراوي عن ابي مسعود، ومتنه منكر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22705»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عياض الراوي عن ابي مسعود
حدیث نمبر: 9746
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدَكُمْ فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کو اپنا سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ تمہارا سردار ہوا تو تم اپنے ربّ کو ناراض کر دو گے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9746]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4977، والترمذي: 982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23327»
وضاحت: فوائد: … عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اگر تم منافق کو سید کہو گے تو اس سے اس کی تعظیم لازم آئے گی، حالانکہ وہ عزت و عظمت کا مستحق نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی تمہارا سید نہیں ہو سکتا، اس لیے اس کے لیےیہ لقب استعمال کرنا محض جھوٹ اور نفاق ہو گا۔ نیز اس حدیث ِ مبارکہ کا یہ مفہوم بھی درست ہو گا کہ اگر تم کسی منافق کو اپنا سید تسلیم کرو گے، تو تم پر ضروری ہو گا کہ اس کی اطاعت بھی کرو اور اگر تم نے اس کی اطاعت کی تو اپنے رب کو ناراض کر دو گے۔ ابن اثیر نے کہا: منافق کو سید نہ کہا کرو، کیونکہ اگر تم نے اس کو اپنا سید قرار دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم خود اس سے کمتر ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اس مرتبے کو پسند نہیں کرے گا۔ (عون المعبود)
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 9747
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ وَلَا يَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دُبُرًا مُسْتَكْبِرِينَ لَا يَأْلَفُونَ وَلَا يُؤْلَفُونَ خُشُبٌ بِاللَّيْلِ صُخُبٌ بِالنَّهَارِ (وَفِي رِوَايَةٍ) سُخُبٌ بِالنَّهَارِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک منافقوں کی کچھ علامتیں ہیں، ان کے ذریعے ان کو پہچانا جاتا ہے، ان کا سلام لعنت ہوتا ہے، ان کا کھانا غصب شدہ ہوتا ہے، ان کی غنیمت چوری کی ہوئی ہوتی ہے، وہ مسجدوں کے قریب نہیں آتے، مگر ان کو چھوڑنے کے لیے، نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد نماز کے لیے آتے ہیں، وہ تکبر کرنے والے ہوتے ہیں، وہ انس کرتے ہیں نہ ان سے مانوس ہوا جاتا ہے، وہ رات کو لکڑیوں کی طرح پڑے رہتے ہیں اور دن کو شور و غل کرنے والے اور جھگڑا کرنے والے ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9747]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الملك بن قدامة، وجھالة اسحاق بن بكر، أخرجه البزار: 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7913»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الملك بن قدامة
حدیث نمبر: 9748
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کی علامتیں تین ہیں: جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کو امین بنایا جاتا ہے تو وہ خیانت کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9748]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 33، 2682، 2749، ومسلم: 59، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8670»
وضاحت: فوائد: … یہ عملی نفاق کی علامتیں ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 33
حدیث نمبر: 9749
وَعَنْهُ أَيْضًا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا، جو ایک رخ کے ساتھ اِن کے پاس آتا ہے اور ایک رخ کے ساتھ اُن کے پاس جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9749]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3494، ومسلم: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7337»
وضاحت: فوائد: … دورخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے باور کرائے کہ وہ اس کا خیرخواہ اور اس کے حق میں مخلص ہے اور دوسرے کا مخالف، لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو وہاں ان کے لیے باوفا ہونے کا تاثر دے۔ یہ بدترین شخص ہے، ایسا شخص جھوٹا ہوتا ہے اور اپنی زندگی میں ہی اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔
اِن کے سامنے اِن کا دوست اور اُن کا دشمن اور اُن کے پاس اُن کا دوست اور اِن کا دشمن۔ سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا شخص امانتدار نہیں ہو سکتا ہے، امانتدار بننے کے لیے تو اپنوں کے لحاظ اور غیروں کے عدم لحاظ کو بھی بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے امین ہونے کی وجہ سے ایسا شخص آپ کے پاس امانت رکھ دے، جس کو آپ کے بڑے، دشمن سمجھتے ہوں۔ لیکن دو رخا آدمی ایسی ذمہ داری ادا کرنے سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
مومن کو متنبہ رہنا چاہئے کہ وہ مستقل مزاج ہوتا ہے، اس کا معیار شریعت ہے، وہ اپنوں اوربیگانوں کے فرق سے بالاتر ہوتا ہے، جو آدمی شریعت کی روشنی میں اچھا ہے، وہ اس کے نزدیک اچھا ہونا چاہئے اور جو شخص شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک برا ہے، وہ اس کے نزدیک بھی برا ہونا چاہئے۔ مومن کو چاہئے کہ برے لوگوں کی اصلاح کرے، نہ کہ دوسرے لوگوں کے سامنے ان سے دشمنی کا اظہار کر کے اس کے عیوب کو اچھالتا پھرے۔
اِن کے سامنے اِن کا دوست اور اُن کا دشمن اور اُن کے پاس اُن کا دوست اور اِن کا دشمن۔ سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا شخص امانتدار نہیں ہو سکتا ہے، امانتدار بننے کے لیے تو اپنوں کے لحاظ اور غیروں کے عدم لحاظ کو بھی بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے امین ہونے کی وجہ سے ایسا شخص آپ کے پاس امانت رکھ دے، جس کو آپ کے بڑے، دشمن سمجھتے ہوں۔ لیکن دو رخا آدمی ایسی ذمہ داری ادا کرنے سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
مومن کو متنبہ رہنا چاہئے کہ وہ مستقل مزاج ہوتا ہے، اس کا معیار شریعت ہے، وہ اپنوں اوربیگانوں کے فرق سے بالاتر ہوتا ہے، جو آدمی شریعت کی روشنی میں اچھا ہے، وہ اس کے نزدیک اچھا ہونا چاہئے اور جو شخص شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک برا ہے، وہ اس کے نزدیک بھی برا ہونا چاہئے۔ مومن کو چاہئے کہ برے لوگوں کی اصلاح کرے، نہ کہ دوسرے لوگوں کے سامنے ان سے دشمنی کا اظہار کر کے اس کے عیوب کو اچھالتا پھرے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3494
حدیث نمبر: 9750
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَجِدُ شَرَّ النَّاسِ (وَقَالَ يَعْلَى تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ) عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو قیامت کے دن لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا۔ ابن نمیر نے کہا: اس سے مراد وہ آدمی ہے جو اِن کے پاس اُن کی بات کرتا ہے اور اُن کے پاس اِن کی بات کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9750]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10432»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10432