🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الثلاثِيَّاتِ الْمَبْدُونَةِ بِعَدَدِ
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9985
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ الْكِبْرَ وَالدَّيْنَ وَالْغُلُولَ) )
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی روح اس حال میں اس کے جسم سے جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا، ایک تکبر، دوسری قرض اور تیسری خیانت۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9985]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 1572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22727»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9986
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (ثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ فَمَاتَ وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا قَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ وَثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رِدَاءَهُ فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرِيَاءُ وَإِزَارَهُ الْعِزَّةُ وَرَجُلٌ شَكَّ فِي أَمْرِ اللَّهِ وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) )
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کے (جرم کی سنگینی) بارے میں سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جو جماعت سے علیحدہ ہو گیا، اپنے امام کی نافرمانی کی اور اس نافرمانی کے دوران ہی فوت ہو گیا، (۲) وہ لونڈی یا غلام جو آقا سے بھاگ گیااور اسی حالت میں مر گیا، اور (۳) وہ عورت کہ جس کا خاوند اس سے غائب تھا، جبکہ اس نے اس کے دنیا کے اخراجات پورے کیے ہوئے تھے، لیکن اس خاتون نے اپنے خاوند کے بعد (غیروں کے لیے) بناؤ سنگھار کیا، پس تو ان نافرمانوں کے بارے میں سوال نہ کر۔ تین افراد اور بھی ہیں، ان کے (جرم کی سنگینی) کے بارے میں بھی سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ سے اس کی چادر چھیننا چاہی یعنی تکبر کرنا چاہا، پس بیشک اس کی چادر تکبر ہیں اور اس کا ازار اس کی بڑائی ہے، (۲) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے معاملے میں شک کیا اور (۳) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9986]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 3749، وابن حبان: 4559، والحاكم: 1/ 119، والطبراني في الكبير: 18/ 790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24441»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9987
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِابْنِ السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثَةٌ لَتُتَابِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ فَقَالَ مَا هُنَّ بَلْ أَنَا أُتَابِعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتِ اجْتَنِبِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً فَقَالَتْ إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا فَلَا تُمِلَّ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنِ اتْرُكْهُمْ فَإِذَا جَرَّؤُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ
۔ امام شعبی کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اہل مدینہ کے واعظ ابن سائب سے کہا: یا تو تو تین چیزوں پر میری موافقت کرے گا، یا میں تجھ سے مقابلہ کروں گی، انھوں نے کہا: وہ کون سی چیزیں ہیں؟ اے ام المؤمنین! میں آپ کی موافقت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱)دعا میں سجع کلام سے بچ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایسے نہیں کرتے تھے، (۲)لوگوں کو ایک ہفتے میں ایک دفعہ وعظ کر، اگر تو انکار کرے تو دو بار کر لے، اگر یہ بھی تسلیم نہ کرے تو تین دفعہ کر لیا کر، لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس حالت میں نہ پاؤں کہ تو لوگوں کے پاس آئے، جبکہ وہ آپس میں گفتگو کر رہے ہوں اور تو آ کر ان کی بات کو کاٹ دے، تو نے ان کو چھوڑے رکھنا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ خود تجھے جرأت دلائیں اور بات کرنے کا حکم دیں تو پھر تو ان سے باتیں کر۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9987]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 199، وابن حبان: 978، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26340»
وضاحت: فوائد: … کیا کمال نصیحتیں کی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے، یہ اسلام کے سنہری قوانین ہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9988
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الدَّوَاوِينُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ دِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا وَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ} وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ مِنْ صَوْمِ يَوْمٍ تَرَكَهُ أَوْ صَلَاةٍ تَرَكَهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ ذَلِكَ وَيَتَجَاوَزُ إِنْ شَاءَ وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں تین قسم کے دیوان ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایک دیوان کی تو کوئی پروا نہیں کرتا، ایک دیوان میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑے گا اور ایک دیوان کو معاف نہیں کرے گا۔ پس وہ دیوان جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام قرار دے گا۔جس دیوان میں سے اللہ تعالیٰ کسی چیز کی پروا نہیں کرے گا، وہ بندے کا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے، اس چیز کا تعلق اس کے اور اس کے ربّ کے مابین ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک دن کا روزہ ترک کر دیا اور ایک نماز چھوڑ دی، پس بیشک اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس کو بخش دے گا اور اس سے تجاوز کر جائے گا، اور جس دیوان میں اللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں چھوڑے گا، وہ ہے بندوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرنا، ان میں لامحالہ طور پر قصاص لیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9988]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسي، أخرجه الحاكم: 4/ 575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26559»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9989
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ہیں، جس آدمی میں وہ ہوں گی، وہ منافق ہو گا، اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور یہ گمان کرتا ہو کہ وہ مسلمان ہے، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزیکرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9989]
تخریج الحدیث: «اسناده الأول صحيح علي شرط مسلم، وھو حديث له اسنادان، أخرجه ابوعوانة: 1/ 21، وابن حبان: 257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10938»

الحكم على الحديث:
اسناده الأول صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں