الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الْمَالِ
مال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10063
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ يَا عَائِشَةُ مَا فَعَلَتِ الذَّهَبُ فَجَاءَتْ مَا بَيْنَ الْخَمْسَةِ إِلَى السَّبْعَةِ أَوِ الثَّمَانِيَةِ أَوِ التِّسْعَةِ فَجَعَلَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ لَقِيَهُ وَهَذِهِ عِنْدَهُ أَنْفِقِيهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت کے دوران فرمایا: عائشہ! اس سونے کا کیا بنا؟ یہ سن کر سیدہ چھ سات یا آٹھ یا نو دینار نکال لائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے اور فرمایا: محمد کا اللہ کے بارے میں کیا گمان ہو گا، اگر وہ اس کو اس حال میں ملے کہ یہ دینار اس کے پاس ہوں، ان کو خرچ کر دو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10063]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحميدي: 283، وابن ابي شيبة: 3/ 238، وابن حبان: 3212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24726»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10064
عَنْ شَقِيقٍ قَالَ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ إِنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا بِعْتُ أَرْضًا لِي بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَالَتْ أَنْفِقْ يَا بُنَيَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَتَاهَا فَقَالَ بِاللَّهِ أَنَا مِنْهُمْ قَالَتْ اللَّهُمَّ لَا وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ
۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو جاؤں گا، کیونکہ قریشیوں میں سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے اور اب میں نے چالیس ہزار دینار کی ایک زمین بیچی ہے، سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا مال خرچ کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک میرے بعض ساتھی ایسے ہیں کہ جب میں (وفات کے وقت) ان سے جدا ہوں گا تو وہ بعد میں مجھے نہیں مل سکیں گے۔ پس میں عبد الرحمن، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو یہ حدیث سنائی، وہ سیدہ کے پاس پہنچے اور کہا: اللہ کی قسم! کیا میں ان میں سے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اور آپ کے بعد میں ہر گز کسی کو بری نہیں کروں گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10064]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 2496، وابويعلي: 7003، والطبراني في الكبير: 23/ 724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27229»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10065
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحْسَابَ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِينَ يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ هَذَا الْمَالُ
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اہل دنیا جس حسب کو اختیار کرتے ہیں، وہ مال ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10065]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه النسائي: 6/ 64، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23378»
وضاحت: فوائد: … ہر ایک کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ اس وقت منقبت و عظمت اور معرفت و شناخت کی بنیاد مال و دولت پر ہے، پچھلے ادوار میں اسلام اور نسب کو بڑائی کی علامت سمجھا جاتا تھا، لوگ مال سے متأثر نہیں ہوتے تھے، لیکن اب نظام مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، اب مال و دولت اور سرمائے کا عروج ہے، یہی شان ہے، یہی آن ہے، یہی نسب ہے، یہی حسب ہے، غریب رشتہ دار کیا، محتاج بھائی کو بھی کوئی قریب نہیں پھٹکنے دیتا۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 10066
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِفِضَّةٍ فَقَالَ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ لَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَتَكُونُ مَعَادِنُ يَحْضُرُهَا شِرَارُ النَّاسِ
۔ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنے دادا سے بیان کرتا ہے کہ وہ چاندی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ ہماری ایک کان کی چاندی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کانیں ہوں گی، لیکن بدترین لوگ ان پر حاضر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10066]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الصغير: 426، وفي الاوسط: 3556، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24045»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانیjکہتے ہے: معادن (کانیں) ان مقامات کو کہتے ہیں، جہاں سے سونے، چاندی اور تانبے جیسے زمینی جواہر برآمد ہوتے ہیں، اس کی واحد معدِن ہے۔ کوئی شک نہیں کہ کافر لوگ ہی بدترین ہوتے ہیں۔ عربوں کے زمینی خزانے نکالنے کے لیےیورپیوں اور امریکیوں کو وہاں لانے کی وجہ سے مسلمان جس آزمائش میں مبتلا ہیں، اس حدیث میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واللہ المستعان۔ (صحیحہ: ۱۸۸۵)
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 10067
عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ امْرَأَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَذَاكَرَا الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَى اللَّهَ
۔ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور پھر دونوں نے دنیا کا ذکر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے، جو اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مال میں گھس تو جاتے ہیں، لیکن جس دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے، اس دن ان کے لیے آگ ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10067]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27594»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10068
عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَامِرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ رِجَالًا يَتَخَوَّضُونَ فِي مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِغَيْرِ حَقٍّ لَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدہ خولہ بنت ثامر انصاریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے اور جو لوگ بغیر حق کے اللہ کے مال میں گھس جاتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمَدْحِ وَالدَّمِّ/حدیث: 10068]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27861»
وضاحت: فوائد: … اس دور میں پائی جانے والی ایک بدخصلت یہ بھی ہے کہ کئی لوگ مال و دولت کے حصول کے معاملے میں حلت و حرمت کا خیال نہیں رکھتے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3118