الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ ذِكْرِ نَبِيِّ اللَّهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
حدیث نمبر: 10357
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ فَقَالَ أَلَمْ أُغْنِكَ يَا أَيُّوبُ قَالَ يَا رَبِّ وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ أَوْ قَالَ مِنْ فَضْلِكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں گرائی گئیں، انھوں نے ان کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا، اللہ تعالیٰ نے کہا: اے ایوب کیا میں نے تجھے کو غنی نہیں کر دیا؟ انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! بھلا کون تیری رحمت یا تیرے فضل سے سیر ہو سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10357]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 279، 3391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8025»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10358
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أُغْنِيكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایوب ننگے ہو کر غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گر پڑیں، انھوں نے ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنا شروع کر دیا، ربّ تعالیٰ نے آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کر دیا، جو تو دیکھ رہا ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے ربّ! لیکن تیری برکتوں سے مجھے کوئی غِنٰی نہیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10358]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8144»
وضاحت: فوائد: … ایوب علیہ السلام نے اس سونے کو اللہ تعالیٰ کی برکت سمجھ کر اکٹھا کرنا شروع کر دیا، نہ کہ مال سمجھ کر۔
معلوم ہوا کہ جب آدمی اکیلا ہو، اس وقت ننگا ہو کر نہا سکتا ہے، کیونکہ نہ اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو ڈانٹا اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد مزید کوئی وضاحت کی۔
معلوم ہوا کہ جب آدمی اکیلا ہو، اس وقت ننگا ہو کر نہا سکتا ہے، کیونکہ نہ اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو ڈانٹا اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد مزید کوئی وضاحت کی۔
الحكم على الحديث: صحیح