الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ ذِكْرِ نَبِيُّ اللَّهِ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
اللہ کے نبی یونس علیہ السلام کا ذکر
حدیث نمبر: 10359
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ
۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچازاد نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کہا: کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10359]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3413، 7539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3179»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10360
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى نَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ أَصَابَ ذَنْبًا ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا، انھوں نے گناہ کیا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو منتخب کر لیا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10360]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3252»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10361
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى) ) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ مِثْلَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10361]
تخریج الحدیث: «أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1757»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳) اس آیت کا مطلب ہوا کہ بعض انبیاء ورسل کو بعض پر زیادہ فضیلت عطا کی گئی۔
ان احادیث ِ مبارکہ کا مقصود یہ ہے کہ کوئی نبی اور کوئی شخص از راہِ افتخار یا تنقیصیہ نہ کہے کہ وہ یونس علیہ السلام سے بہتر اور افضل ہے، اگر یونس علیہ السلام سے اعلی نبی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے یا کسی اور دینی فائدے کے لیے اپنی فضیلت کی بات بیان کرے تو ایسا کرنے میںکوئی حرج نہیں ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انا سید ولد آدم ولا فخر۔)) … میں اولادِ آدم کا سردارہوں، لیکن اس پر فخر نہیں ہے۔
ان احادیث ِ مبارکہ کا مقصود یہ ہے کہ کوئی نبی اور کوئی شخص از راہِ افتخار یا تنقیصیہ نہ کہے کہ وہ یونس علیہ السلام سے بہتر اور افضل ہے، اگر یونس علیہ السلام سے اعلی نبی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے یا کسی اور دینی فائدے کے لیے اپنی فضیلت کی بات بیان کرے تو ایسا کرنے میںکوئی حرج نہیں ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انا سید ولد آدم ولا فخر۔)) … میں اولادِ آدم کا سردارہوں، لیکن اس پر فخر نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10362
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (لِعَبْدٍ) ) بَدَلَ ( (نَبِيٍّ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: … …، اس حدیث میں نبی کے الفاظ کے بجائے بندے کا لفظ ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10362]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3416، 4631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9244»
الحكم على الحديث: صحیح