صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
29. باب النهي عن ضرب الحيوان في وجهه ووسمه فيه:
باب: جانور کے منہ پر مارنے اور داغ لگانے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2116 ترقیم شاملہ: -- 5550
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ، وَعَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ ".
علی بن مسہر نے ابن جریج سے، انہوں نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ (جانور کو) منہ پر مارا جائے یا منہ پر نشانی ثبت کی جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5550]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چہرے پر مارنے اور چہرے کو داغنے“ سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5550]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2116
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5550
| نهى رسول الله عن الضرب في الوجه عن الوسم في الوجه |
صحيح مسلم |
5552
| لعن الله الذي وسمه |
جامع الترمذي |
1710
| نهى عن الوسم في الوجه والضرب |
سنن أبي داود |
2564
| لعنت من وسم البهيمة في وجهها ضربها في وجهها فنهى عن ذلك |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5550 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5550
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الوسم:
داغ،
علامت،
نشان۔
فوائد ومسائل:
امام نووی فرماتے ہیں،
ہر قابل احترام جاندار کے چہرے پر مارنا ممنوع ہے،
انسان،
گدھا،
گھوڑا،
اونٹ،
خچر اور بھیڑ بکری وغیرہ سب اس میں داخل ہیں،
لیکن آدمی کے چہرے پر مارنا انتہائی ممنوع ہے،
کیونکہ چہرہ تمام محاسن کا مرکز ہے اور لطیف (نرم و نازک)
عضو ہے،
جس پر مار کا اثر و نشان پڑ جاتا ہے اور بسا اوقات اس کی بدصورتی کا باعث بنتا ہے اور بعض دفعہ اس سے جو اس کو تکلیف پہنچ جاتی ہے،
اور چہرے پر داغ دینا بھی جائز نہیں ہے،
انسان کے سوا باقی حیوانات کو چہرے کے سوا داغنا ضرورت کے وقت جائز ہے،
اس طرح چہرے کے سوا ضرورت کے تحت مارنا بھی جائز ہے۔
مفردات الحدیث:
الوسم:
داغ،
علامت،
نشان۔
فوائد ومسائل:
امام نووی فرماتے ہیں،
ہر قابل احترام جاندار کے چہرے پر مارنا ممنوع ہے،
انسان،
گدھا،
گھوڑا،
اونٹ،
خچر اور بھیڑ بکری وغیرہ سب اس میں داخل ہیں،
لیکن آدمی کے چہرے پر مارنا انتہائی ممنوع ہے،
کیونکہ چہرہ تمام محاسن کا مرکز ہے اور لطیف (نرم و نازک)
عضو ہے،
جس پر مار کا اثر و نشان پڑ جاتا ہے اور بسا اوقات اس کی بدصورتی کا باعث بنتا ہے اور بعض دفعہ اس سے جو اس کو تکلیف پہنچ جاتی ہے،
اور چہرے پر داغ دینا بھی جائز نہیں ہے،
انسان کے سوا باقی حیوانات کو چہرے کے سوا داغنا ضرورت کے وقت جائز ہے،
اس طرح چہرے کے سوا ضرورت کے تحت مارنا بھی جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5550]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2564
چہرے پر داغنا اور مارنا منع ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2564]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2564]
فوائد ومسائل:
1۔
چہرہ جسم کا قابل عزت حصہ ہے۔
انسان کا ہویا حیوان کا چہرے پر مارنا ممنوع ہے۔
2۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعنت کرنا اپنی مرضی سے نہ تھا، بلکہ الہام الہی کی بنیاد پر تھا-
1۔
چہرہ جسم کا قابل عزت حصہ ہے۔
انسان کا ہویا حیوان کا چہرے پر مارنا ممنوع ہے۔
2۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعنت کرنا اپنی مرضی سے نہ تھا، بلکہ الہام الہی کی بنیاد پر تھا-
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2564]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1710
جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1710]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1710]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے،
چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہو سکتے ہیں،
ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے،
اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔
وضاحت:
1؎:
چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے،
چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہو سکتے ہیں،
ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے،
اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1710]
Sahih Muslim Hadith 5550 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري