🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. أمورٌ شَتَّى تَعَلَّقُ بِالقِتَالِ وَالمُقَائِلِينَ وَشُهَدَاءِ أحُدٍ
جنگ، اس کے مقاتلین اور شہداء احد سے متعلقہ مختلف امور کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10736
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ فَأَخَذَهُ قَوْمٌ فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَّاكٌ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ فَفَلَقَ هَامَ الْمُشْرِكِينَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا: اس تلوار کو کون لے گا؟ لوگ اسے لے کر دیکھنے لگ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اسے لے کر اس کا حق بھی ادا کرے۔ تو لوگ پیچھے ہٹ گئے، سیدنا ابو دجانہ سماک رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اسے لے کر اس کا حق ادا کر وں گا، چنانچہ انہوں نے مشرکین کی کھوپڑیاں اتارنا شروع کر دیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10736]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12260»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10737
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ظَاهَرَ بَيْنَ دِرْعَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ
سائب بن یزید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن دو زرہیں اوپر نیچے پہنی ہوئی تھیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10737]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 2806، والترمذي في الشمائل: 104،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15813»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10738
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابُ أُحُدٍ أَمَا وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ نُحْصَ الْجَبَلِ يَعْنِي سَفْحَ الْجَبَلِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ جب شہدائے احد کا تذکرہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اللہ کی قسم! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ مجھے بھی ان کے ہمراہ پہاڑ کے دامن میں دفن کر دیا جاتا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10738]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 76، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15025 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15089»
وضاحت: فوائد: … اس میں شہدائے احد کی بڑی عظمت و منقبت کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ ہی دفن ہو جانے کی خواہش کر رہے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10739
وَعَنْهُ أَنَّ قَتْلَى أُحُدٍ حُمِلُوا مِنْ مَكَانِهِمْ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ رُدُّوا الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہدائے احد کو وہاں سے اُٹھا کر مدینہ منورہ کی طرف لایا جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ ان مقتولین کو ان کی جگہ پریعنی میدان احد میں واپس لے آؤ۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10739]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 177، وابوداود: 3165، والنسائي: 4/ 79، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14216»
وضاحت: فوائد: … شہیدکے علاوہ دوسرے اموات کو دوسرے مقامات میں منتقل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس بارے میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے، جس کی روشنی میں یہ پابندی لگائی جا سکے، جبکہ اصل تو جواز ہی ہے، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما عقیق کے مقام پر فوت ہوئے تھے اور ان کو مدینہ منورہ لا کر دفن کیا گیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10740
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ فَقُلْنَ اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ فَادْفُنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ قَالَ فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ فَدَعَانِي وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب احد کے دن میرے والد شہید ہو گئے، تو میری بہنوں نے اونٹ دے کر مجھے بھیجا اور کہا کہ جاؤ اور ابا جان کی میت کو اس پر لاد کر لے آؤ اور انہیں بنو سلمہ کے قبرستان میں دفن کرو، میں اور میرے معاونین وہا ں پہنچے، لیکن جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے منصوبے کی اطلاع ہوئی تو آپ نے مجھے بلوایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی وہیں احد کے مقام پر ہی تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اسے اس کے باقی شہید بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا۔ پھر ایسے ہی ہوا کہ ان کو دیگر شہداء کے ساتھ ہی احد میں دفن کیا گیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10740]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن سلمة بن ابييزيد وابوه مجھولان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15331»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10741
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بِالشُّهَدَاءِ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ وَقَالَ ادْفُنُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن شہداء کے بارے میں حکم دیا کہ ان کے اجساد سے لوہا اور چمڑے کا لباس الگ کر دیا جائے اور ان کو خون اور کپڑوں سمیت دفن کر دو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10741]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3134، وابن ماجه: 1515، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2217»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں: حدیث نمبر (۳۱۲۶)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں