الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي لِبَاسِهِ ﷺ وَزِينَةٍ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لباس اور زینت کا بیان
حدیث نمبر: 11334
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ قَالَ عَفَّانُ أَوْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِبَرَةُ
قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کون سا لباس سب سے زیادہ پسند تھا؟ انہوں نے جواب دیا: یمن کی سوتی اور دھاری دار چادر۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11334]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5812،ومسلم: 2079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12404»
وضاحت: فوائد: … یہیمن کا سب سے پسندیدہ اور قیمتی کپڑا ہوتا تھا، یہ نرم ہوتا تھا اور خوبصورتی اور مضبوطی سے بنا جاتا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسد اطہر بھی نرم اور خوبصورت تھا، اس لیےیہ لباس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے زیادہ موافق تھا، ایسا لباس جلدی میلا بھی نہیں ہوتا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11335
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لباس میں سب سے زیادہ پسندیدہ لباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں قمیص کا پہننا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11335]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4026، والترمذي: 1763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27230»
وضاحت: فوائد: … قمیص بہت باپردہ اور خوبصورت لباس ہے، ایک دفعہ پہن کر آدمی بے فکر ہو جاتا ہے، یہ لباس نہ دوڑنے سے متاثر ہوتا ہے اور نہ اس سے کوئی کام کرنے میں حرج محسوس ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11336
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بِرِدَاءٍ حَضْرَمِيٍّ
سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضر موت کی تیار شدہ چادر سے اضطباع کیا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11336]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه ابوداود: 1883،والترمذي: 859، وابن ماجه: 2954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18116»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11337
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بِبُرْدٍ لَهُ نَجْرَانِيٍّ
۔(دوسری سند)سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کی تیار شدہ چادر سے اضطباع کر رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11337]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18119»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11338
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ مُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ
۔(تیسری سند) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت حضر موت کی تیار شدہ چادر سے اضطباع کیا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11338]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18120»
وضاحت: فوائد: … اضطباع: دائیں بغل سے چادر وغیرہ نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا، جیسے احرام والا آدمی پہلے طواف میں کرتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11339
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ فَذَكَرَ سَوَادَهَا وَبَيَاضَهَا فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ قَذَفَهَا وَكَانَ يُحِبُّ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اون کی سیاہ رنگ کی چادر بنائی، پھر انھوں نے اس چادر کی سیاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفیدی کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چادر پہن لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اون کی بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتار کر پھینک دیا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکیزہ اور اچھی خوشبو پسند کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11339]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4074، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25003 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25517»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11340
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَاهُ جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ
سیدناابو رمثہ تمیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کے سائے میں بیٹھے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز رنگ کی دو دھاری دار چادریں زیب ِ تن کر رکھی تھیں۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11340]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 721، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17633»
وضاحت: فوائد: … بُرْد دھاری دار کپڑے کو کہتے ہیں،یعنی اس کپڑے پر سبز رنگ کی دھاریاں تھیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11341
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبِي لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ حَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ إِنَّمَا لِبَاسُنَا الصُّوفُ
سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کاش کہ تم وہ منظر دیکھتے کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور بارش ہونے لگتی، تو تم گمان کرتے کہ ہماری بو بھیڑوں والی بو ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا لباس اون کاہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11341]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 4033، الترمذي: 2479،وابن ماجه: 3758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19996»
وضاحت: فوائد: … یہ مکروہ اور ناپسندیدہ بو ہوتی ہے، جو صحابۂ کرام کو بڑی ناپسند تھی لیکن لباس کے سلسلے میں کوئی اور چارۂ کار نہیں تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11342
عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا أَسْمَاءُ جُبَّةً مَزْرُورَةً بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ فِي هَذِهِ كَانَ يَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَدُوَّ
مولائے اسماء ابو عمر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا نے ہمارے سامنے ایک جبہ رکھا، جس میں ریشم کے بٹن تھے، انھوں نے کہا: یہ وہ جبہ ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن سے بھی ملاقات کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11342]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، أخرجه ابن ماجه: 2819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27483»
وضاحت: فوائد: … زینتیا کسی عام ضرورت کے لیے چار انگلیوں کے بقدر ریشم استعمال کیا جا سکتا ہے
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11343
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَى عَضَلَةُ سَاقِهِ مِنْ تَحْتِ إِزَارِهِ إِذَا اتَّزَرَ
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چادر باندھتے تو چادر کے نیچے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلی کا موٹا گوشت دکھائی دیا کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11343]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صالح مولي التوأمة قد اختلط، وزھير بن محمد روي عنه بعد الاختلاط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8691»
وضاحت: فوائد: … ازار اور شلوار کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ وہ کم از کم ٹخنوں سے اوپر ہو اور افضل یہ ہے کہ تہبند وغیرہ نصف پنڈلی تک رکھا جائے۔
الحكم على الحديث: ضعیف