صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب مَنْ أَتَى مَجْلِسًا فَوَجَدَ فُرْجَةً فَجَلَسَ فِيهَا وَإِلاَّ وَرَاءَهُمْ:
باب: جو کوئی مجلس میں آئے اور صف میں جگہ پائے تو بیٹھ جائے، نہیں تو پیچھے بیٹھے۔
ترقیم عبدالباقی: 2176 ترقیم شاملہ: -- 5681
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ، قَالَ: فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا، وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ، أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ ".
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابومرہ نے انہیں حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اتنے میں تین آدمی آئے، دو تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ایک چلا گیا۔ وہ دو جو آئے ان میں سے ایک نے مجلس میں جگہ خالی پائی تو وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھا اور تیسرا تو پیٹھ پھیر کر چل دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا میں تم سے تین آدمیوں کا حال نہ کہوں؟ ایک نے تو اللہ کے پاس ٹھکانا لیا تو اللہ نے اس کو جگہ دی اور دوسرے نے (لوگوں میں گھسنے کی) شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5681]
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ مسجد میں تشریف فر تھے، اچانک تین آدمی آئے، دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ گئے اور ایک چلا گیا، دونوں جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رک گئے، رہا ان میں سے ایک تو اس نے حلقہ کے اندر گنجائش دیکھی تو اس میں بیٹھ گیا، رہا دوسرا تو وہ لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا اور لیکن تیسرا تو وہ پشت پھیر کر چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گفتگو سے) فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک نے تو اللہ کی طرف جگہ پکڑی تو اللہ نے اسے جگہ دے دی اور ان میں سے دوسرے نے جانے سے شرم محسوس کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا فرمایا، لیکن تیسرا تو اس نے اعراض کیا تو اللہ نے اس سے اعراض کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5681]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2176
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2176 ترقیم شاملہ: -- 5682
وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَهُ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَى.
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انہیں اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5682]
امام صاحب کو ایک اور استاد نے اس کے ہم معنی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5682]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2176
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة