صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب مَنْعِ الْمُخَنَّثِ مِنَ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ الأَجَانِبِ:
باب: زنانہ مخنث، اجنبی عورتوں کے پاس نہ جائے۔
ترقیم عبدالباقی: 2180 ترقیم شاملہ: -- 5690
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ أَيْضًا، وَاللَّفْظُ هَذَا، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّة إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ ".
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک مخنث ان کے ہاں موجود تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر پر تھے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی سے کہنے لگا: عبداللہ بن ابی امیہ! اگر کل (کلاء کو) اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو طائف پر فتح عطا فرمائے تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی (بادیہ بنت غیلان) کا پتہ بتاؤں گا وہ چار سلوٹوں کے ساتھ سامنے آتی ہے (سامنے سے جسم پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں) اور آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جاتی ہے۔ (انتہائی فربہ جسم کی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ نے فرمایا: ”یہ (مخنث) تمہارے ہاں داخل نہ ہوا کریں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5690]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ایک ہیجڑا بیٹھا ہوا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود تھے تو اس نے ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بھائی سے کہا، اے عبداللہ بن امیہ، اگر کل اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے طائف فتح فرمایا تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کا پتہ دوں گا، کیونکہ اس کے سامنے سے چار سلوٹیں نظر آتی ہیں اور پست پھیرنے پر سلوٹیں آٹھ بن جاتی ہیں، یعنی وہ خوب موٹی تازی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی بات سن لی اور فرمایا: ”یہ تمہارے پاس نہ آئیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5690]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2180
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2181 ترقیم شاملہ: -- 5691
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ، فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ، قَالَ: فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ: إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ "، قَالَتْ: فَحَجَبُوهُ.
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسے جنسی معاملات سے بے بہرہ سمجھا کرتی تھیں۔ فرمایا: ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور وہ آپ کی ایک اہلیہ کے ہاں بیٹھا ہوا ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا وہ کہنے لگا: جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ جو کچھ یہاں ہے اسے سب پتہ ہے، یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔“ تو انہوں نے (امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن) نے اس سے پردہ کر لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5691]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس ایک ہیجڑا آیا کرتا تھا، کیونکہ وہ انہیں ان لوگوں میں سے سمجھتی تھیں، جو عورتوں میں رغبت اور دلچسپی نہیں رکھتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی کسی بیوی کے پاس گئے تو اسے ایک عورت کے اوصاف بیان کرتے پایا کہ جب وہ سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں اور جب وہ پشت پھیر کر چل دیتی ہے تو وہ سلوٹیں آٹھ بن جاتی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! میں دیکھ رہا ہوں، یہ تو لوگوں کی چیزوں سے آگاہ، یہ تمہارے پاس نہ آئے“ اس کے بعد اس کو گھروں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5691]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2181
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة