🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. باب جَوَازِ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ الأَجْنَبِيَّةِ إِذَا أَعْيَتْ فِي الطَّرِيقِ:
باب: اگر اجنبی عورت راہ میں تھک گئی ہو تو اس کو اپنے ساتھ سوار کر لینا درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2182 ترقیم شاملہ: -- 5692
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوكٍ وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ، وَأَعْلِفُهُ وَأَسْتَقِي الْمَاءَ وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ، وَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، قَالَتْ: وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ، قَالَتْ: فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ: إِخْ إِخْ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، قَالَتْ: فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ، فَقَالَ: " وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ "، قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ، فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي.
ہشام کے والد (عروہ) نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) کہا: حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے نکاح کیا تو ان کے پاس ایک گھوڑے کے سوا نہ کچھ مال تھا، نہ غلام تھا، نہ کوئی اور چیز تھی۔ ان کے گھوڑے کو میں ہی چارا ڈالتی تھی ان کی طرف سے اس کی ساری ذمہ داری میں سنبھالتی۔ اس کی نگہداشت کرتی ان کے پانی لانے والے اونٹ کے لیے کھجور کی گٹھلیاں توڑتی اور اسے کھلاتی میں ہی (اس پر) پانی لاتی میں ہی ان کا پانی کا ڈول سیتی آٹا گوندھتی، میں اچھی طرح روٹی نہیں بنا سکتی تھی تو انصار کی خواتین میں سے میری ہمسائیں میرے لیے روٹی بنا دیتیں، وہ سچی (دوستی والی) عورتیں تھیں، انہوں نے (اسماء رضی اللہ عنہا) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین کا جو ٹکڑا عطا فرمایا تھا وہاں سے اپنے سر پر گٹھلیاں رکھ کر لاتی یہ (زمین) تقریباً دو تہائی فرسخ (تقریباً 3.35 کلومیٹر) کی مسافت پر تھی۔ کہا: ایک دن میں آ رہی تھی گٹھلیاں میرے سر پر تھیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، پھر آواز سے اونٹ کو بٹھانے لگے تا کہ (گٹھلیوں کا بوجھ درمیان میں رکھتے ہوئے) مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں۔ انہوں نے (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے) کہا: مجھے شرم آئی مجھے تمہاری غیرت بھی معلوم تھی تو انہوں نے (زبیر رضی اللہ عنہ) کہا: اللہ جانتا ہے کہ تمہارا اپنے سر پر گٹھلیوں کا بوجھ اٹھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت ہے۔ کہا: (یہی کیفیت رہی) یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے پاس ایک کنیز بھجوادی اور اس نے مجھ سے گھوڑے کی ذمہ داری لے لی۔ (مجھے ایسے لگا) جیسے انہوں نے مجھے (غلامی سے) آزاد کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5692]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے ساتھ ایسے حالات میں شادی کی کہ ان کے پاس اپنے گھوڑے کے سوا کوئی مال و دولت، غلام یا کوئی اور چیز نہ تھی، میں ان کے گھوڑے کے لیے چارہ لاتی اور اس کی ضروریات سے ان کو کفایت کرتی اور میں ہی اس کی دیکھ بھال یا نگہداشت کرتی اور ان کے پانی ڈھونے کے اونٹ کے لیے گٹھلیاں کوٹتی اور اس کو چارہ ڈالتی، پانی لاتی اور ان کے ڈول کو سیتی، آٹا گوندھتی اور مجھے اچھی طرح روٹی پکانا نہیں آتا تھا، یا میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی اور میری انصاری پڑوسنیں، مجھے روٹی پکا کر دیتی تھیں اور وہ بہت اچھی عورتیں تھیں اور میں زبیر کی اس زمین سے جو آپ نے اسے عنایت فرمائی تھی، اپنے سر پر گٹھلیاں ڈھوتی تھی، جو مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر تھی، ایک دن میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں تو میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو گئی، آپ کے چند ساتھی بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ نے مجھے آواز دی، پھر اونٹ کو بٹھانے کے لیے کہا اخ، اخ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5692]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2182 ترقیم شاملہ: -- 5693
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ، وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ وَكُنْتُ أَسُوسُهُ، فَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْخِدْمَةِ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ كُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا، قَالَتْ: كَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ فَجَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ: إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ، قَالَتْ: إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ، أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَيَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ، فَجَاءَ، فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ: إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ، قَالَتْ: مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا دَارِي؟ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: مَا لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلًا فَقِيرًا يَبِيعُ، فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ، فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي، فَقَالَ: هَبِيهَا لِي، قَالَتْ: إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا ".
ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں گھر کی خدمات سر انجام دے کر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت کرتی تھی، ان کا ایک گھوڑا تھا، میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی، میرے لیے گھر کی خدمات میں سے گھوڑے کی نگہداشت سے بڑھ کر کوئی اور خدمت زیادہ سخت نہ تھی۔ میں اس کے لیے چارا لاتی، اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی اور اس کی نگہداشت کرتی، کہا: پھر انہیں ایک خادمہ مل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو آپ نے ان کے لیے ایک خادمہ عطا کر دی۔ کہا: اس نے مجھ سے گھوڑے کی نگہداشت (کی ذمہ داری) سنبھال لی اور مجھ سے بہت بڑا بوجھ ہٹا لیا۔ میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: ام عبداللہ! میں ایک فقیر آدمی ہوں: میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں (بیٹھ کر سودا) بیچ لیا کروں۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے تمہیں اجازت دے دی تو زبیر رضی اللہ عنہ انکار کر دیں گے۔ جب زبیر رضی اللہ عنہ موجود ہوں تو (اس وقت) آ کر مجھ سے اجازت مانگنا، پھر وہ شخص (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں) آیا اور کہا: ام عبداللہ! میں ایک فقیر آدمی ہوں اور چاہتا ہوں کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں (بیٹھ کر کچھ) بیچ لیا کروں، انہوں نے (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) جواب دیا: مدینہ میں تمہارے لیے میرے گھر کے سوا اور کوئی گھر نہیں ہے؟ تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہیں کیا ہوا ہے، ایک فقیر آدمی کو سودا بیچنے سے روک رہی ہو؟ وہ بیچنے لگا، یہاں تک کہ اس نے کافی کمائی کر لی، میں نے وہ خادمہ اسے بیچ دی۔ زبیر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو اس خادمہ کی قیمت میری گود میں پڑی تھی، انہوں نے کہا: یہ مجھے ہبہ کر دو۔ تو انہوں نے کہا: میں اس کو صدقہ کر چکی ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5693]
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، میں حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کی خدمات سر انجام دیتی تھی اور ان کا گھوڑا تھا، اس کی بھی دیکھ بھال اور انتظام کرتی تھی اور گھوڑے کی نگہداشت سے زیادہ کوئی خدمت میرے لیے سنگین نہ تھی، میں اس کے لیے گھاس لاتی، اس کی خدمت کرتی اور اس کی دیکھ بھال کرتی، پھر اسے ایک نوکرانی مل گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو آپ نے اسے ایک نوکرانی دی، جو ان کے لیے گھوڑے کے انتظام کے لیے کافی ہو گئی اور اس کی مشقت کا بوجھ اتار دیا، سو ایک دن میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا، اے عبداللہ کی ماں! میں ایک محتاج آدمی ہوں، میں آپ کے گھر کے سایہ میں سودا سلف بیچنا چاہتا ہوں، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا، اگر میں نے اپنے طور پر تجھے اجازت دے دی، (تو شاید) حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ اس کی اجازت نہیں دیں گے، لہذا تو زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی موجودگی میں آ کر مجھ سے اس کی اجازت طلب کرنا، سو وہ آیا اور کہنے لگا، اے عبداللہ کی ماں! میں ایک محتاج آدمی ہوں، آپ کے گھر کے سایہ میں سامان فروخت کرنا چاہتا ہوں تو میں نے کہا مدینہ میں میرے گھر کے سوا تمہیں کوئی گھر نہیں ملا؟ تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا، تم ایک فقیر آدمی کو سامان بیچنے سے کیوں روکتی ہو؟ تو وہ خرید و فروخت کرنے لگا، حتی کہ اس نے کمائی کر لی اور وہ لونڈی میں نے اسے فروخت کر دی، (کیونکہ اب انہیں اس کی ضرورت نہیں تھی) حضرت زبیر میرے پاس آئے تو اس کی قیمت میری جھولی میں تھی، انہوں نے کہا، یہ رقم مجھے دے دو، میں نے کہا، میں یہ صدقہ کر چکی ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5693]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں