🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ بِلالِ الْمُؤذن رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
مؤذن رسول سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11646
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ“ فَقَالَ بِلَالٌ مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً إِلَّا أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! تم ایسا کون سا عمل کرتے ہو کہ تمہیں اسلام میں اس کے بہت زیادہ نفع یعنی ثو اب کی امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔ سیدنا بلا ل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے اسلام میں اور تو کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جس پر مجھے یہ ثواب ملا ہو،البتہ میرا معمول ہے کہ میں دن رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ مجھے جس قدر توفیق دیتا ہے، میں نماز ادا کر لیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11646]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9670»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2458
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11647
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ ”بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ“ فَقَالَ مَا أُحْدِثُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بِهَذَا“
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے،البتہ اس میں یہ وضاحت ہے: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم کس عمل کی بدولت جنت میں مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔ انہوں نے عرض کیا: میں کوئی خاص عمل تو نہیں کرتا البتہ جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کرتا ہوں اور پھر دور رکعت نماز ادا کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس اسی عمل کی وجہ سے ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11647]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 3689، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23384»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث سے ثابت ہوا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا وصف یہ تھا کہ وہ جب بے وضو ہوتے تھے تو وضو کرتے اور دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔
عام لوگوںمیں صرف یہ مشہور ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باقاعدگی کے ساتھ تحیۃ الوضوء پڑھا کرتے تھے، لیکن ان کا مکمل عمل یہ تھا کہ وہ جب بھی بے وضو ہوتے تو فوراً وضو کرتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11648
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ الْجَنَّةَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِهَا وَجْسًا قَالَ ”يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا“ قَالَ هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّاسِ ”قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ایک طرف سے ہلکی سی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ آواز کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ہے،میں نے اس کے لیےیہ کچھ دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11648]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، قابوس مختلف فيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2324»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11649
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِنَّ بِلَالًا أَبْطَأَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا حَبَسَكَ“ فَقَالَ مَرَرْتُ بِفَاطِمَةَ وَهِيَ تَطْحَنُ وَالصَّبِيُّ يَبْكِي فَقُلْتُ لَهَا إِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الرَّحَى وَكَفَيْتِنِي الصَّبِيَّ وَإِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الصَّبِيَّ وَكَفَيْتِنِي الرَّحَى فَقَالَتْ أَنَا أَرْفَقُ بِابْنِي مِنْكَ فَذَاكَ حَبَسَنِي قَالَ ”فَرَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نمازِ فجر سے پیچھے رہ گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کہاں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرا، وہ چکی چلا رہی تھیں اور بچہ رو رہا تھا۔ میں نے ان سے عرض کیا: آپ چاہیں تو میں چکی چلا دوں اور آپ بچے کو سنبھالیں یا میں بچے کو سنبھال لوں اور آپ چکی چلائیں، انھوں نے کہا: تمہاری نسبت بچے پر میں زیادہ شفیق اور مہربان ہوں، تو اس کام نے مجھے نماز سے دیر کرا دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا پر شفقت کی، اللہ تم پر رحم فرمائے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11649]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عمار بن عمارة لم يدرك انسا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12552»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11650
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ شَاعِرًا قَالَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبِلَالُ عَبْدُ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ كَذَبْتَ ذَاكَ بِلَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سالم بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ایک شاعر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کے بیٹے بلال کی وفات پر ایک قصیدہ پڑھتے ہوئے کہا: عبد اللہ کا بلال، بہترین بلال تھا۔یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو، یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بلال تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11650]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عمر بن حمزه، اخرجه ابن ماجه: 152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5638»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حق گوئی اور حق پسندی تھی۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف عمر بن حمزه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں