🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11737
قَالَ حَدَّثَنِي مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ، خَرَجْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ ذَاهِبًا نَحْوَ الْغَابَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِثَنِيَّةِ الْغَابَةِ، لَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قُلْتُ: وَيْحَكَ! مَا لَكَ؟ قَالَ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَخَذَهَا؟ قَالَ: غَطَفَانُ وَفَزَارَةُ، قَالَ: فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ أَسْمَعْتُ مَنْ بَيْنَ لَابَتَيْهَا، يَا صَبَاحَاهْ! يَا صَبَاحَاهْ! ثُمَّ انْدَفَعْتُ حَتَّى أَلْقَاهُمْ وَقَدْ أَخَذُوهَا، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَقُولُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ، قَالَ: فَاسْتَنْقَذْتُهَا مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبُوا، فَأَقْبَلْتُ بِهَا أَسُوقُهَا فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشٌ وَإِنِّي أَعْجَلْتُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبُوا فَاذْهَبْ فِي أَثَرِهِمْ، فَقَالَ: ( (يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ! مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ إِنَّ الْقَوْمَ يُقْرَوْنَ فِي قَوْمِهِمْ۔) )
یزید بن ابی عبید سے مروی ہے کہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ میں غابہ کی طرف جانے کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوا، جب میں غابہ کی گھاٹی یا راستہ میں تھا تو مجھ سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے لڑکے کی ملاقات ہوئی، میں نے کہا تیرا بھلا ہو، تجھے کیاہوا ہے؟ وہ بولا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنیوں کو لوٹ لیا گیا ہے، میں نے پوچھا: کس نے لوٹی ہیں؟ اس نے بتایا کہ غطفان اور فزارہ کے لوگوں نے، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے بلند آواز سے تین بار یَا صَبَاحَاہ کی آواز دی،یہ آواز اس قدر اونچی اور تیزتھی کہ میں نے مدینہ کے دو حرّوں کے مابین لوگوں تک پہنچادی، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑا، تاآنکہ میں نے ان کو جا لیا، وہ ان اونٹنیوں کو اپنے قبضے میں لے چکے تھے۔ میں ان پر تیر برسانے لگا اور میں یہ رجز پڑھتا جا تا تھا: أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَّعِ (میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے)۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:قبل اس کے کہ وہ کہیں جا کر پانی پیتے میں نے اونٹنیوں کو ان سے چھڑوا لیا۔ میں اونٹنیوں کو لے کر واپس ہوا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ لوگ ابھی تک پیاسے ہیں اور میں ان کے پانی پینے سے پہلے پہلے ان تک پہنچ گیا، آپ ان کے پیچھے تشریف لے چلیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن اکوع! تو نے ان پر غلبہ پالیا اب نرمی کر، قوم میں ان کی ضیافت کی جا رہی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11737]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3041، ومسلم: 1806، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16628»
وضاحت: فوائد: … سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بہادر تیر انداز تھے، اتنے تیز دوڑتے تھے کہ گھوڑے سے آگے نکل جاتے تھے، انھوں نے درخت کے پاس تین بار موت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی،یہ پہلے مدینہ منورہ میں رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ربذہ میں منتقل ہو گئے اور راجح قول کے مطابق انھوں نے (۷۴) سن ہجری میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3041
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11738
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ! مَا هٰذِهِ الضَّرْبَةُ؟ قَالَ: هٰذِهِ ضَرْبَةٌ أُصِبْتُهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ: يَوْمَ أُصِبْتُهَا، قَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ، فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَنَفَثَ فِيهَا ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ۔
یزید بن عبید سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر زخم کا ایک نشان دیکھا، میں نے پوچھا: ابو مسلم! یہ نشان کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: خیبر کے دن مجھے زخم لگا تھا، یہ اس کا نشان ہے، جس دن مجھے یہ زخم آیا تھا، لوگوں نے کہا: سلمہ رضی اللہ عنہ کو شدید قسم کا زخم آیا ہے، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ نے اس زخم پر تھوک کے ساتھ تین پھونکیں ماریں، اس کے بعد اب تک مجھے اس میں کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11738]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16629»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4206
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11739
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَنِي عَمِّي عَامِرٌ فَقَالَ: أَعْطِنِي سَلَاحَكَ! قَالَ: فَأَعْطَيْتُهُ قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَبْغِنِي سَلَاحَكَ؟ قَالَ: ( (أَيْنَ سَلَاحُكَ؟) ) قَالَ: أَعْطَيْتُهُ عَمِّي عَامِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ( (مَا أَجِدُ شِبْهَكَ إِلَّا الَّذِي قَالَ هَبْ لِي أَخًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي۔) ) قَالَ: فَأَعْطَانِي قَوْسَهُ وَمَجَانَهُ وَثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ مِنْ كِنَانَتِهِ۔
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا عامر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: اپنا اسلحہ مجھے دے دو۔ میں نے اپنے ہتھیار ان کو دے دیئے۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنے ہتھیار مجھے عنایت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ہتھیار کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ تو میں نے اپنے چچا سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کو دے دیئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو تمہارے بارے میں وہی مثال پاتا ہوں کہ کسی نے دعا کی تھی کہ یا اللہ مجھے ایسا بھائی عطا کر جو مجھے میری اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کمان،ڈھالیں اور اپنے ترکش میں سے تین تیر مجھے عطا فرمائے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11739]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16659»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ضرب المثل بیان کر کے یہ اشارہ کیا ہے کہ سیدنا سلمہ نے اپنے چچا کو اپنے نفس پر ترجیح دی ہے، جبکہ خود ان کو بھی اسلحہ کی ضرورت تھی، دراصل سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کی تعریف کی جا رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1807
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11740
عَنْ يَزِيدَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَذَكَرَ الْحُدَيْبِيَةَ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ وَيَوْمَ الْقَرْدِ وَيَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ يَزِيدُ: وَنَسِيتُ بَقِيَّتَهُنَّ۔
یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں سات غزوات میں شرکت کی، پھر انہوں نے حدیبیہ، حنین، قرد اور خیبر کے نام لیے۔ یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ باقی تین غزووں کے نام مجھے بھول گئے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11740]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4272، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16658»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4272
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11741
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”أَنْتُمْ أَهْلُ بَدْوِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَضَرِكُمْ“
سیدنا سلمہ بن اکو ع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے دیہاتی ہو اور ہم تمہارے شہری ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11741]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16669»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں