الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 11738
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ! مَا هٰذِهِ الضَّرْبَةُ؟ قَالَ: هٰذِهِ ضَرْبَةٌ أُصِبْتُهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ: يَوْمَ أُصِبْتُهَا، قَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ، فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَنَفَثَ فِيهَا ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ۔
یزید بن عبید سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر زخم کا ایک نشان دیکھا، میں نے پوچھا: ابو مسلم! یہ نشان کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: خیبر کے دن مجھے زخم لگا تھا، یہ اس کا نشان ہے، جس دن مجھے یہ زخم آیا تھا، لوگوں نے کہا: سلمہ رضی اللہ عنہ کو شدید قسم کا زخم آیا ہے، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ نے اس زخم پر تھوک کے ساتھ تین پھونکیں ماریں، اس کے بعد اب تک مجھے اس میں کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11738]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16629»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4206
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11738 in Urdu