الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 11737
قَالَ حَدَّثَنِي مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ، خَرَجْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ ذَاهِبًا نَحْوَ الْغَابَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِثَنِيَّةِ الْغَابَةِ، لَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قُلْتُ: وَيْحَكَ! مَا لَكَ؟ قَالَ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَخَذَهَا؟ قَالَ: غَطَفَانُ وَفَزَارَةُ، قَالَ: فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ أَسْمَعْتُ مَنْ بَيْنَ لَابَتَيْهَا، يَا صَبَاحَاهْ! يَا صَبَاحَاهْ! ثُمَّ انْدَفَعْتُ حَتَّى أَلْقَاهُمْ وَقَدْ أَخَذُوهَا، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَقُولُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ، قَالَ: فَاسْتَنْقَذْتُهَا مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبُوا، فَأَقْبَلْتُ بِهَا أَسُوقُهَا فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشٌ وَإِنِّي أَعْجَلْتُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبُوا فَاذْهَبْ فِي أَثَرِهِمْ، فَقَالَ: ( (يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ! مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ إِنَّ الْقَوْمَ يُقْرَوْنَ فِي قَوْمِهِمْ۔) )
یزید بن ابی عبید سے مروی ہے کہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ میں غابہ کی طرف جانے کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوا، جب میں غابہ کی گھاٹی یا راستہ میں تھا تو مجھ سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے لڑکے کی ملاقات ہوئی، میں نے کہا تیرا بھلا ہو، تجھے کیاہوا ہے؟ وہ بولا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنیوں کو لوٹ لیا گیا ہے، میں نے پوچھا: کس نے لوٹی ہیں؟ اس نے بتایا کہ غطفان اور فزارہ کے لوگوں نے، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے بلند آواز سے تین بار یَا صَبَاحَاہ کی آواز دی،یہ آواز اس قدر اونچی اور تیزتھی کہ میں نے مدینہ کے دو حرّوں کے مابین لوگوں تک پہنچادی، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑا، تاآنکہ میں نے ان کو جا لیا، وہ ان اونٹنیوں کو اپنے قبضے میں لے چکے تھے۔ میں ان پر تیر برسانے لگا اور میں یہ رجز پڑھتا جا تا تھا: أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَّعِ (میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے)۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:قبل اس کے کہ وہ کہیں جا کر پانی پیتے میں نے اونٹنیوں کو ان سے چھڑوا لیا۔ میں اونٹنیوں کو لے کر واپس ہوا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ لوگ ابھی تک پیاسے ہیں اور میں ان کے پانی پینے سے پہلے پہلے ان تک پہنچ گیا، آپ ان کے پیچھے تشریف لے چلیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن اکوع! تو نے ان پر غلبہ پالیا اب نرمی کر، قوم میں ان کی ضیافت کی جا رہی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11737]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3041، ومسلم: 1806، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16628»
وضاحت: فوائد: … سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بہادر تیر انداز تھے، اتنے تیز دوڑتے تھے کہ گھوڑے سے آگے نکل جاتے تھے، انھوں نے درخت کے پاس تین بار موت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی،یہ پہلے مدینہ منورہ میں رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ربذہ میں منتقل ہو گئے اور راجح قول کے مطابق انھوں نے (۷۴) سن ہجری میں وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3041
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11737 in Urdu