الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11789
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وُضُوءً مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے،میں نے آپ کے لیے رات کو وضو کرنے کے لیے پانی رکھا۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کے لیےیہ پانی عبداللہ بن عباس نے رکھا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی: یا اللہ! اسے دین میں گہری سمجھ اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11789]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 75، 143، 3756، ومسلم: 2477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3032»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے ایک طریق کے الفاظ میں درج ذیل تفصیل ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہٗسَکَبَلِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَضُوْئً عِنْدَ خَالَتِہٖمَیْمُوْنَۃَ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: ((مَنْ وَضَعَ لِیْ وَضُوْئِیْ؟)) قَالَتْ: اِبْنُ أُخْتِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ! فَقِّھْہُ فِیْ الدِّیْنِ وَعَلِّمْہُ التَّاوِیْلَ۔))
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (ایک برتن میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی بھر کر رکھا، جبکہ آپ میری خالہ میمونہ کے گھر تھے۔ جب آپ (بیت الخلاء سے) باہر تشریف لائے تو پوچھا: وضو کے لیے پانی کس نے رکھا ہے؟ خالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بھانجے نے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو دین میں فقاہت عطا فرما اور تفسیرِ(قرآن) سکھا دے۔
جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ خدمت کرنا چاہی تو ان کے سامنے تین امور تھے: (۱)وہ بیت الخلا میں پانی پہنچائیںیا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب دروازے پر رکھ دیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے آسانی کے ساتھ لے لیںیا (۳) کچھ بھی نہ کریں۔
غور و فکر کیا جائے تو دوسرا فیصلہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، جسے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عملاً اپنایا،یہ ان کی ذہانت و ذکاوت پر دلالت کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے بیش قیمت دعا کی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچازاد تھے، ہجرت سے تین برس پہلے پیدا ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے فہم قرآن اور فقہ کی دعا کی اور یہ اس دعا کے مطابق علم، فقہ، فہم اور دین میں حبر الامہ کہلوائے، یہ زیادہ احادیث بیان کرنے والے صحابۂ کرام میں سے ہیں، عبادلہ اور فقہائے صحابہ میں سے ایک ہیں،یہ طائف میں (۶۸) سن ہجری میں فوت ہوئے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہٗسَکَبَلِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَضُوْئً عِنْدَ خَالَتِہٖمَیْمُوْنَۃَ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: ((مَنْ وَضَعَ لِیْ وَضُوْئِیْ؟)) قَالَتْ: اِبْنُ أُخْتِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ! فَقِّھْہُ فِیْ الدِّیْنِ وَعَلِّمْہُ التَّاوِیْلَ۔))
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (ایک برتن میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی بھر کر رکھا، جبکہ آپ میری خالہ میمونہ کے گھر تھے۔ جب آپ (بیت الخلاء سے) باہر تشریف لائے تو پوچھا: وضو کے لیے پانی کس نے رکھا ہے؟ خالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بھانجے نے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو دین میں فقاہت عطا فرما اور تفسیرِ(قرآن) سکھا دے۔
جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ خدمت کرنا چاہی تو ان کے سامنے تین امور تھے: (۱)وہ بیت الخلا میں پانی پہنچائیںیا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب دروازے پر رکھ دیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے آسانی کے ساتھ لے لیںیا (۳) کچھ بھی نہ کریں۔
غور و فکر کیا جائے تو دوسرا فیصلہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، جسے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عملاً اپنایا،یہ ان کی ذہانت و ذکاوت پر دلالت کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے بیش قیمت دعا کی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچازاد تھے، ہجرت سے تین برس پہلے پیدا ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے فہم قرآن اور فقہ کی دعا کی اور یہ اس دعا کے مطابق علم، فقہ، فہم اور دین میں حبر الامہ کہلوائے، یہ زیادہ احادیث بیان کرنے والے صحابۂ کرام میں سے ہیں، عبادلہ اور فقہائے صحابہ میں سے ایک ہیں،یہ طائف میں (۶۸) سن ہجری میں فوت ہوئے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11790
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مَنْكَبِي، شَكَّ سَعِيدٌ، ثُمَّ قَالَ: ”اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ“
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا کی: یا اللہ! اسے دین میں فقاہت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11790]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2397»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11791
وَعَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”اللَّهُمَّ أَعْطِ ابْنَ عَبَّاسٍ الْحِكْمَةَ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی: یا اللہ ابن عباس کو حکمت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11791]
تخریج الحدیث: «انظر الحديثين السابق، اخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2422»
وضاحت: فوائد: … حکمت سے مراد کیا ہے؟ اس کے بارے میں درج ذیل مختلف اقوال ہیں:
قرآن پر عمل، سنت، درست بات، خشیت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے فہم، عقل، الہام اور وسوسے میں فرق کرنے والا نور۔
قرآن پر عمل، سنت، درست بات، خشیت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے فہم، عقل، الہام اور وسوسے میں فرق کرنے والا نور۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11792
وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْحِكْمَةِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے حق میں حکمت کی دعا فرمائی۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11792]
تخریج الحدیث: «انظر الاحاديث السابقة ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1840»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11793
وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ”اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ“
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور یہ دعا کی: یا اللہ! اسے قرآن مجید کا علم عطا فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11793]
تخریج الحدیث: «انظر الاحاديث السابقة ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3379»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11794
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَرَّنِي فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ، فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ خَنَسْتُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لِي: ”مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَاءِي فَتَخْنِسُ?“، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ؟ قَالَ: فَأَعْجَبْتُهُ فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ، فَقَامَ فَصَلَّى مَا أَعَادَ وُضُوءً
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کے آخری حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کی،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کی طرف کھینچ کر اپنے پہلو میں اپنے برابر کھڑا کر لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں کھسک کر کچھ پیچھے کو ہو گیا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کی تو مجھ سے فرمایا: تمہیں کیا ہوا تھا، میں نے تمہیں اپنے برابر کھڑا کیا اور تم کھسک گئے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو عظیم منصب و مرتبہ سے نوازا ہے۔ کیا (مجھ جیسے) کسی فرد کے لیے مناسب ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز ادا کرے؟ میری یہ بات آپ کو بہت پسندآئی، آپ نے اللہ سے میرے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ میرے علم اور فہم میں اضافہ فرمائے۔ میں نے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس قدر گہری نیند سو گئے کہ خراٹے لینے لگے۔ اس کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو گیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر نماز ادا کی اور دوبارہ وضونہیں کیا (کیونکہ نیند میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار ہی رہتا تھا)۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11794]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين اخرجه البخاري: 138، 726، 859،ومسلم: 763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3060»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11795
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ فَدَعَانِي فَحَطَّأَنِي حَطْأَةً ثُمَّ بَعَثَ بِي إِلَى مُعَاوِيَةَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میرے پاس سے گز ر ہوا تو میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوا کر ہلکا سا جھنجھوڑا دیا اور مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے بھیجا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11795]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2604، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2150»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11796
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ لِي أَبِي أَيْ بُنَيَّ أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي فَقُلْتُ يَا أَبَتِ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ فَرَجَعْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَهَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”فَإِنَّ ذَاكَ جِبْرِيلُ وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ کے پاس ایک اور آدمی بھی بیٹھا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سرگوشی کر رہا تھا،یوں لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے والد کی طرف توجہ نہیں فرما رہے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے اٹھ آئے،میرے والدنے مجھ سے کہا: بیٹا! دیکھا کہ تمہارے چچا زاد (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی۔ میں نے عرض کیا: ابا جان، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک اور آدمی بیٹھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ محو کلام تھے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آگئے، اب کی بار میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں نے عبداللہ سے اس طرح بات کی اوراس نے بتلایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی بیٹھا آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کلام تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے،میں ان کیوجہ سے آپ لوگوں کی طرف تو جہ نہ کر سکا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11796]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم اخرجه الطيالسي: 2708، والطبراني: 10584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)2679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2679»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11797
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَلَهُ وَحَمَلَ أَخَاهُ هَذَا قُدَّامَهُ وَهَذَا خَلْفَهُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اور ان کے بھائی کو اپنی سواری پر اٹھا لیا، ایک کو اپنے آگے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11797]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3217»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11798
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر پندرہ برس تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11798]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه الحاكم: 3/ 534، والطبراني: 10578، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3543»
الحكم على الحديث: صحیح