صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابُ التَّدَاوِي:
باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2204 ترقیم شاملہ: -- 5741
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَال: " لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بیماری کی دوا ہے، جب کوئی دوا بیماری پر ٹھیک بٹھا دی جاتی ہے تو مریض اللہ تعالیٰ کے حکم سے تندرست ہو جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5741]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بیماری کی دوا ہے تو جب دوا بیماری سے مناسبت رکھتی ہے، یا ٹھیک بیٹھتی ہے تو اللہ عزوجل کے اذن سے شفا مل جاتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5741]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2204
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2205 ترقیم شاملہ: -- 5742
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَادَ الْمُقَنَّعَ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ فِيهِ شِفَاءً ".
بکیر نے کہا کہ عاصم بن عمر بن قتادہ نے انہیں حدیث سنائی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مقنع (بن سنان تابعی) کی عیادت کی، پھر فرمایا: میں (اس وقت تک) یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم پچھنا نہ لگوا لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے ہیں: ”یقیناً اس میں شفا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5742]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ مقنع رضی اللہ تعالی عنہ کی عیادت کے لیے گئے، پھر کہنے لگے، میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک تم سنگی نہیں لگواتے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، ”بلاشبہ اس میں شفاء ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5742]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2205
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2205 ترقیم شاملہ: -- 5743
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، قال: جَاءَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا وَرَجُلٌ يَشْتَكِي خُرَاجًا بِهِ أَوْ جِرَاحًا، فَقَالَ: مَا تَشْتَكِي؟ قَالَ: خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا غُلَامُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ، فَقَالَ لَهُ: مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا، قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ، فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: إِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ "، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " قَالَ: فَجَاءَ بِحَجَّامٍ فَشَرَطَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ.
عبدالرحمن بن سلیمان نے حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کی، کہا: کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہمارے گھر میں آئے اور ایک شخص کو زخم کی تکلیف تھی (یعنی قرحہ پڑ گیا تھا)۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تجھے کیا تکلیف ہے؟ وہ بولا کہ ایک قرحہ ہو گیا ہے جو کہ مجھ پر نہایت سخت ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اے غلام! ایک پچھنے لگانے والے کو لے کر آ۔ وہ بولا کہ پچھنے لگانے والے کا کیا کام ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں اس زخم پر پچھنے لگوانا چاہتا ہوں، وہ بولا کہ اللہ کی قسم مجھے مکھیاں ستائیں گی اور کپڑا لگے گا تو مجھے تکلیف ہو گی اور مجھ پر بہت سخت (وقت) گزرے گا۔ جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ اس کو پچھنے لگانے سے رنج ہوتا ہے تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر تمہاری دواؤں میں بہتر کوئی دوا ہے تو تین ہی دوائیں ہیں، ایک تو پچھنا، دوسرے شہد کا ایک گھونٹ اور تیسرے انگارے سے جلانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں داغ لینا بہتر نہیں جانتا۔ راوی نے کہا کہ پھر پچھنے لگانے والا آیا اور اس نے اس کو پچھنے لگائے اور اس کی بیماری جاتی رہی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5743]
عاصم بن عمر قتادہ بیان کرتے ہیں، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ ہمارے گھر آئے اور ایک آدمی کو پھوڑے نکلے ہوئے تھے یا زخم تھے تو انہوں نے پوچھا، تمہیں کیا شکایت ہے، اس نے کہا، میرے لیے پھوڑے پھنسیاں، مشقت کا باعث ہیں تو حضرت جابر ؓ نے کہا، اے لڑکے! میرے پاس سنگی لگانے والے کو لاؤ، اس آدمی نے پوچھا، اے ابو عبداللہ! آپ سنگی لگانے والے کو بلوا کر کیا کریں گے؟ انہوں نے جواب دیا، میں ان پھوڑوں پر سنگی لگوانا چاہتا ہوں، اس نے کہا، اللہ کی قسم! مجھ پر مکھی بیٹھتی ہے، یا مجھے کپڑا چھوتا ہے تو وہ مجھے تکلیف دیتا ہے، (میں سنگی برداشت کر سکوں گا۔) جب حضرت جابر ؓ نے معلوم کیا، وہ اس سے اکتاہٹ محسوس کرتا ہے، تو کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے، "اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی دوا میں خیر ہے تو سنگی سے پچھنے میں یا شہد کے گھونٹ میں یا آگ کے داغ میں ہے۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں آگ کے داغ کو پسند نہیں کرتا۔" تو لڑکا حجام کو لایا، اس نے اسے پچھنے لگائے تو اس کی تکلیف دور ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5743]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2205
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2206 ترقیم شاملہ: -- 5744
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، قَالَ: " حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کے متعلق اجازت طلب کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطیبہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ انہیں پچھنے لگائیں۔ انہوں نے (جابر رضی اللہ عنہما) کہا: حضرت ابوطیبہ رضی اللہ عنہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے۔ (اور انہوں نے ہاتھ یا پاؤں ایسی جگہ پچھنے لگائے جنہیں دیکھنا محرم یا بچے کے لیے جائز ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5744]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنگی لگوانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ ؓ کو حکم دیا کہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو سنگی لگائے، ابو زبیر کہتے ہیں، میرا خیال ہے، حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ابو طیبہ، ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا رضاعی بھائی تھا یا نابالغ لڑکا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5744]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2207 ترقیم شاملہ: -- 5745
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَي : وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ.
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جب) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (کو جنگ خندق کے موقع پر ہاتھ کی بڑی رگ پر زخم لگا تو ان) کے پاس ایک طبیب بھیجا، اس نے ان کی (زخمی) رگ (کی خراب ہو جانے والی جگہ) کاٹی، پھر اس پر داغ لگایا (تاکہ خون رک جائے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5745]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ كے پاس ایک طبیب (اپنے فن کا ماہر) بھیجا، اس نے ان کی رگ کاٹی اور اس کو داغ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5745]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2207
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2207 ترقیم شاملہ: -- 5746
وحدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرَا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا.
جریر اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ بیان کیا اور ”تو ان کی رگ کاٹی“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5746]
امام کو یہ روایت ان کے دو اور استاد سناتے ہیں، لیکن انہوں نے رگ کاٹنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5746]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2207
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2207 ترقیم شاملہ: -- 5747
وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: " رُمِيَ أُبَيٌّ يَوْمَ الأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سلیمان نے کہا: میں نے ابوسفیان کو سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا: غزوہ احزاب میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا۔ کہا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5747]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، جنگ احزاب میں حضرت ابی کی اکحل یعنی رگ حیات میں تیر لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5747]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2207
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2208 ترقیم شاملہ: -- 5748
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ، قَالَ: " فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ثُمَّ وَرِمَتْ فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا، کہا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تیر کے پھل کے ساتھ اس (جگہ) کو داغ لگایا، ان کا ہاتھ دوبارہ سوج گیا تو آپ نے دوبارہ اس پر داغ لگایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5748]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی رگ حیات پر تیر مارا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے، اسے چھری کے ذریعہ داغا، وہ رگ پھر سوج گئی تو آپ نے اسے دوبارہ داغا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5748]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2208
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1202 ترقیم شاملہ: -- 5749
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَاسْتَعَطَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوانے اور لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور آپ نے ناک کے ذریعے دوائی لی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5749]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگی لگوائی اور حجام کو اجرت دی اور ناک کے ذریعہ دوائی لی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5749]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1202
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1577 ترقیم شاملہ: -- 5750
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ ".
عمر بن عامر انصاری نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے بھی لگوائے، آپ کسی کی اجرت کے معاملے میں کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتے تھے (بلکہ زیادہ عطا فرماتے تھے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5750]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی اجرت میں کمی نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5750]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1577
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة