الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 12477
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَشْفَعُ لِأَكْثَرَ مِنْ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِهَا“
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے، جو قبیلہ ربیعہ اور مضر کے افراد سے زیادہ لوگوں کے حق میں سفارش کریں گے اور میری ہی امت میں بعض ایسے افراد بھی ہوں گے، جو جہنم کے لیے بڑے ہو جائیں گے، یہاں تک جہنم کا کونہ بھر جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12477]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن قيس جھّله علي ابن المديني والذھبي وابن حجر أخرجه مختصرا ابن ماجه: 4323، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17858 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18013»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12478
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ”لَا تَعْجِزُ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهَا نِصْفَ يَوْمٍ“ وَسَأَلْتُ رَاشِدًا هَلْ بَلَغَكَ مَاذَا النِّصْفُ يَوْمٍ قَالَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجزنہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب میں نصف یوم تک روکے رکھے۔ ابو بکر کہتے ہیں: میں نے راشد سے کہا: کیاآپ کو اس بارے میں کوئی خبر پہنچی کہ نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12478]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه ابوداود: 4350، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1464»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12479
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفَ يَوْمٍ“ فَقِيلَ لِسَعْدٍ وَكَمْ نِصْفُ يَوْمٍ قَالَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجز نہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب کے لیے نصف یوم تک روکے رکھے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا: نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12479]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1465»
وضاحت: فوائد: … یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت حشر کے میدان میں نصف دن تک صبر کر سکے گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12480
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَبَى“ قَالُوا وَمَنْ يَأْبَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میری ساری امت جنت میں جائے گی، ما سوائے ان لوگوں کے جو خود جنت میں جانے سے انکاری ہوں۔ صحابۂ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں جانے سے کون انکارکرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12480]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8713»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12481
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَرْكَبُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ثَبَجَ الْبَحْرِ أَوْ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ هُمُ الْمُلُوكُ عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک قوم اس سمندر کی سطح پر سوار ہوگی، وہ یوں لگیں گے جیسے تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12481]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2788، 6282، ومسلم: 1912، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13554»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12482
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَالَ ”مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ“
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: وہ اللہ کی راہ میں غز وۂ کرتے ہوئے اس بحرا خضر کی سطح پر سوار ہوں گے، ان کی مثال یوں ہوگی جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12482]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27921»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث میں بحری جہاد کا ذکر ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۴۸۳۷) والا باب
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12483
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ“
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا ابتدائی حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12483]
تخریج الحدیث: «حديث قوي بطرقه وشواھده، اخرجه ابن حبان: 7226، والطيالسي: 647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19087»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12484
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ مَثَلَ أُمَّتِي مَثَلَ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12484]
تخریج الحدیث: «حديث قوي بطرقه وشواھده، أخرجه الترمذي: 2869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12352»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12485
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ أَلَا فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ أَلَا فَعَمِلَتِ النَّصَارَى ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ عَمِلْتُمْ فَغَضِبَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالُوا نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَاءً قَالَ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّمَا هُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو بہت سے لوگوں کو بطور مزدور لگائے اور ان سے کہے: کون ہے جو صبح سے نصف النہار تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ یہودیوں نے اس شرط پر کام کیا، اس نے پھر کہا: کون ہے جو نصف النہار سے نماز عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ نصاریٰ نے اس شرط پر کام کرنا منظور کر لیا، اس نے بعد ازاں کہا: کون ہے جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک دو دو قیراط کے عوض پر کام کرے گا۔ خبردار! وہ تم ہی ہو، جو تھوڑا وقت اور زیادہ معاوضہ پرکام کرنے والے ہو، یہ سن کر یہود اور نصاریٰ غضبناک ہوئے کہ ہم نے محنت زیادہ کی اور مزدوری تھوڑی ملی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پہلے یہ بتاؤ کہ کیا میں نے تمہارے حق میں کچھ کمی کی ہے یا اجرت کے سلسلہ میں تم پر کوئی زیادتی کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، یہ میں جسے چاہتا ہوں، دے دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12485]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2268، 3459، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4508»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر اتنا کرم کیا کہ اس کو تھوڑے وقت کے عوض معاوضہ زیادہ دیا۔ اس حدیث سے یہ استدلال کشید کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ نمازِ عصر کا وقت دو مثل سائے سے شروع ہوتا ہے، اس موضوع پر متعلقہ ابواب میں بحث ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12486
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَثَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلُ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَعْمَلُ بِهِ فِي مَالِهِ فَيُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ مَا لِهَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ“ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَهُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِيهِ يُنْفِقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ وَرَجُلٌ لَمْ يُؤْتِهِ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ مِثْلُ هَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ“ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَهُمَا فِي الْوِزْرِ سَوَاءٌ“
سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت کی مثال چار آدمیوں کی مانند ہے، ایک کو اللہ تعالیٰ مال اور علم سے نوازے،وہ اپنے علم کو مال میں استعمال کرے اور مال حاصل کرکے اس کے جائز مقامات پر صرف کرے،دوسرے کو اللہ تعالیٰ علم عطا فرمائے اور مال نہ دے، وہ کہے اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی اسے اس کی طرح اس کے جائز مقامات پر صرف کرتا،تیسرے کو اللہ تعالیٰ مال تو دے مگر علم نہ دے، وہ اپنے مال ہی میں مگن رہے، نہ تو صلہ رحمی کرے اور نہ کسی حقدار کو حق ادا کرے بلکہ وہ اس مال کو ناحق خرچ کرتا ہے اور چوتھے کو اللہ تعالیٰ نہ مال دے اور نہ علم اور وہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں بھی اس کی طرح ناجائز کا موں میں خرچ کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گناہ میں یہ اور وہ دونوں برابر ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12486]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه ابن ماجه: 4228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18187»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اس امت کے افراد کی کل چار قسمیں ہیں، ہر آدمی اپنا جائزہ لے کر بآسانی فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح