🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. الْبَابُ الرابع في مَلاكِ مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَوْ اَرَادَهُمْ بِسُوءٍ وَطَرَدِهِ عَنْ رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12649
عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ظُلْمًا أَخَافَهُ اللَّهُ وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا“
سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظلم کرتے ہوئے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اللہ اسے خوف زدہ کرے گا اور اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12649]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 6635، والنسائي في الكبري: 4265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16673»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12650
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَخَافَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے خوف زدہ کرے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12650]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16675»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12651
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ، فَقَالَ: تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا: يَا أَبَتِ وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ.“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ظالم حکمرانوں میں سے ایک حکمران مدینہ منورہ آیا، اس وقت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہو چکی تھی، کسی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ اس سے ایک طرف ہی رہیں تو بہتر ہوگا، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے گئے تو انہیں چوٹ لگ گئی پس انہوں نے کہا: ہلاک ہواوہ آدمی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوف زدہ کیا، ان کے دونوں یا ایک بیٹے نے کہا: اباجان!اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے خوف زدہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو وفات پاچکے ہیں؟ انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اس نے مجھے ڈرایا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12651]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 180،و ابن حبان: 3738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14878»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12652
عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.“
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خو ف زدہ کرنے یا ان کے ساتھ برا سلوک کرنے کا ارادہ کیا، اللہ اسے اس طرح نسیت و نابود کردے گا، جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12652]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1558»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12653
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ الثَّلَاثَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: ”مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.“
ابو عبداللہ قراظ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں تین بار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر گواہی دیتے ہوئے کہتا ہوں کہ انھوں نے کہا کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برا سلوک کرنے کا ارادہ کیا، اللہ اسے یوں ہلاک کر دے گا جیسے نمک پانی میں میں گھل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12653]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1386، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8075»
وضاحت: فوائد: … ایسا آدمی اللہ تعالیٰ کی اس انتقامی کاروائی کا دنیا میں بھی مصداق بن سکتا ہے اور آخرت میں بھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12654
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.“
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا،اللہ اسے اس طرح ختم کردے گا، جیسے نمک پانی میں حل ہو کر ختم ہوجاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12654]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8672»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں