الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12645
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِيَ الْحَرَّةِ فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ عَنِ الْمَدِينَةِ وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا
۔ (دوسری سند) ابو سعید واقعہ حرہ کے ایام میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور مدینہ سے نقل مکانی کے بارے میں مشورہ کیا اور اوپر والی حدیث والا واقعہ بیان کیا، آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا (جو آدمی مدینہ منورہ میں پیش آنے والے مصائب و شدائد پر صبر کرے گا)، بشرطیکہ وہ مسلمان ہوگا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12645]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11575»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11575
حدیث نمبر: 12646
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مدینہ میں پیش آنے والے مصائب و شدائد پر صبرکرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12646]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه النسائي في الكبري: 4282، والطبراني في الكبير: 24/ 373، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27625»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12647
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَوُعِكَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى ثُمَّ أَتَاهُ فَأَبَى فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا خَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتُنَصِّعُ طَيِّبَهَا“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر اسلام پر بیعت کی، بعد میں اسے بخار ہوگیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: آپ میری بیعت واپس کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا، وہ پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر انکار کردیا، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بیعت واپس کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے پوچھا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ تو چلا گیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ ایک بھٹی کی مانند ہے، یہ برے لوگوں کو باہر نکال دیتا ہے اوراچھے لوگوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12647]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7208، 7211، ومسلم: 1383، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14335»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7208
حدیث نمبر: 12648
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَسْلَمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر اسلام قبول کیا اور ہجرت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کہا: آپ میری بیعت واپس کر دیں، …۔ پھر روایت کا باقی حصہ ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12648]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15287»
وضاحت: فوائد: … ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((أُمِرْتُ بِقَرْیَۃٍ تَأْکُلُ الْقُرٰی، یَقُوْلُوْنَ: یَثْرِبُ، وَھِیَ الْمَدِیْنَۃُ، تَنْفِیْ النَّاسَ کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ مِنْ طُرُقٍ أُخْرٰی عَنْہُ مَرْفُوْعًا بِلَفْظِ: ((یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَدْعُوْ الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّہٖ وَقَرِیْبَہٗ: ھَلُمَّ إِلَی الرَّخَائِ ھَلُمَّ إِلَی الرَّخَائِ وَالْمَدِیْنَۃُ خَیْرٌ لَّھُمْ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ، لَایَخْرُجُ مِنْھُمْ أَحَدٌ رَغْبَۃً عَنْھَا إِلَّا أَخْلَفَ اللّٰہُ فِیْھَا خَیْرًا مِّنْہُ، أَلَا إِنَّ الْمَدِیْنَۃَ کَالْکِیْرِ تُخْرِجُ الْخَبِیْثَ، لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَنْفِیْ الْمَدِیْنَۃُ شِرَارَھَا کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔)) … مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم دیا گیا ہے جس (کے باسی) دوسری بستیوں پر غالب آ جائیں گے۔لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، جبکہ وہ مدینہ ہے، جو لوگوں سے برائیوں کو اس طرح دور کرتی ہے، جس طرح دھونکنی لوہے کی میل کچیل صاف کر دیتی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی اپنے چچیرے بھائی یا کسی رشتہ دار کو یوں بلائے گا:ـ (مدینہ کو چھوڑو اور) خوشحالی کی طرف آؤ، آسودگی کی طرف آؤ۔ لیکن مدینہ میں بسیرا کرنا ان کے لیے بہتر ہو گا۔ کاش انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کوئی آدمی مدینہ سے بے رغبتی کرتے ہوئے نکل جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس سے بہترین فرد کو لے آئے گا۔ آگاہ رہو! مدینہ تو دھونکنی کی طرح ہے جو خبیث لوگوں کو خارج دیتا ہے۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مدینہ شرّ پسند لوگوں (کوجلاوطن کر کے ان کی) یوں نفی نہ کر دے گا جس طرح کہ بھٹی لوہے کی کھوٹ کو ختم کر دیتی ہے۔
(صحیح بخاری: ۴/۶۹۔۷۰، صحیح مسلم: ۹/۱۵۴)
اس میں مدینہ کے باسیوں کی عظمتوں کا بیان ہے، ان کو بھی چاہئے کہ جہاں ان کی پناہ گاہ عظیم ہے، وہ اپنے آپ کو بھی عظیم تر ثابت کریں۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: (امرت بقریۃ): خطیب نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایک گاؤں کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(تاکل القری): کا معنی ہے کہ اس بستی والے دوسری بستیوں والوں پر غالب آ جائیں گے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق زمانۂ دجال سے ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ جب دجال مدینہ کا قصد کرے گا تو مدینہ تین دفعہ زور زور سے ہلے گا اور اللہ تعالیٰ ہر کافر اور منافق کو اس سے (اس دجال کی طرف) نکال دے گا، (کیونکہ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا)۔ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں سکونت اختیار کرنے پر صبر کرنے کی فضیلت ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ساتھ خاص تھی، جیسا کہ بد و والی درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتاہے:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسلام پر بیعت کی، لیکن اسے مدینہ میں بخار ہو گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ نے انکار کر دیا۔ وہ دوسری مرتبہ آیا اور کہا: مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ وہ تیسری دفعہ آیا اور کہا کہ مجھے میری بیعت واپس کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ (بالآخر اجازت نہ ملنے کے باوجود)وہ بدو مدینہ سے نکل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ تو دھونکنی اور بھٹی کی طرح ہے، یہ خبیث چیز کی نفی کر دیتا ہے اور طیب چیز کو نکھارتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۱۷)
غور فرمائیں! ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ} (سورۂ توبہ: ۱۰۱) … اور کچھ مدینے والوں میں ایسے (منافق) ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔
بلا شک وشبہ منافق خیبث ہے، جبکہ وہ مدینہ میں بھی رہ رہا ہو، اس لیے ان احادیث میں یہ جو کہا گیا ہے کہ مدینہ خبیث چیز کی نفی کرتا ہے، یہ اسمتراراً نہیں، بلکہ تکراراً ہے۔ ایک دفعہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہو چکا ہے اور دوبارہ دجال کے دور میں ہو گا۔ (صحیحہ: ۲۱۸)
(صحیح بخاری: ۴/۶۹۔۷۰، صحیح مسلم: ۹/۱۵۴)
اس میں مدینہ کے باسیوں کی عظمتوں کا بیان ہے، ان کو بھی چاہئے کہ جہاں ان کی پناہ گاہ عظیم ہے، وہ اپنے آپ کو بھی عظیم تر ثابت کریں۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: (امرت بقریۃ): خطیب نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایک گاؤں کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(تاکل القری): کا معنی ہے کہ اس بستی والے دوسری بستیوں والوں پر غالب آ جائیں گے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق زمانۂ دجال سے ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ جب دجال مدینہ کا قصد کرے گا تو مدینہ تین دفعہ زور زور سے ہلے گا اور اللہ تعالیٰ ہر کافر اور منافق کو اس سے (اس دجال کی طرف) نکال دے گا، (کیونکہ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا)۔ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں سکونت اختیار کرنے پر صبر کرنے کی فضیلت ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ساتھ خاص تھی، جیسا کہ بد و والی درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتاہے:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسلام پر بیعت کی، لیکن اسے مدینہ میں بخار ہو گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ نے انکار کر دیا۔ وہ دوسری مرتبہ آیا اور کہا: مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ وہ تیسری دفعہ آیا اور کہا کہ مجھے میری بیعت واپس کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ (بالآخر اجازت نہ ملنے کے باوجود)وہ بدو مدینہ سے نکل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ تو دھونکنی اور بھٹی کی طرح ہے، یہ خبیث چیز کی نفی کر دیتا ہے اور طیب چیز کو نکھارتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۱۷)
غور فرمائیں! ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ} (سورۂ توبہ: ۱۰۱) … اور کچھ مدینے والوں میں ایسے (منافق) ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔
بلا شک وشبہ منافق خیبث ہے، جبکہ وہ مدینہ میں بھی رہ رہا ہو، اس لیے ان احادیث میں یہ جو کہا گیا ہے کہ مدینہ خبیث چیز کی نفی کرتا ہے، یہ اسمتراراً نہیں، بلکہ تکراراً ہے۔ ایک دفعہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہو چکا ہے اور دوبارہ دجال کے دور میں ہو گا۔ (صحیحہ: ۲۱۸)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15287