🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12804
عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنِّي بِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَلِجُ قُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّلَامُ فَلِجْ، فَلَمَّا دَخَلَ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! أَيَّةَ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ؟ قَالَ: طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ فَذَكَرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُحَدِّثُهُ قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (تَكُونُ فِتْنَةٌ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ وَالرَّاكِبُ خَيْرٌ مِنَ الْمُجْرِي، قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ) ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: ( (ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ) ) قُلْتُ: وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ؟ قَالَ: ( (حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ) ) قَالَ قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: ( (اكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَكَ وَادْخُلْ دَارَكَ) ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَيَّ دَارِي؟ قَالَ: ( (فَادْخُلْ بَيْتَكَ) ) قَالَ: قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي؟ قَالَ: ( (فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ وَاصْنَعْ هَكَذَا، وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكَوْعِ وَقُلْ رَبِّيَ اللَّهُ حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ) )
سیدنا وابصہ اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں کوفہ والے اپنے گھر میں تھا کہ دروازے پر یہ آواز سنائی دی:السلام علیکم، میں اندر آ جاؤں، میں نے کہا: وعلیکم السلام، جی تشریف لے آئیں، وہ آدمی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے؟ یہ عین دوپہر کا وقت تھا۔ انہوں نے کہا: دن مجھ پر لمبا ہو رہا تھا، میں سوچنے لگا کہ کس کے ساتھ باتیں کر کے وقت گزارا جائے، (اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا)۔ پھر وہ مجھے احادیث ِ نبویہ بیان کرنے لگے اور میں ان کو، انھوں نے یہ حدیث بھی بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتنے بپا ہوں گے، ان حالات میں سویا ہو ا آدمی لیٹے ہوئے سے،لیٹا ہوا بیٹھنے والے سے، بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑے ہونے والا چلنے والے سے، چلنے والا سوار سے اور اونٹ سوار گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگنے والے آدمی سے بہتر ہو گا، ان لڑائیوں میں قتل ہونے والے سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتلِ عام کے دنوں میں۔ میں نے کہا:قتلِ عام کب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان اپنے ساتھ بیٹھنے والے آدمی پر اعتماد نہیں کرے گا۔ میں نے کہا: اگر میں ایسے زمانے کو پا لوں تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے نفس اور ہاتھ کو روک لینا اور گھر کے اندر ہی رہنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی جھگڑالو میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر کے کسی کمرے میں چلے جانا۔ میں نے کہا: اگر وہ میرے کمرے کے اندر بھی گھس آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں داخل ہو جانا اور اس طرح کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی بند مٹھی کا انگوٹھے والا کنارہ پکڑ لیا اور فرمایا: اور کہنا کہ اللہ ہی میرا رب ہے، حتی کہ اسی حالت پر مر جانا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12804]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود باختصار، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4286»
وضاحت: فوائد: … ان لڑائیوں میں قتل ہونے والے سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔ اس کو مسلمانوں کے مابین ہونے والی ان لڑائیوں پر محمول کیا جائے گا، جن کی دونوں طرف سے بنیاد عصبیت، حمیت اور جاہلیت پر ہو گی اور ان میں کوئی شرعی سبب نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12805
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْجَالِسِ، وَالْجَالِسُ خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي“، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: ”مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَعْمَدْ إِلَى سَيْفِهِ فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ صَخْرَةً، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ“
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں لیٹے والا آدمی بیٹھے ہوئے سے، بیٹھا ہوا کھڑے ہونے والے،،کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا فتنوں میں بھاگ کر شامل ہونے والے سے بہتر ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حالات کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں، وہ اپنے اونٹوں میں مشغول ہو جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ ان میں مصروف ہو جائے، جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں لگ جائے اور جس کے پاس ایسی کوئی مصروفیت نہ ہو وہ اپنی تلوار کو کسی پتھر پر مار کر اس کی دھار کو ناکارہ کر لے اور جس قدر ممکن ہو ان فتنوں سے دور رہے، اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12805]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20683»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12806
(وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ: ”اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ“، إِذْ قَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُخِذَ بِيَدِي مُكْرَهًا حَتَّى يَنْطَلِقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ، عُثْمَانُ يَشُكُّ، فَيَحْذِفُنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ فَيَقْتُلُنِي، مَاذَا يَكُونُ مِنْ شَأْنِي؟ قَالَ: ”يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ“
۔ (دوسری سند) اوپر والی حدیث کے آخری الفاظ اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔ کے بعد اس میں یہ اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تحقیق میں نے تیری بات پہنچا دی‘ اے اللہ! تحقیق میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے‘ اگر کوئی آدمی میرے ہاتھ کو پکڑ لیتا ہے اور مجبور کر کے کسی ایک صف یا گروہ کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے، پھرکوئی آدمی تلوار کی ضرب لگا کر مجھے قتل کر دیتا ہے، تو میرا کیا بنے گا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے گناہوں اور تیرے گناہوں کے ساتھ لوٹے گا اور وہ جہنمی لوگوں میں سے ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12806]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 5548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:20490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20764»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12807
وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عِنْدَ فِتْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي“، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ لِيَقْتُلَنِي؟ قَالَ: ”كُنْ كَابْنِ آدَمَ“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں برپا ہونے والے فتنے کے موقع پر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: عنقریب فتنہ برپا ہوگا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا اس فتنہ میں بھاگ کر حصہ لینے والے سے بہتر ہو گا۔ ایک شخص نے کہا: اگر کوئی شخص زبردستی میرے گھر میں داخل ہو کر مجھے قتل کر نے کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: آدم علیہ السلام کے اس بیٹے والا طرز عمل اختیار کرنا (جو خود تو قتل ہوگیا لیکن اس نے دوسرے پر ہاتھ نہ اٹھایا تھا)۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12807]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1609»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12808
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ عَنَزَةَ يُقَالُ لَهُ زَائِدَةُ أَوْ مَزِيدَةُ بْنُ حَوَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِهِ، فَنَزَلَ النَّاسُ مَنْزِلًا، وَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ دَوْحَةٍ، فَرَآنِي وَأَنَا مُقْبِلٌ مِنْ حَاجَةٍ لِي وَلَيْسَ غَيْرُهُ وَغَيْرُ كَاتِبِهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟“، قُلْتُ: عَلَامَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَلَهَا عَنِّي وَأَقْبَلَ عَلَى الْكَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ دَنَوْتُ دُونَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”نَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟“، قُلْتُ: عَلَامَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَلَهَا عَنِّي وَأَقْبَلَ عَلَى الْكَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمَا فَإِذَا فِي صَدْرِ الْكِتَابِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمَا لَنْ يُكْتَبَا إِلَّا فِي خَيْرٍ، فَقَالَ: ”أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟“، فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَا ابْنَ حَوَالَةَ! كَيْفَ تَصْنَعُ فِي فِتْنَةٍ تَثُورُ فِي أَقْطَارِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ؟“، قَالَ: قُلْتُ: أَصْنَعُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”عَلَيْكَ بِالشَّامِ“، ثُمَّ قَالَ: ”كَيْفَ تَصْنَعُ فِي فِتْنَةٍ كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا نَفْجَةُ أَرْنَبٍ؟“، قَالَ: فَلَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ، وَلَأَنْ أَكُونَ عَلِمْتُ كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں:زائدہ یا مزیدہ بن حوالہ نامی عنزہ قبیلے کے ایک آدمی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگ ایک مقام پر ٹھہرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایک بڑے درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے، میں اپنے کسی کام سے فارغ ہو کر آرہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا، آپ کے پاس صرف کاتب (لکھنے والا) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کس سلسلہ میں؟ پھر آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، جب میں مزید قریب ہوا، تو آپ نے دوبارہ فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا:اللہ کے رسول! کس سلسلہ میں؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، اتنے میں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالکل قریب آگیا اور دیکھا کہ تحریر کے آغاز میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نام لکھے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر میں جان گیا کہ ان کے نام کسی اچھے کام کے لیے ہی لکھے گئے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ابن حوالہ! کیا ہم تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے نبی! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن حوالہ! تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جوزمین کے اطراف میں اس طرح پھیل جائے گا، جیسے وہ گائے کے سینگ ہوں؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بتلا دیں کہ مجھے اس دوران کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا: تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جو خرگوش کی چھلانگ کی مانند یعنی پہلے فتنہ کے بعد جلد ہی بپا ہو جائے گا؟ سیدنا زائدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے دوسرے فتنہ کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا، وہ مجھے یاد نہیں رہا، لیکن جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے فتنے میں بارے میں فرمایا تھا، اگر وہ مجھے یاد ہوتا تو وہ مجھے اتنے اتنے خزانوں سے بھی محبوب ہوتا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12808]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 1249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20623»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12809
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَرْتُ بِالرَّبْذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: رَحِمَكَ اللَّهُ، إِنَّكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ بِمَكَانٍ، فَلَوْ خَرَجْتَ إِلَى النَّاسِ فَأَمَرْتَ وَنَهَيْتَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأْتِ بِسَيْفِكَ أُحُدًا، فَاضْرِبْ بِهِ عَرْضَهُ، وَاكْسِرْ نَبْلَكَ، وَاقْطَعْ وَتَرَكَ، وَاجْلِسْ فِي بَيْتِكَ“، فَقَدْ كَانَ ذَلِكَ، وَفِي رِوَايَةٍ: ”فَاضْرِبْ بِهِ حَتَّى تَقْطَعَهُ، ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ يُعَافِيَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ“، فَقَدْ كَانَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ، ثُمَّ اسْتَنْزَلَ سَيْفًا كَانَ مُعَلَّقًا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ، فَاخْتَرَطَهُ، فَإِذَا سَيْفٌ مِنْ خَشَبٍ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَاتَّخَذْتُ هَذَا أُرَهِّبُ بِهِ النَّاسَ
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ربذہ مقام سے میرا گزر ہوا، وہاں ایک خیمہ لگا ہوا تھا،میں نے پوچھا کہ یہ خیمہ کس کا ہے؟ کسی نے کہا کہ یہ محمدبن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا ہے، پس میں نے ان کے پاس خیمہ میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور اندر چلا گیا، میں نے کہا: آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ کا اس جنگل میں کیا کام؟ بہتر ہوتا کہ آپ لوگوں میں رہتے اور ان کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنہ، تفرقہ بازی اور اختلاف پیدا ہو گا، اور اگر ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو تم اپنی تلوار لے کر اس احد پہاڑ پر مار کر اسے کند کر دینا‘ تیر کو توڑ ڈالنا اور کمان کی تندی کاٹ دینا اوراپنے گھر میں بیٹھ جانا۔ اب ایسے ہی ہو چکا ہے، (اس لیے میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں)۔ ایک روایت میں ہے: اپنی تلوار کو پہاڑ پر مار کر توڑ دینا، پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا، یہاں تک کہ کوئی ظالم آدمی تمھارے گھر کے اندر گھس آئے یا اللہ تعالیٰ تمہیں محفوظ رکھے۔ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، وہ ہو چکا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جو حکم دیا تھا، میں نے اسی پر عمل کیا ہے۔ پھر انھوں نے خیمہ کے ستون سے لٹکی ہوئی تلوار اتروائی، لیکن جب اسے میان سے نکالا تو وہ تو لکڑی کی تلوار تھی، پھر انھوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر عمل کر کے اپنے تلوار توڑ ڈالی ہے اور لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے یہ رکھی ہوئی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12809]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 3962، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16125»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12810
وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ ذِي الْأَصَابِعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِ ابْتُلِينَا بَعْدَكَ بِالْبَقَاءِ، أَيْنَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”عَلَيْكَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَنْشَأَ لَكَ ذُرِّيَّةٌ يَغْدُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَسْجِدِ وَيَرُوحُونَ“
سیدنا ذو اصابع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد ہم اتنی زندگی پائیں کہ ہماری آزمائشیں شروع ہو جائیں تو آپ ہمیں کس مقام کی طرف چلے جانے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بیت المقدس چلے جانا، کیونکہ ممکن ہے کہ وہاں تمہاری اولاد بڑھے اور وہ صبح شام مسجد میں جا سکیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12810]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عثمان بن عطاء الخراساني، وقد اختلف عليه فيه، أخرجه الطبراني في الكبير: 4238، والبخاري في التاريخ الكبير: 3/ 264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16749»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12811
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ وَقَالَ: ”يَا أَبَا ذَرٍّ! أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِلَى مَسْجِدِكَ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟“، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ”تَعَفَّفْ“، قَالَ: ”يَا أَبَا ذَرٍّ! أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ شَدِيدٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْعَبْدِ، يَعْنِي الْقَبْرَ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟“، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ”اصْبِرْ“، قَالَ: ”يَا أَبَا ذَرٍّ! أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، يَعْنِي حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مِنَ الدِّمَاءِ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟“، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ”اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ وَاغْلِقْ عَلَيْكَ بَابَكَ“، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أُتْرَكْ؟ قَالَ: ”فَائْتِ مَنْ أَنْتَ مِنْهُمْ فَكُنْ فِيهِمْ“، قَالَ: فَآخُذُ سِلَاحِي؟ قَالَ: ”إِذًا تُشَارِكُهُمْ فِيمَا هُمْ فِيهِ، وَلَكِنْ إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَرُوعَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ حَتَّى يَبُوءَ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ“
سیدناابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر لوگ شدید بھوک کی آزمائش سے دوچار ہو جائیں اورتم اپنے بستر سے مسجد تک جانے کی بھی استطاعت نہ رکھتے ہو تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسے حالات میں تم کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنا۔ آپ نے پھر پوچھا: ابوذر! کیا خیال ہے کہ اگر لوگوں میں موت اس قدر عام ہوجائے کہ ایک قبر ایک غلام کے عوض ملے تو تم کیا کروگے؟ میں نے کہا:اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے حالات میں تم صبر کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید پوچھا: ابوذر! کیا خیال ہے کہ اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں اور اس قدر خون بہا دیا جائے کہ حجارۃ الزیت مقام خون میں ڈوب جائے تو تم کیا کرو گے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم گھر کے اندر بیٹھ جانا اور دروازہ بھی بند کیے رکھنا۔ میں نے کہا: اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اپنی قوم کے پاس جا کر انہی میں رہنا۔ میں نے کہا:کیا میں اپنے ہتھیار اٹھالوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہتھیار اٹھانے کی صورت میں تو تم بھی لوگوں کی لڑائی میں شریک ہو جاؤ گے۔، تمہاری صورتحال یہ ہونی چاہیے کہ جب تم تلوار کی شعاع سے ڈرنے لگو تو اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا، تاکہ (قاتِل) اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ واپس لوٹے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12811]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4261، 4409، وابن ماجه: 3958، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21651»
وضاحت: فوائد: … حجارۃ الزیت، مدینہ منورہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12812
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ؟“، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا“، وَشَبَّكَ يُونُسُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) بَيْنَ أَصَابِعِهِ يَصِفُ ذَاكَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَصْنَعُ عِنْدَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”اتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَخُذْ مَا تَعْرِفُ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِخَاصَّتِكَ، وَإِيَّاكَ وَعَوَامَّهُمْ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم گھٹیا لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: جب مسلمانوں کے وعدوں اور امانتوں میں کھوٹ پیدا ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہو جائیں گے۔ یونس راوی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے انگلیوں میں تشبیک دی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس وقت کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا‘ اچھے عمل کرنا، غلط کاموں سے بچ کر رہنا اور اپنے مخصوص لوگوں کا خیال کرنا اور عام لوگوں سے بچ کر رہنا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12812]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري عن ابن عمر أو ابن عمرو: 478، 479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6508»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12813
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُغَرْبَلُونَ فِيهِ غَرْبَلَةً، يَبْقَى مِنْهُمْ حُثَالَةٌ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا“، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ! فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: ”تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ وَتَدَعُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں لوگوں کی اس طرح چھان بین کی جائے گی کہ صرف گھٹیا اور ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے وعدوں اور امانتوں میں کھوٹ پید اہو جائے گی اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے اختلاف کر یں گے اور اس طرح ہو جائیں گے۔ راوی نے اپنی انگلیوں میں تشبیک ڈالی۔ صحابہ کرام نے کہا: اللہ کے رسول! ایسے حالات سے نکلنے کی صورت کیا ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اچھے کام کرنا، برے کاموں سے بچنا اور مخصوص لوگوں پر توجہ دینا اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دینا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12813]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7049»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں