🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. فِتَنْ عَامَّةٌ وَأُمُورٌ هَامَّةٌ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا بَعْدَ حُصُولِها
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12855
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ“ وَبِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ أَوْ قَالَ إِنَّ رَبِّي زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَإِنِّي أُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكُوا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَقَالَ يُونُسُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُ لِأُمَّتِكَ أَنِّي لَا أُهْلِكُهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا أُسَلِّطُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِ أَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ مَنْ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُسْبِي بَعْضًا وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ وَإِذَا وُضِعَ فِي أُمَّتِي السَّيْفُ لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ حَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ڈر ہے۔ پھر اسی سند سے سیدناثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا اور میں نے اس کے مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک اس نے زمین کو میرے لیے سکیڑا اور مجھے سرخ و سفید (یعنی سونے اورچاندی) کے دو خزانے عطا کیے گئے، میں نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کو عام قحط کے ذریعے ہلاک نہ کیا جائے اور ان پر ان کے غیر کو مسلّط نہ کیا جائے کہ وہ ان کا ستیاناس کر دے۔ میرے ربّ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور میں آپ کی یہ دعا آپ کی امت کے حق میں قبول کر تا ہوں کہ میں انہیں عام قحط کے ذریعے ہلاک نہیں کروں گا اور نہ ہی ان کے غیر کو ان پر مسلط کروں گا، جو انہیں قتل کر کے ان کو جڑ سے اکھاڑ دے، خواہ روئے زمین کے تمام دشمن جمع ہو کر آ جائیں، البتہ یہ ہو گا کہ یہ خود ایک دوسرے کو قیدی بنانے لگیں گے، اور مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ضرور ہے اور جب میری امت میں ایک دفعہ تلوار چل جائے گی،تو وہ قیامت تک بند نہیں ہو گی، نیز قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی جب تک کہ میری امت کے کئی قبائل مشرکوں کے ساتھ نہیں مل جائیں گے اور میری امت کے بہت سے قبائل بتوں کی پوجا شروع کر دیں گے،عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخر ی نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میری امت میں ایک گروہ قیامت تک حق پر قائم اور غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12855]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1920، 2889، وابوداود!: 4252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22816»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معجزاتی طور پر مسلم فاتحین کی فتوحات کا سلسلہ دکھا دیا گیا، امام نووی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیسے خبر دی، ایسے ہی واقع ہوا، اس حدیث میں یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ اس امت کی بادشاہت زیادہ تر شرق و غرب کی جہتوں کی طرف پھیلے گی اور عملاً ایسے ہی ہوا اور یہ سلسلہ شمال و جنوب کی طرف زیادہ نہ پھیل سکا۔
سرخ و سفید (سونے اور چاندی) کے دو خزانے: سونے سے مراد کسری کے خزانے ہیں، ان کی زیادہ تر نقدی دیناروں پر مشتمل تھی اور چاندی سے مراد قیصر کے خزانے ہیں، ان کی زیادہ تر نقدی چاندی کی تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1920
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12856
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوشِكُ أَنْ تَتَدَاعَى عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَتَدَاعَى الْأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا“، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ”أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ تَكُونُونَ غُثَاءً كَغُثَاءِ السَّيْلِ، يُنْتَزَعُ الْمَهَابَةُ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ، وَيُجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ“، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: ”حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ“
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ساری ملّتوں والے ہر طرف سے تم پر اس طرح جھپٹ پڑیں، جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان دنوں میں قلیل ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ ان دنوں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی، لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے ساتھ بہنے والے پتوں، تنکوں اور جھاگ کی سی ہو گی اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکل جائے گا اور تمہارے دلوں میں وَھْن آجائے گا۔ ہم نے پوچھا: وھن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے محبت کرنا اور موت کو ناپسند کرنا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12856]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22760»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر دنیائے اسلام اس حدیث کی مصداق بن چکی ہے، مسلمانوں نے دنیوی محبت، موت کی کراہت اور دشمنوں کے رعب کی وجہ سے جہاد ترک کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں اور اسلامی مملکتوں کا رعب ختم ہو چکا ہے، بلکہ وہ دشمنوں کے سامنے بری طرح مرعوب ہو چکے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12857
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتَّى يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ“
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک ہرگز ہلاک نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ بہت گناہوں اور عیبوں والے نہ ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12857]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22873»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12858
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی علاماتِ قیامت میں سے ہے کہ ایک آدمی محض اپنی واقفیت اور تعارف کی وجہ سے دوسرے پر سلام کرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12858]
تخریج الحدیث: «حديثه حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 9491، والحاكم: 4/ 445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3848»
وضاحت: فوائد: … یہ بیماری بھی مسلمانوں میں عام ہو گئی ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے رشتے کو سامنے رکھ کر سلام کو عام کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن ہم پر ہماری ذاتی معرفت کا لحاظ غالب آ گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديثه حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12859
عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَوْ فِي شِرَارِ الْخَلْقِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ“
سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز بھی علاماتِ قیامت سے ہے یا لوگوں کی برائیوں میں سے ہے کہ مسجد والے (سارے لوگ امامت کرانے کے لیے) ایک دوسرے کو آگے دھکیلیں گے، چنانچہ وہ کوئی امام نہیں پائیں گے، جو ان کو نماز پڑھائے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12859]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حالِ كلٍّ من ام غراب وعقيلة، وام غراب ھي طلحة مولاة بني فزارة، أخرجه ابوداود: 581، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27138 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27679»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حالِ كلٍّ من ام غراب وعقيلة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12860
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا يَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى يَطْلُعَ، فَكُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُهُ حَتَّى يُولَدَ فِي الْجَوْرِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ، ثُمَّ يَأْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِالْعَدْلِ، فَكُلَّمَا جَاءَ مِنَ الْعَدْلِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُهُ حَتَّى يُولَدَ فِي الْعَدْلِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ“
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ عرصہ تک ظلم بندرہے گا، پھر وہ پھیلنا شروع ہوجائے گا اور جس قدر ظلم پھیلے گا، اسی مقدار میں عدل اٹھتا جائے گا، یہاں تک کہ ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جوظلم کے علاوہ کسی اور چیز کو پہنچانتے نہیں ہوں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ عدل کو لے آئے گا اور جس قدر عدل پھیلتا جائے گا، اسی مقدار میں ظلم اٹھتا جائے گا، یہاں تک ایسے لوگ لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو عدل کے علاوہ کسی اور چیز کو جانتے نہیں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12860]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، خالد بن طھمان ضعفه ابن معين، وقال: خلط قبل موته بعشر سنين، وكان قبل ذالك ثقة، وأما نافع بن ابي نافع الراوي عن معقل، فان كان ھو نفيع بن الحارث ابا داود الاعمي، فھو متروك الحديث، وان كان غيره فھو لايعرف، أخرجه الترمذي: 2922، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20574»
وضاحت: فوائد: … لیکن عملی طور پر خلفائے راشدین کے بعد امت مسلمہ میں ظلم پھیلتا رہا اور عدل کم ہوتا رہا، اور آج تلک یہی سلسلہ جاری ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12861
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُهُ فَقَالَ ”غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ“ ذَكَرَ كَلِمَةً
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر کر رہے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوگئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ ایک اور چیز کا زیادہ ڈر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بات ذکر کی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12861]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 142، وابويعلي: 466، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 765»
وضاحت: فوائد: … مسند ابی یعلی کی روایت میں اس چیز کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ ہے: ((اَئِمَّۃٌ مُضِلُّوْنَ)) … گمراہ کرنے والے حکمران

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12862
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مُدَّةُ أُمَّتِكَ مِنَ الرَّخَاءِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُهُ ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَيْنَ السَّائِلُ“ فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَالَ ”لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي مُدَّةُ أُمَّتِي مِنَ الرَّخَاءِ مِائَةُ سَنَةٍ“ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ إِمَارَةٍ أَوْ عَلَامَةٍ أَوْ آيَةٍ فَقَالَ ”نَعَمْ الْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَإِرْسَالُ الشَّيَاطِينِ الْمُجْلَبَةِ عَلَى النَّاسِ“
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کی خوشحالی کتنی مدت تک رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، اُدھر اس نے تین مرتبہ اس سوال کو دہرا دیا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، وہ آدمی چلا گیا، بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ: وہ سائل کہاں ہے؟ صحابہ نے اسے واپس بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت میں سے کسی نے بھی مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، بات یہ ہے کہ میری امت کی خوشحالی کی مدت ایک سو سال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو یا تین مرتبہ دہرائی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کوئی علامت بھی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، زمین میں لوگوں کا دھنسنا، زلزلے آنا اورشیطانوں کو چھوڑا جانا، جو لوگوں کے خلاف چہار طرف سے اکٹھے ہو کر آئیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12862]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو عطاء السكسكي روي عنه اثنان ولم يوثقه غير ابن حبان، ومعاذ بن سعد السكسكي مجھول، أخرجه الطبراني في الشاميين: 2555، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23151»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12863
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اللَّهُمَّ لَا يُدْرِكُنِي زَمَانٌ أَوْ لَا تُدْرِكُوا زَمَانًا لَا يُتْبَعُ فِيهِ الْعَلِيمُ وَلَا يُسْتَحْيَا فِيهِ مِنَ الْحَلِيمِ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الْأَعَاجِمِ وَأَلْسِنَتُهُمْ أَلْسِنَةُ الْعَرَبِ“
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! مجھے ایسا دور نہ پائے یا تم لوگ ایسا زمانہ نہ دیکھو کہ جس میں صاحب ِ علم کی پیروی نہیں کی جائے گی، بردبار اور متحمل مزاج شخص سے شرمایا نہیں جائے گا، اس وقت کے لوگوں کے دل عجمیوں کے دلوں جیسے ہوں گے اور ان کی زبانیں عربوں کی زبانوں جیسی ہوں گی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12863]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة جميل الاسلمي الحذائ، أخرجه الحاكم: 4/ 510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23267»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة جميل الاسلمي الحذائ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12864
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ يَقُولُ ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ يَا رَبَّ كَاسِيَاتٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَاتٍ فِي الْآخِرَةِ“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو بیدار ہوئے اور فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے، اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر فتنے نازل کر دئیے گئے، کوئی ہے جو جاکر ان حجروں والیوں کو جگائے، کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التي تسبقها/حدیث: 12864]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1126، 5844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27080»
وضاحت: فوائد: … خواب میں وحی یا فرشتے کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مستقبل میں نازل ہونے والی رحمتوں اور عذابوں کے بارے میں بتلایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں عبادت سے غافل نہ ہوں اور اس شرف پر اکتفا نہ کریںکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ہیں۔
کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اس جملے کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں:
۱۔ نسب، مال یا کسی اعزاز کی وجہ سے دنیا میں باعزت، باوقار اور بارعب ہونے کے اسباب موجود ہیں، لیکن آخرت میں یہ سب چیزیں بے وقعت ہو جائیں گی اور اعمال صالحہ کا ذخیرہ ہو گا نہیں۔
۲۔ غِنٰی کی وجہ سے دنیا میں تو ملبوسات مہیا کر لیے ہیں، لیکن اعمال صالحہ نہ ہونے کی وجہ سے آخرت میں ننگی ہوں گی۔
۳۔ لباس تو پہنا ہوا ہے، لیکن وہ اس قدر باریک ہے کہ پردہ نہیں ہو رہا، اس جرم کی آخرت میں سزا ہو گی۔
سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1126
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں