صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2296 ترقیم شاملہ: -- 5976
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ يَوْمًا، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا ".
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور اہل احد پر اسی طرح نماز جنازہ پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے، پھر آپ پلٹ کر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تم پر گواہی دینے والا ہوں گا اور میں، اللہ کی قسم! جیسے اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں گا۔ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا (فرمایا:) زمین کی چابیاں عطا کی گئیں اور اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میرے بعد تم شرک کرو گے۔ لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم ان (خزانوں کے معاملے) میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرو گے (کہ ان میں سے کون زیادہ فائدہ اٹھاتا اور زیادہ دولت مندی کا مظاہرہ کرتا ہے)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5976]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن (گھر) سے نکلے اور شہدائے احد کے لیے، میت کی طرح دعا کی، پھر منبر کی طرف پلٹے اور فرمایا: ”میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تمہارے بارے میں گواہی دوں گا اور میں اللہ کی قسم! اب اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں یا زمین کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور میں اللہ کی قسم! میں اپنے بعد تمہارے شرک کرنے کا خطرہ محسوس نہیں کرتا، لیکن مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5976]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2296 ترقیم شاملہ: -- 5977
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَي بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَرْضَهُ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى الْجُحْفَةِ، إِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا، وَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ "، قَالَ عُقْبَةُ: فَكَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ.
ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے شقیق بن سلمہ اسدی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ میں کچھ اقوام (لوگوں) کے بارے میں (فرشتوں سے) جھگڑوں گا، پھر ان کے حوالے سے (فرشتوں کو) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا: بلاشبہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں (بدعات) نکالی تھیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5977]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے لیے دعا فرمائی، پھر منبر پر چڑھے، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندوں اور مردوں کو رخصت فرما رہے ہیں اور فرمایا: ”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور اس کی چوڑائی اتنی ہے جتنا ایلہ اور جحفہ کا درمیانی فاصلہ ہے۔ میں تمہارے بارے میں یہ خوف و خطرہ محسوس نہیں کرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن میں تمہارے بارے میں یہ خدشہ محسوس کرتا ہوں کہ تم دنیا میں دلچسپی لو گے اور تباہ و برباد ہو جاؤ گے، جس طرح تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے“ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، یہ آخری بار تھی جس میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5977]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2297 ترقیم شاملہ: -- 5978
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَلَأُنَازِعَنَّ أَقْوَامًا، ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابِي، أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ".
ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے شقیق بن سلمہ اسدی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ میں کچھ اقوام (لوگوں) کے بارے میں (فرشتوں سے) جھگڑوں گا، پھر ان کے حوالے سے (فرشتوں کو) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا: بلاشبہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں (بدعات) نکالی تھیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5978]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں کچھ لوگوں کے بارے میں جھگڑا کروں گا، (تاکہ ان کو حوض پر آنے دیا جائے) پھر ان کے بارے میں مغلوب ہو جاؤں گا (ان کو اجازت نہ دلوا سکوں گا) تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں، میرے ساتھی ہیں، تو جواب دیا جائے گا: تمہیں نہیں معلوم تمہارے بعد انہوں نے کیا کیا نئی باتیں نکالیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5978]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2297
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2297 ترقیم شاملہ: -- 5979
وحَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: أَصْحَابِي، أَصْحَابِي.
جریر اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ”میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5979]
یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ نے سنائی اور اس میں ”میرے ساتھ ہیں، میرے ساتھی ہیں“ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5979]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2297
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2297 ترقیم شاملہ: -- 5980
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ.
جریر اور شعبہ نے مغیرہ سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی حدیث کے مانند روایت کی۔ شعبہ کی مغیرہ سے روایت (کی سند) میں یہ الفاظ ہیں: میں نے ابووائل سے سنا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5980]
امام صاحب تین اور اساتذہ کی دو سندوں سے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5980]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2297
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2297 ترقیم شاملہ: -- 5981
وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ كِلَاهُمَا، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، وَمُغِيرَةَ.
عبثر اور ابن فضیل دونوں نے حصین سے انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، جس طرح اعمش اور مغیرہ کی روایت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5981]
امام صاحب کو یہی روایت دو اور اساتذہ اپنی اپنی سند سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سناتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5981]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2297
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2298 ترقیم شاملہ: -- 5982
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَارِثَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ، وَالْمَدِينَةِ "، فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ : أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟ قَالَ: الْأَوَانِي، قَالَ: لَا، فَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ: تُرَى فِيهِ الْآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ.
ابن ابی عدی نے شعبہ سے، انہوں نے معبدبن خالد سے، انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا:”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض (اتنا چوڑا ہے) جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان (کا فاصلہ) ہے۔“حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ نے ان (حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ) سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا، کہ آپ نے فرمایا:”برتن“؟ انہوں نے کہا: نہیں تو مستورد رضی اللہ عنہ نے کہا:”اس میں برتن ستاروں کی طرح نظر آئیں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5982]
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”میرا حوض، صنعاء اور مدینہ کے فاصلے کے برابر ہے۔“ تو حضرت مستورد رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ”کیا آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتنوں کے بارے میں نہیں سنا؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں“، تو حضرت مستورد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس میں برتن ستاروں کی مانند دکھائی دیں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5982]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2298
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2298 ترقیم شاملہ: -- 5983
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَذَكَرَ الْحَوْضَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الْمُسْتَوْرِدِ، وَقَوْلَهُ.
حرمی بن عمارہ نے کہا: ہمیں شعبہ نے معبدبن خالد سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور انہوں نے (حرمی بن عمارہ) نے حوض کا ذکر کیا، اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ انہوں نے حضرت مستورد اور ان (حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ) کا قول ذکر نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5983]
امام صاحب کو یہ روایت ایک اور استاد نے سنائی، جس میں حوض کا تذکرہ ہے، لیکن حضرت مستورد رضی اللہ عنہ کا قول اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5983]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2298
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2299 ترقیم شاملہ: -- 5984
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ، وَأَذْرُحَ ".
ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے آگے (جس منزل کی طرف تم جا رہے ہو) حوض ہے اس کے دو کناروں کے درمیان جرباء اور اذرح (شام اور فلسطین کے دو مقام) کے درمیان جتنا فاصلہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5984]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے آگے حوض ہے، اس کے دونوں کناروں کا فاصلہ اتنا ہے جتنا جرباء اور اذرح کا فاصلہ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2299
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2299 ترقیم شاملہ: -- 5985
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ، وَأَذْرُحَ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى: حَوْضِي.
زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ اور عبیداللہ بن سعید نے کہا: ہمیں یحییٰ قطان نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”تمہارے آگے حوض ہے (اس کی وسعت اتنی ہے جتنا) جرباء اور اذرح کے درمیان کا فاصلہ ہے۔“اور ابن مثنیٰ کی روایت میں ”میرا حوض“ کے الفاظ ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5985]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے آگے حوض ہے، جیسا کہ جرباء اور اذرح کا فاصلہ ہے۔“ ابن المثنیٰ کی روایت میں «حَوْضٌ» کا تذکرہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 5985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2299
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة