سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
163. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} .
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 666 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 666
نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، وَيَحْيَى الْجَابِرِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ : مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ قَتَلَ رَجُلا مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا، ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا، ثُمَّ اهْتَدَى؟ قَالَ: وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ، سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُعَلِّقًا رَأْسَهُ وَأَوْدَاجَهُ تَشْخُبُ دَمًا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ سَلْ هَذَا لِمَ قَتَلَنِي؟ فَوَاللَّهِ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ مِنْ بَعْدِ مَا أُنْزِلَتْ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا سورة النساء آية 93" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا، پھر توبہ کی، ایمان لایا، نیک عمل کیے اور ہدایت پا گیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اسے ہدایت کہاں سے ملے گی؟ اس کی ماں اسے روئے، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن مقتول اس حال میں آئے گا کہ اس کا سر معلق ہوگا اور رگیں خون ٹپکا رہی ہوں گی، اور وہ کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ اللہ کی قسم! اس آیت کو منسوخ کرنے والی کوئی چیز نازل نہیں ہوئی: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾ ۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 666]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3855، 4590، 4762، 4763، 4764، 4765، 4766، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 3023، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3542، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4010، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4273، 4275، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3029، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2621، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 666، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1966، 2175، والحميدي فى (مسنده) برقم: 494، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 680، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 28303، 28304، 28326»
الحكم على الحديث: سنده صحيح؛ لأن يحيى الجابر قد تابعه عمار الدُّهني وهو ثقة.
ترقیم دار السلفیہ: 667 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 667
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يَقُولُ لِخَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ: سَمِعْتُ أَبَاكَ هَاهُنَا يَقُولُ: " نَزَلَتِ الشَّدِيدَةُ هَذِهِ الآيَةُ، وَالْهَيِّنَةُ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ: وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ إِلَى قَوْلِهِ إِلا مَنْ تَابَ سورة الفرقان آية 68 - 70" .
ابو الزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک شیخ کو خارجہ بن زید رحمہ اللہ سے کہتے سنا: میں نے تمہارے والد زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اسی جگہ یہ کہتے سنا کہ یہ سخت آیت نازل ہوئی: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا﴾ اور وہ نرم آیت جو سورہ الفرقان میں ہے: ﴿وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ إِلَّا مَنْ تَابَ﴾ ۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 667]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده حسن لذاته، وشيخ أبي الزناد وإن لم يبيَّن في هذه الرواية، فإنه قد بيِّن في الروايات الأخرى.
ترقیم دار السلفیہ: 668 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 668
نا نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ كُرْدُمٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، وَابْنَ عُمَرَ , سُئِلُوا عَنِ الرَّجُلِ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا، فَقَالُوا:" هَلْ يَسْتَطِيعُ أَنْ لا يَمُوتَ؟ هَلْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ أَوْ يُحْيِيَهُ"؟ .
کردم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا، تو انہوں نے جواب دیا: کیا وہ مرنے سے بچ سکتا ہے؟ کیا وہ زمین میں کوئی سرنگ نکال سکتا ہے یا آسمان کی طرف کوئی سیڑھی بنا سکتا ہے یا مقتول کو زندہ کر سکتا ہے؟ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 668]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 668، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 28303، 28315»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لجهالة كردم.
ترقیم دار السلفیہ: 669 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 669
نا نا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الأَبَحُّ , قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ مِينَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا بِجَنْبِهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا تَقُولُ فِي قَاتِلِ الْمُؤْمِنِ، هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ:" لا، وَالَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ" .
سعید بن مینا رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا: اے ابو ہریرہ! آپ مومن کے قاتل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 669]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف حماد بن يحيى من قبل حفظه.
ترقیم دار السلفیہ: 670 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 670
نا نا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الأَبَحُّ , قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ مِينَا , قَالَ: كَانَ بَيْنَ صَاحِبٍ لِي وَرَجُلٍ من أهل السوق بمكة لحاء، فأخذ صاحبي كرسيا، فضرب به رأس الرجل، فقتله، وندم، وَقَالَ: إِنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ مَالِي، ثُمَّ أَنْطَلِقُ فَأَجْعَلُ نَفْسِي حَبِيسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: قُلْتُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ نَسَلْهُ هَلْ لَكَ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ عَلَى مَا كَانَتْ قَالَ: قُلْتُ: هَلْ تَرَى لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ:" كُلْ وَاشْرَبْ، أُفٍّ، قُمْ عَنِّي"، إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ قَتْلَهُ , قَالَ:" كَذَبَ، يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى الْخَشَبَةِ، فَيَضْرِبُ بِهَا رَأْسَ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ، كَذَبَ، كُلْ وَاشْرَبْ مَا اسْتَطَعْتَ، أُفٍّ، قُمْ عَنِّي"، فَلَمْ يَزِدْنَا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قُمْنَا .
سعید بن مینا رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے ایک ساتھی اور مکہ کے بازار کے ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہوا، تو میرے ساتھی نے ایک کرسی اٹھا کر اس شخص کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، پھر وہ نادم ہوا اور کہنے لگا: میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں گا اور اللہ کے راستے میں خود کو قید کر دوں گا، میں نے کہا: آؤ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارے لیے توبہ ہے؟ چنانچہ ہم مکہ میں ان کے پاس پہنچے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اور پھر پوری تفصیل بیان کی، اور پوچھا: کیا آپ اس کے لیے توبہ کی کوئی صورت دیکھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کھاؤ پیو، اُف، میرے سامنے سے اٹھ جاؤ! وہ کہتا ہے کہ اس نے قتل کا ارادہ نہیں کیا؟ جھوٹ بولتا ہے! تم میں سے کوئی لکڑی سے کسی مسلمان کے سر پر مارتا ہے، پھر کہتا ہے: میرا قتل کا ارادہ نہیں تھا؟ جھوٹ بولتا ہے! کھاؤ پیو جتنا کھا سکتے ہو، اُف، میرے سامنے سے اٹھ جاؤ! اس کے بعد انہوں نے ہمیں کچھ نہ کہا، حتیٰ کہ ہم وہاں سے اٹھ گئے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 670]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف كسابقه.
ترقیم دار السلفیہ: 671 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 671
نا نا هُشَيْمٌ , قَالَ: نا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ , قَالَ: حُدِّثْتُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " قَتْلُ الْمُؤْمِنِ مَعْقُلَةٌ" .
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: مومن کا قتل کرنا دیت واجب کرنے والا عمل ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 671]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لإبهام شيخ العوّام.
ترقیم دار السلفیہ: 672 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 672
نا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادٍ الْمِنْقَرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ , قَالَ: " وَاللَّهِ لَوْ تَمَالأَ أَهْلُ الأَرْضِ وَأَهْلُ السَّمَاءِ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ لأَدْخَلَهُمُ اللَّهُ النَّارَ جَمِيعًا" .
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: قسم بخدا! اگر زمین و آسمان والے سب کے سب کسی مومن کے قتل پر متفق ہو جائیں، تو اللہ عزوجل ان سب کو جہنم میں داخل کر دے گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 672]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف حماد وعباد قبل حفظهما، لكنه حسن لغيره مرفوعًا بمجموع طرقه.
ترقیم دار السلفیہ: 673 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 673
نا نا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: " لَزَوَالُ الدُّنْيَا بِأَسْرِهَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ دَمِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَسْفِكْ بِغَيْرِ حَقٍّ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ عزوجل کے نزدیک پوری دنیا کا ختم ہو جانا ایک مسلمان کے ناحق خون بہانے سے کہیں زیادہ ہلکا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 673]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3997، برقم: 3998، برقم: 3999، برقم: 4000، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3434، 3435، 3436، 3437، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1395، 1395 م، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 673، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15972، 15973، والبزار فى (مسنده) برقم: 2393، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 28328، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14256، 14369، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4349، والطبراني فى (الصغير) برقم: 594»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لجهالة حال عطاء والد يعلى، وأما هشيم بن بشير فإنه وإن لم يصرح بالسماع، إلا أنه قد توبع كما سيأتي، وللحديث شواهد يرتقي بها لدرجة الحسن لغيره مرفوعًا كما سيأتي.
ترقیم دار السلفیہ: 674 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 674
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 , قَالَ: " جَزَاؤهُ جَهَنَّمُ، فَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ" .
ابو مجلز رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ یعنی اس کا بدلہ جہنم ہے، پس اگر اللہ چاہے تو اسے معاف فرما دے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 674]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى (سننه) برقم: 4276، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 674، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15929، 15930، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 28322»
الحكم على الحديث: سنده صحيح.
ترقیم دار السلفیہ: 675 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 675
نا نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ كُرْدُمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَلأْتُ حَوْضِي أَنْتَظِرُ ظَمِيَّتِي تَرِدُ عَلَيَّ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلا بِرَجُلٍ قَدْ أَشْرَعَ نَاقَتَهُ، وَثَلَمَ الْحَوْضَ، وَسَالَ الْمَاءُ، فَقُمْتُ فَزِعًا، فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلْتُهُ؟ فَقَالَ:" لَيْسَ هَذَا مِثْلَ الَّذِي قَالَ، فَأَمَرَهُ بِالتَّوْبَةِ" , قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِذَا سُئِلُوا قَالُوا: لا تَوْبَةَ لَهُ، فَإِذَا ابْتُلِيَ رَجُلٌ، قَالُوا لَهُ: تُبْ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: میں نے اپنا حوض پانی سے بھر کر اپنی اونٹنی کے پیاسے ہونے کا انتظار کیا، مگر اچانک ایک شخص اونٹنی سمیت آیا، حوض میں داخل ہو گیا، پانی بہہ گیا، میں گھبرا کر اٹھا اور تلوار سے وار کر کے اسے قتل کر دیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ اس قاتل عمد کے مانند نہیں جس کا ذکر شدید وعید والی آیت میں آیا ہے، پھر اس شخص کو توبہ کا حکم دیا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: اہل علم جب فتویٰ دیتے تو کہتے: اس کے لیے توبہ نہیں، لیکن جب کسی پر واقعہ پیش آتا تو اس سے کہتے: توبہ کر۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 675]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 675، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15932، 15933»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لجهالة كُرْدُم، وهذا الإسناد هو نفس إسناد الحديث رقم [٦٦٧].