سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
206. قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ} .
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 805 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 805
نا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَخْبَرَنِي حَجَّاجٌ , قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ الصِّيَامِ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ , قَالَ: " إِنْ شَاءَ فَرَّقَ"، قُلْتُ:" فَإِنَّهَا فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ: مُتَتَابِعَةً" , قَالَ:" إِذًا نَنْقَادُ لِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حجاج رحمہ اللہ نے کہا: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کفارۂ قسم کے روزوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: اگر چاہے تو الگ الگ کر لے۔ میں نے کہا: لیکن عبد اللہ یعنی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں یہ «مُتَتَابِعَةٌ» یعنی پے در پے ہے۔ تو انہوں نے کہا: پھر تو ہم اللہ عزوجل کی کتاب کے سامنے جھکیں گے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1079، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 803، 805، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20039، 20066، 20067، 20068، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 16102»
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لضعف حجاج من قبل حفظه، وما ذكره حجاج عن ابن مسعود منقطع إن لم يكن معضلاً؛ فإنه لم يَرْو عن أحد من الصحابة، وسيأتي بإسناد صحيح عن عطاء بلفظ آخر.
ترقیم دار السلفیہ: 806 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 806
نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ طَاوُسٍ , قَالَ: " إِنْ شَاءَ فَرَّقَ"، فَقَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ: فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ: مُتَتَابِعَةً قَالَ:" فَهِيَ مُتَتَابِعَةٌ" .
طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر چاہے تو روزے الگ الگ رکھ سکتا ہے، مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں «مُتَتَابِعَةٌ» ہے، تو انہوں نے کہا: پھر وہ پے در پے ہی ہوں گے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 806، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20067، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 16102، 16103، 16104، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12504»
الحكم على الحديث:
سنده صحيح عن مجاهد وطاوس، وهو ضعيف من هذا الطريق عن ابن مسعود؛ للانقطاع بينه وبين مجاهد
ترقیم دار السلفیہ: 807 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 807
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَتَحْمِلَنِّي، فَنَظَرَ عُمَرُ , إِلَى أَدْنَاهُمْ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ إِنْ كَانَ بِكَ مَا إِنْ تُنَبِّئَنِي حَاجَتَكَ دُونَ أَنْ تُقْسِمَ عَلَيَّ، وَأَنَا أَحْلِفُ بِاللَّهِ لا أَحْمِلُكَ" , فَأَظُنُّهُ قَدْ رَدَّدَهَا ثَلاثِينَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ثَلاثِينَ مَرَّةً، فَقَالَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ عَتِيكُ بْنُ بِلالٍ الأَنْصَارِيُّ: أَيَّ شَيْءٍ تُرِيدُ؟ أَلا تَرَى أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ حَلَفَ أَيْمَانًا لا أُحْصِيهَا أَنْ لا يَحْمِلَكَ، وَاللَّهِ إِنْ تُرِيدُ إِلا الشَّرَّ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَالُ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَمِنْ عِيَالِ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنَّكَ لأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَقَدْ أَدَّتْ بِي رَاحِلَتِي، وَاللَّهِ إِنِّي لابْنُ السَّبِيلِ أُقْطِعَ بِي، وَاللَّهِ لَتَحْمِلَنِّي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" كَيْفَ قُلْتَ؟"، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ:" وَاللَّهِ إِنَّ الْمَالَ لَمَالُ اللَّهِ، وَإِنَّكَ لَمِنْ عِيَالِ اللَّهِ، وَإِنِّي لأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ كَانَتْ رَاحِلَتُكَ أَدَّتْ بِكَ لا أَتْرُكُكَ لِلتَّهْلُكَةِ، وَاللَّهِ لأَحْمِلَنَّكَ"، فَأَعَادَهَا حَتَّى حَلَفَ ثَلاثِينَ يَمِينًا، أَوْ يَمِينَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" لا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ أَبَدًا، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلا اتَّبَعْتُ خَيْرَ الْيَمِينَيْنِ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس مغرب کے ایک شخص نے آ کر کہا: اللہ کی قسم اے امیر المؤمنین! آپ مجھے سواری ضرور دیں گے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تو مجھے قسم دیے بغیر اپنی ضرورت بتا دیتا تو بہتر ہوتا، اور اب میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تجھے سواری نہیں دوں گا۔ راوی کہتا ہے: میں گمان کرتا ہوں کہ آپ نے اسے تیس مرتبہ یا قریباً تیس مرتبہ اس طرح جواب دیا۔
پھر ایک انصاری شخص جس کا نام عتیک بن بلال تھا، اس نے اس سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ امیر المؤمنین کتنی قسمیں کھا چکے ہیں کہ تمہیں سواری نہیں دیں گے؟ اللہ کی قسم! تم صرف فساد چاہتے ہو۔
اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ مال اللہ کا ہے، اللہ کی قسم! میں بھی اللہ کے بندوں میں سے ہوں، اللہ کی قسم! آپ امیر المؤمنین ہیں، میری سواری مجھے منزل تک چھوڑ گئی ہے، اللہ کی قسم! میں مسافر ہوں، راستے میں کٹ گیا ہوں، اللہ کی قسم! آپ مجھے سواری ضرور دیں گے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ اس نے وہی بات دہرائی، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ مال اللہ ہی کا ہے، اور تم اللہ ہی کے بندے ہو، اور میں امیر المؤمنین ہوں، اور اگر تمہاری سواری تمہیں منزل تک چھوڑ گئی ہے تو میں تمہیں ہلاکت میں نہیں چھوڑ سکتا، اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری دوں گا۔
پھر وہ شخص بھی اپنی بات دہراتا رہا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی قسم اٹھائی یا دو بار قسم کھائی، پھر فرمایا: آئندہ میں کسی ایسی قسم پر قائم نہیں رہوں گا، جس کے خلاف کوئی بہتر صورت موجود ہو، بلکہ بہتر صورت کو اختیار کروں گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 807]
پھر ایک انصاری شخص جس کا نام عتیک بن بلال تھا، اس نے اس سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ امیر المؤمنین کتنی قسمیں کھا چکے ہیں کہ تمہیں سواری نہیں دیں گے؟ اللہ کی قسم! تم صرف فساد چاہتے ہو۔
اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ مال اللہ کا ہے، اللہ کی قسم! میں بھی اللہ کے بندوں میں سے ہوں، اللہ کی قسم! آپ امیر المؤمنین ہیں، میری سواری مجھے منزل تک چھوڑ گئی ہے، اللہ کی قسم! میں مسافر ہوں، راستے میں کٹ گیا ہوں، اللہ کی قسم! آپ مجھے سواری ضرور دیں گے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ اس نے وہی بات دہرائی، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ مال اللہ ہی کا ہے، اور تم اللہ ہی کے بندے ہو، اور میں امیر المؤمنین ہوں، اور اگر تمہاری سواری تمہیں منزل تک چھوڑ گئی ہے تو میں تمہیں ہلاکت میں نہیں چھوڑ سکتا، اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری دوں گا۔
پھر وہ شخص بھی اپنی بات دہراتا رہا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی قسم اٹھائی یا دو بار قسم کھائی، پھر فرمایا: آئندہ میں کسی ایسی قسم پر قائم نہیں رہوں گا، جس کے خلاف کوئی بہتر صورت موجود ہو، بلکہ بہتر صورت کو اختیار کروں گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف للانقطاع بين أبي ليلى وعمر