🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

317. الْآيَةُ (40) قَوْلُهُ تَعَالَى: {حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ} الْآيَةَ
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1087 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1087
نَا نَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَفَارَ التَّنُّورُ سورة هود آية 40 , قَالَ:" يَفُورُ الْمَاءُ: يَخْرُجُ عَلَى وَجْهِهِ , فَقِيلَ لِنُوحٍ: إِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ قَدْ عَلا عَلَى الأَرْضِ فَانْزِلْ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَفَارَ التَّنُّورُ﴾ یعنی اور جب تنور سے پانی اُبل پڑے کے بارے میں فرمایا: پانی اُبلے گا اور اس کا پانی زمین کی سطح پر ظاہر ہو جائے گا، پھر سیدنا نوح علیہ السلام سے کہا گیا: جب تم دیکھو کہ پانی زمین پر بلند ہو گیا ہے تو تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں سوار ہو جاؤ۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف للانقطاع بين الضحاك وابن عباس.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1088 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1088
نَا نَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ هُشَيْمٌ: أَظُنُّهُ النُّعْمَانَ بْنَ سَعْدِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: وَفَارَ التَّنُّورُ سورة هود آية 40، قَالَ:" طُلُوعُ الشَّمْسِ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَفَارَ التَّنُّورُ﴾ یعنی اور جب تنور سے پانی اُبل پڑے کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد سورج کا طلوع ہونا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں