صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ:
باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2400 ترقیم شاملہ: -- 6207
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ، قَمِيصَهُ أَنْ يُكَفِّنَ فِيهِ أَبَاهُ، فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ، فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ، أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً، وَسَأَزِيدُ عَلَى سَبْعِينَ، قَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 ".
ابواسامہ نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی بن سلول مر گیا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیں جس میں وہ اپنے باپ کو کفن دے، آپ نے اسے عنایت کر دی، پھر اس نے یہ درخواست کی کہ آپ اس کا نماز جنازہ پڑھائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑا اور عرض کی: اللہ کے رسول! کیا آپ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے: «اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً» آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں، آپ ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کریں گے (تو بھی اللہ ان کو معاف نہیں کرے گا۔) تو میں ستر سے زیادہ بار بخشش مانگ لوں گا۔“ انہوں (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: وہ منافق ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ» ”ان میں سے کسی کی بھی، جب وہ مر جائے کبھی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ ان کی قبر پر کھڑے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6207]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول مر گیا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیں جس میں وہ اپنے باپ کو کفن دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عنایت کر دی، پھر اس نے یہ درخواست کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] ”آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں۔ آپ ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کریں گے (تو بھی اللہ ان کو معاف نہیں کرے گا۔)“ تو میں ستر سے زیادہ بار بخشش مانگ لوں گا۔“ انہوں نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: وہ منافق ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] ”ان میں سے کسی کی بھی، جب وہ مر جائے کبھی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ ان کی قبر پر کھڑے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6207]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2400
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2400 ترقیم شاملہ: -- 6208
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَزَادَ، قَالَ: فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ.
یحییٰ بن قطان نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ ابواسامہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور مزید بیان کیا: کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6208]
یہی روایت امام صاحب دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا چھوڑ دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6208]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2400
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة