🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب من فضائل عمر رضي الله تعالى عنه:
باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2400 ترقیم شاملہ: -- 6207
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ، قَمِيصَهُ أَنْ يُكَفِّنَ فِيهِ أَبَاهُ، فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ، فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ، أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً، وَسَأَزِيدُ عَلَى سَبْعِينَ، قَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 ".
ابواسامہ نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی بن سلول مر گیا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیں جس میں وہ اپنے باپ کو کفن دے، آپ نے اسے عنایت کر دی، پھر اس نے یہ درخواست کی کہ آپ اس کا نماز جنازہ پڑھائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑا اور عرض کی: اللہ کے رسول! کیا آپ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے: «اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً» آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں، آپ ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کریں گے (تو بھی اللہ ان کو معاف نہیں کرے گا۔) تو میں ستر سے زیادہ بار بخشش مانگ لوں گا۔ انہوں (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: وہ منافق ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ» ان میں سے کسی کی بھی، جب وہ مر جائے کبھی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ ان کی قبر پر کھڑے ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6207]
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں جب عبداللہ بن ابی ابن سلول مر گیا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنی قمیص عنایت فر ئیں جس میں وہ اپنے باپ کو کفن دے،آپ نے اسے عنایت کر دی،پھر اس نے یہ درخواست کی کہ آپ اس کا نماز جنازہ پڑھا ئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہو ئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہو ئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑااور عرض کی:اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھیں گے جبکہ اللہ تعا لیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فر یا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فر یا ہے:" آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں۔آپ ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کریں گے(تو بھی اللہ ان کو معاف نہیں کرے گا۔)تو میں ستر سے زیادہ بار بخشش مانگ لوں گا۔انھوں (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے کہا: وہ منا فق ہے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔اس پر اللہ تعا لیٰ نے یہ آیت نازل فر مائی:"ان میں سے کسی کی بھی،جب وہ مرجائے کبھی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ ان کی قبر پر کھڑےہوں۔"(توبہ،آیت نمبر۔84) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6207]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2400
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5796
نهاك الله أن تصلي على المنافقين فقال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم
صحيح البخاري
1269
أنا بين خيرتين قال الله تعالي استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم فصلى عليه فنزلت ولا تصل على أحد منهم مات أبدا
صحيح مسلم
7027
خيرني الله فقال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة وسأزيده على سبعين قال إنه منافق فصلى عليه رسول الله أنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره
صحيح مسلم
6207
خيرني الله فقال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة وسأزيد على سبعين قال إنه منافق فصلى عليه رسول الله أنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره
سنن النسائى الصغرى
1901
أنا بين خيرتين قال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم فصلى عليه أنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره
سنن ابن ماجه
1523
أنا بين خيرتين استغفر لهم أو لا تستغفر لهم فأنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره
بلوغ المرام
438
اعطني قميصك اكفنه فيه،‏‏‏‏ فاعطاه صلى الله عليه وآله وسلم قميصه